PDA

View Full Version : اصلاح معاشرہ کی صحیح صورت



گلاب خان
12-17-2010, 12:54 PM
ہمارے برادران وطن کے یہاں تیوہاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔مختلف علاقوں میں مختلف قسم کے تیوہار منائے جاتے ہیں اور ان کی اہمیت ہوتی ہے۔بہار میں سب سے زیادہ تقدس اور عظمت چھٹھ کے تیوہار کو ہے۔اس تیوہار کو غور سے دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ خاندان کی صرف ایک عورت جو عام طور پر بوڑھی ہوتی ہے وہ پوجا اور پرستش کے رسوم انجام دیتی ہے۔گھر کے دیگر افراد خاص کر مرد اس سے بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں۔پوجا تو صرف ایک خاتون کرتی ہے لیکن پوری قوم اس تیوہار کے اہتمام میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔گویا اس تیوہار کی پوجا سے زیادہ اس کے اہتمام کو اہمیت دی جاتی ہے۔حالانکہ مذہبی اعتبار سے اصل اہمیت پرستش اور پوجا کی ہوتی ہے نہ کہ اس کے اہتمام کی۔
قومیں اور ملتیں جب زوال پذیر ہو جاتی ہیں تو ان کے یہاں ایسی ہی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔اصل عبادت فراموش کر دی جاتی ہے اور عبادت کا اہتمام اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔مسلم معاشرے کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ابھی رمضان کا مہینہ گزرا ہے۔آپ نے دیکھا کہ مسلمانوں کے اندر روزے کی اصل برکت یعنی تقویٰ،رب کی بڑائی اور اس کی شکر گزار ی کے جذبات تو نہیں پیدا ہوئے لیکن رمضان اور روزوں کا اہتمام بہت کیا گیا۔عید کی نماز سے زیادہ عید کی تیاری پر دھیان دیا گیا۔
قوموں اور ملتوں کی زندگی میں یہ حادثہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے عقائد، اساسی تصورات،عبادات کی روح اور اس کے مقاصد سے غافل اور بیگانہ ہو جاتی ہے۔اور غفلت و بیگانگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مذہب اور دین کی تعلیمات کو عام نہیں کیا جاتا ہے۔جہاں تک عیسائی اور ہندو مذہب کا تعلق ہے تو یہاں مذہب کی تعلیم اور مذہبی رسوم کی انجام دہی کی ذمہ داری ایک مخصوص طبقہ پر ہوتی ہے۔عیسائی پادری اور ہندو پنڈت ہی تمام مذہبی رسوم انجام دے سکتے ہیں۔ دوسروں کو اس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ہندو مذہب کی مذہبی کتابیں پڑھنے کی اجازت عام لوگوں کو نہیں ہے۔ان دونوں مذاہب کے لوگوں کو صرف اپنے پادری اور پنڈت کی باتوں کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ ان کو یہ بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ ان سے پوچھیں کہ آپ ہمیں یہ باتیں کیوں بتا رہے ہیں اور ہم یہ باتیں کیوں مانیں۔پادری اور پنڈت کو سماج میں سند کا درجہ حاصل ہے۔
دین اسلام کا مزا ج ان دونوں مذاہب سے یکسر مختلف ہے، لیکن مثل مشہور ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔ چنانچہ عیسائی اور ہندو مذہب والوں کے ساتھ رہتے رہتے مسلمانوں کی ذہنیت بھی ویسی ہی بن گئی کہ دین کی تعلیم حاصل کرنا ،اس پر عمل کرنا اور اس کی تشریح و تعبیر کرنا تو عالم دین کی ذمہ داری ہے۔عام مسلمانوں کو اس سے کیا لینا دینا۔مولوی صاحب نے جو کچھ بتا دیا وہی صحیح اور حق ہے۔ مولوی صاحب کے سامنے چوں چرا کرنے کی جرأت کون کرے۔جس طرح ہندو سماج میں پنڈت نے اپنی پسند کا مذہب رائج کر دیا اسی طرح مسلم معاشرے میں بھی جاہل مولویوں اور شاہ صاحبوں نے قرآن و حدیث کے بر خلاف اپنا من مانا مذہب نافذ کر دیا اور بدعت و خرافات کو عوام سے مالی منفعت کمانے کا ذریعہ بنا لیا۔عوام کی ذہنیت یہ بن گئی کہ گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے مولوی صاحب یا شاہ صاحب جو خرچ بتا رہے ہیں اس کے بغیر گناہوں سے چھٹکارا کیسے ملے گا اس لئے چپ چاپ ان کی بات مان لو۔
مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ اور با شعور طبقہ نے جب قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا تو اس نے محسوس کیا کہ اسلام کے منشاء اور مزاج کے خلاف یہ مولوی اور شاہ صاحبان ایک الگ ہی شریعت کی پیروی عوام سے کرا رہے ہیں۔انہوں نے جب مولوی اور شاہ صاحبان سے پوچھا اور حقیقت جاننی چاہی تو ان دونوں نے کمال غرور کے ساتھ فتویٰ صادر فرمایا کہ آپ دنیا دار لوگ کیا جانیں یہ شریعت اور طریقت اسرارو رموز ہیں۔اسے صرف ہم اہل شریعت اور اہل طریقت سمجھ سکتے ہیں۔تعلیم یافتہ طبقہ نے محسوس کیا کہ یہ دنیا کی نرالی مخلوق ہے۔ نہ بات سمجھتی ہے اور نہ سمجھا سکتی ہے۔
