PDA

View Full Version : دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں



العلم
03-16-2014, 10:11 AM
الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!
معزز برادرانِ اسلام!
انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ اس کی زندگی کی آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں کا محتاج ہوتاہے۔ اس کی محتاجی اور ضرورت مندی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن سب سے زیادہ ضرورت مندوہ اپنے خالق حقیقی کا ہوتا ہے۔ زندگی میں اسے بےشمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں کوئی دوسرا انسان اس کی ذرا بھی مدد نہیں کرسکتا۔ دنیا کے سارے وسائل وذرائع جواب دے جاتے ہیں۔ اپنے بھی بےگانے ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ اور ہر حال میں نصرت وامداد کا، متاع زیست لٹانے کا اور ضرورت پڑنے پر جان تک نچھا ور کردینے کا دم بھرتے رہتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انسانی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جببقول شاعر ؎
وقت انسان پہ ایسا بھی کبھی آتاہے
راہ میں چھوڑ کے سایہ بھی چلاجاتا ہے
ایسے میں اس کی امیدوں کا چراغ، تمناؤں کی کرن، آرزؤوں کا محل، آشاؤوں کی جو تی صرف ایک رہ جاتی ہے اور وہ ہوتی ہے ربِّ کائنات کی ذات ِ کریم۔ ہاں وہی ذات باقی رہ جاتی ہے جو انسان کو کبھی تنہا اور بےسہارا نہیں چھوڑتی۔پوری دنیا سے مایوس ہوکر جب کوئی بےچارہ، بےبس، لاچار، مجبور ومقہور، ستم رسیدہ اور کمزور ولاغربندہ اسے پکارتا ہے تو وہ ذات فوراً اس کی چارہ جوئی کرتی ہے، اس کے دکھوں کا مداواکرتی ہے۔ اس کے غموں کو ہلکا کرتی ہے، وہ جو کچھ مانگتا ہے دیتی ہے اور جو آرزو کرتا ہے پوری کرتی ہے۔ بےشک وہ ذات ہے ربِّ کائنات کی، وہ ذات ہے وحدہٗ لاشریک کی، جو ہر حال میں، ہر وقت اپنے بندوں کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے اور ستم رسیدہ افراد کی فریاد سنتی ہے اور اسے پورا بھی کرتی ہے۔ وہ ذات ہے ہی ایسی جس کے درِ اقدس سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ بس اسے پکار کردیکھ تولو!
سامعین کرام! دنیا کی تمام مخلوقات خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان، زبان رکھتی ہوں یا بےزبان ہوں، اپنے تمام معاملات میں اپنے رب کی محتاج ہوتی ہیں۔ فوائد کے حصول میں، مصائب وآلام سے نجات پانے میں، اپنے دین وایمان کی اصلاح اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے، الغرض ہر ایک معاملہ میں تمام مخلوقات اپنے ربِّ کریم کا سراپا محتاج ہوتی ہیں۔اور اپنی محتا جگی میں، اپنی ضرورت خیزی میں، اپنی حاجت مندی میں جب کوئی مخلوق اپنے رب کو پکارتی ہے تو در حقیقت وہ اپنی عبدیت کا اظہار کرتی ہے اوریہی عبدیت کا اظہار انسانیت کی معراج ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو بہت پسند فرماتا ہےکہ اس کے بندے اسی سے اپنی حاجات وضروریات کی تکمیل کا سامان مانگیں۔ رب کریم خود کہتا ہے:
(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين) (غافر:60)
"اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہو چکا ہے) ہے مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وو عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔"
حضرات گرامی!یہ مقام عبرت اور مقام سبق آموزی ہے۔ ذرا غور کرو اور سمجھو کہ ربِّ کائنات جو کسی کا محتاج نہیں، جسے کسی کی کوئی ضرورت وحاجت نہیں، خود وہ کہہ رہا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا کو قبولیت کا تاج پہناؤں گا۔ جو مانگوگے دوں گا؛ کیوں کہ میرے خزانہ میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر پوری دنیا کی بادشاہت بھی مانگوگے، جب بھی عطا کردوں گا، میرے خزانے میں اس سے کوئی کمی نہیں آئےگی۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ پوری دنیا میری نظر میں ایک پر کی بھی تو حیثیت نہیں رکھتی؟ تم مانگ کر تو دیکھو، جھولی پھیلاؤ تو سہی!