جب کسی بندۂ خدا نے عوام کو اسلام کی سچی اور اصلی تعلیمات سے روشناس کرانا چاہا تو ان مولوی اور شاہ صاحبان نے متفقہ اور متحدہ طور پر اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا کہ یہ شخص یا یہ گروہ دین کے پردے میں دنیاداری کر رہا ہے اور مذہب کے نام پر سیاست کا کھیل کھیل رہا ہے،عوام اس سے ہوشیار رہیں۔اس طرح اپنے ماننے والوں اور سچے داعیان اسلام کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور جاہل عوام نے اپنے پیر و مرشد کی بات پر اعتماد کر کے ان لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
مسلم عوام کا یہ خیال کہ دینی مسائل پر بولنے کا حق صرف عالم دین کو ہے علم شریعت سے ناواقفیت اور لاعلمی کے سبب ہے۔اسلام میں عیسائیوں کی طرح Clergy System کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہاں ہر مسلمان مبلغ اور داعی دین ہے۔ہر شخص کو دین کے معاملے اپنی معلومات کو بتانے اور سمجھانے کا یکساں حق حاصل ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ معلومات قرآن و سنت کی بنیاد پر ہوں یا مستند فقہا اور علما کی معتبر رائیں ہوں۔اس مضمون کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے بلغوا عنی ولو آیة (اگر میری ایک بات بھی تم کو معلوم ہے تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ)۔یہ ایک عام حکم ہے۔اس میں کسی خاص فرقے یا گروہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔اس کا مخاطب ہر مسلمان ہے۔کیا رسول مقبول کے اس حکم کے مقابلے میں کسی دوسرے انسان کی بات قابل اعتبار ہوسکتی ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ حج فرمایا جسے آخری حج کہتے ہیں تو خطبہ دیتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ہو سکتا ہے کہ سننے والا کہنے والے سے زیادہ بہتر طریقے سے ان احکام پر عمل کرے۔وہاں لاکھوں کا مجمع تھا اور یہ بات سبھوں سے کہی جا رہی تھی۔ایک صاحب رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور بولے اے اللہ کے رسول مجھے ایسی بات بتا دیجئے کہ اس کے بعد کسی سے پھر نہ پوچھنا پڑے۔ آپ نے فرمایا ’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور اس پر جم جاؤ‘‘۔جن صاحب نے یہ بات سنی انہوں نے یہ بات اوروں کو بھی ضرور بتائی ہو گی۔سورہ توبہ کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ ضروری نہیں تھا مسلمان سارے کے سارے ہی نکل پڑتے۔ کیوں نہیں ایسا ہو کہ ہر بستی کے کچھ لوگ نکلے تاکہ وہ دین کی سمجھ پیدا کریں اور واپس جا کر اپنی قوم کو لوگوں تک اس کو پہنچائیں تا کہ قوم کافرانہ روش سے پرہیز کرے‘‘۔قرآن کریم کا یہ حکم عام ہے۔ اس میں کسی عالم اور فاضل کی تحدید نہیں کی گئی ہے۔
قرآن اور احادیث کے ان حوالوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کا ہر فرد مبلغ ہے اور دین کی دعوت دینا اس کی ذمہ داری ہے۔دوسرے مذاہب کی طرح اسلام اپنے ماننے والوں سے صرف اتنا مطالبہ نہیں کرتا ہے کہ وہ دین کے احکام پر صرف عمل کر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ دین کے ماننے والے ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں اور ان کو بھی ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔اگر مسلم معاشرے کا تعلیم یافتہ طبقہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے دینی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کرے تو یقین ہے کہ عوا کے اندر سے جہالت دور ہو گی اور مسلم عوام دین اسلام کی پیرو بن جائے گی۔مگر اس طبقہ کو جو چیز ایسا کرنے سے روکتی ہے وہ یہی ہے کہ ’’ہم تو عالم دین ہیں ہی نہیں ہم کو یہ حق کہاں حاصل ہے اور ہماری یہ ذمہ دار ہے بھی نہیں‘‘۔کیا مذکورہ بالا معروضات کے بعد بھی جدید تعلیم یافتہ طبقہ یہ عذر پیش کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ملک کے طول و عرض میں دینی مدارس اور درسگاہوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ہزار عالم اور فاضل ان مدرسوں اور درس گاہوں سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں۔جس ملت کے اندر علما کا اتنا بڑا گروہ تیار ہو رہا ہو وہ ملت دین کی تعلیمات سے غافل کیسے رہ سکتی ہے ؟ لیکن حقیقی صورت حال یہ ہے کہ شہر میں یا گاؤں میں جمع کا خطبہ دینے کے لئے،نماز کی امامت کے لئے،دینی مسائل پر احکام جاننے کے لئے کسی معتبر عالم کی تلاش کیجئے تو ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔معدودے چند ہی افراد ملیں گے جو پہلے سے موجود معاشرے میں موجود ہیں۔یہ مدرسے کے فارغین علمائے کرام کس جنگل میں کھو جاتے ہیں۔کیا زمین ان کو نگل جاتی ہے یا آسمان ان کو کھا جاتا ہے ؟ ان کی تعلیم پر ملت کا عربوں کھربوں کا قیمتی سرمایہ زکوٰة اور صدقہ کی شکل میں خرچ ہوتا ہے۔