دوستو! ذراغور کرو۔ کوئی بات تم بھی کہتے ہو، ہم بھی کہتے ہیں، ساری دنیا کہتی ہے؛ لیکن ہمارے اور ربِّ کائنات کے کہنے میں فرق ہوتا ہے۔ آسمان وزمین کا فرق ہوتا ہے۔ ہم آپ جو بات کہتے ہیں وہ پوری ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی ہے۔ ہماری بات حقیقت بھی ہو سکتی ہے اور مذاق بھی؛ لیکن ربِّ کائنات جو بات کہتا ہے وہ وعدہ ہوتی ہے اور رب کا وعدہ سچا ہی ہوتا ہے، کبھی جھوٹا نہیں ہوتا اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اب دیکھو، رب کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: مجھ سے دعا مانگو، میں قبول کروں گا۔ نامراد نہیں کروں گا بلکہ بامراد بنادوں گا۔
سبحان اللہ! یہ وہی ربِّ کائنات وعدہ کرتا ہے جسے کسی چیز کو انجام دینے کے لیے صرف "ہوجا" کے الفاظ کہنے پڑتے ہیں اور وہ چیز معرضِ وجود میں آجاتی ہے۔ چاہے وہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو؟
ایک حدیث قدسی میں،حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے:
"اے میرے بندو!میں نے خود پر ظلم کو حرام قراردے لیا ہے، اور اسے تمہارے لیے بھی حرام ٹھہرادیا ہے، لہذا ایک دوسرے پر ظلم وستم نہ کرو۔ اے میرے بندو!ہر ایک گمراہ ہو، مگر جسے میں ہدایت عطا کردوں، لہذا مجھ سے ہدایت طلب کرو۔ میں تمہیں ہدایت سے نوازوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب لوگ بھوکے رہوگے اگر میں نہ کھلاؤں، لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤ ں گا۔اے میرے بندو! تم سب لوگ ننگے رہو گے اگر میں تمہیں نہ پہناؤں، لہذا مجھ سے پہناوے مانگو، میں تمہیں پہناوے عطا کروں گا۔اے میرے بندو!تم سب رات دن گناہ کرتے رہتے ہو، اور میں تمام گناہوں کو بخش سکتا ہوں، لہذا تم مجھ سے اپنے گنا ہوں کی بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔
حدیث کے آخر میں ربِّ کریم فرماتا ہے:
اے میرے بندو!جنات وانسان کے اوّلین وآخرین ایک ہی جگہ جمع ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کردوں تو بھی میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئےگی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈبو کر اٹھا لینے سے واقع ہوتی ہے۔"(صحیح الترغیب والترھیب: جلد دوم صفحہ نمبر 274، حدیث نمبر : 1625)
دوستان وبزرگان دین وملت ! میں نے آپ حضرات کے سامنے جو آیت کریمہ پڑھی ہے اور جو حدیث پاک بیان کی ہے اس جیسی بہت سی آیات اور بہت سی احادیث ایسی ہیں جن سے دعا کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ اب آئیے ! میں آپ کو بتادوں کہ دعا کی حقیقت وماہیت کیا ہے؟
دعا، دنیوی اور اخروی حاجات، وضروریات کی تکمیل کا زینہ ہے۔
دعا ، غموں اور مصیبتوں کو دور کرنے کا عظیم ترین ذریعہ ووسیلہ ہے۔
دعا، عبدیت وعبودیت کی تکمیل کا اشارہ ہے۔
دعا ، اللہ سے تعلقات استوار کراتی ہے۔
دعا، اخلاصِ عمل کی رغبت وخواہش بڑھاتی ہے۔
دعا، احساس دلاتی ہے رب کی قدرت کا اور بندے کی عاجزی کا۔
دعا، آدابِ حیات سکھاتی اور انہیں دل کے نہاں خانوں ميں پیوست کرتی ہے۔
دعا، مؤمنوں ، مسلمانوں کا اچوک ہتھیار ہے۔
دعا، عبادت ہے اور عبادت ذریعہ ہے خوشنودی ِ رب کے حصول کا۔
دعا، زندگی کی زینت وآرائش ہے جو سجاتی ہے امیدوں کا گلشن۔
دعا، فضائل وبرکات کے حصول کا وہ ذریعہ ہے جو تقدیر بھی بدل ڈالتا ہے۔
دعا، زندگی کا وہ گل سر سبز ہے جو پو رے گلشن حیات کو معطر رکھتا ہے ۔
دعا، احساس بندگی کی وہ معراج ہے جس کے اوپر کوئی معراج نہیں۔
دعا، خالق ومخلوق کے درمیان کا وہ پل ہے جو خالق سے مخلوق کو سید ھا جوڑ دتیا ہے۔
دعا، سرگوشی ہے جو ربِّ کائنا ت سے کی جاتی ہے۔
دعا، قربت الہٰی کا و ہ وسیلہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا وسیلہ نہیں۔
دعا، ربِّ کا ئنات کو محبوب ہے اور یہ ایسی فضیلت ہے جو کسی عبادت کو بھی حاصل نہیں ۔
دعاکے فضائل:
دوستو ! اب اس کی فضیلتوں کی گلشن نما محفل میں آئیے اور سنئے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرما تے ہیں کہ رسولِ گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :دعا عبادت ہے۔"(ترمذی، أبو داود)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دنیا کی کوئی بھی شئی اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ برتر وعزیز تر نہیں۔ (صحیح الترغیب والترھیب: 1629)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکا رتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ (صحیح الترغیب والترھیب حدیث:1626)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان اللہ سے کوئی دعا کرے تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔ یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد فوری طور پر اسے مل جا تی ہے یا دعاء کے بقدر اس کی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کی دعا گناہ یا قطع رحمی پر مبنی نہ ہو۔ (حوالہ مذکور حدیث:1631)
دعا صرف اللہ سے کیجئے:
میرے محترم ومکرم بھائیو! یہ رہے دعا کے فضائل وبرکات کے سمندر کے محض چند قطر ے۔ حقیقت تویہ ہے کہ اگر دعا کے فضا ئل وبرکات کو ایک ایک کر شمار کیاجائے تو دفتر چاہئے۔ ہم نے صرف یہ اشارہ کر دیا ہے کہ دعا واقعی انتہا ئی فضیلت واہمیت کی حامل عبادت ہے۔اب یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟ کیسے کی جاۓ ؟ کن اوقات اور کن گھڑیوں میں کی جائے ؟ کن وسائل کے ذریعہ اور کن آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی جائے؟
محترم دوستو!جہاں تک سوال ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟ تو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کے اندر متعدد ومختلف مقامات پر مختلف انداز میں اس کا جواب دیا ہے۔ اگر اس نے ایک طرف (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا( فرما کردعا کا رخ صرف اپنی جانب موڑلیا ہے تو دوسری طرف (وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَابُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِۚ إِنَّهُ لَايُفْلِحُ الْكَافِرُونَ) فرما کر دعا کے تمام شرکیہ دروازوں کو پوری طرح بند فرما دیا ہے۔ اگر اس نے ایک جگہ(وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّـهِ مَالَايَنفَعُكَ وَلَايَضُرُّكَ) ارشاد فرماکر بتوں اور پتھروں سے مانگنا منع فرمایا ہے تو دوسری جگہ (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُم جَمِيعًا ثُمّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ۔ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنا)فر ماکر یہ بالکل واضح کردیا ہے کہ دعا صرف ایک اللہ وحدہ ٗ لاشریک سے کی جائےگی۔ کیوں کہ وہی ہے داتا جس کے سوا کوئی داتا نہیں۔ وہی ہے عطا وبخشش کا منبع وسرچشمہ جس کے سوا کوئی اور نہیں جو کسی کو کچھ دے سکے۔
حضرات!دعا صرف ربِّ کا ئنات سے کیجئے ربِّ کا ئنات کے سوا کوئی مقرب فرشتہ ، خدا کا کوئی نبی ورسول اور نہ ولی اور نہ پیر فقیر آپ کو کچھ دے سکتا ہے اور نہ آپ کی بلاؤں کو ٹال سکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا کرنے کا اختیار صرف کائنات کے رب کو ہے اور بس۔
کہاں ہیں وہ لوگ جو خالق کو چھوڑ کر مخلوق کو پکارتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو کسی نبی کو پکار کر خوش ہوتے ہیں ؟
کہاں ہیں وہ لوگ جوکسی فرشتے کو پکا رکر اپنی مراد پانے کی آشا کرتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو اولیاء اورصالحین میں اللہ کا جلوہ دیکھنے اور عوام کو دکھانے کے سوسو جتن کرتے ہیں ؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو جنات کو پکار کر خوش ہولیا کرتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ لوگ جواہل قبور سے اپنی مراد یں مانگتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو خود ساختہ اقطاب وابدال سے اپنی مراد یں مانگتے ہیں ؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو پیروں اور فقیر وں کو اپنا ملجا وماوی بنائے ہوئے ہیں؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو مجذوبوں اور باباؤ ں کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روابنائےبیٹھے ہیں؟
آؤ!اور دیکھو، ان آیات کو، آؤ اورسمجھو ان آیات کو، آؤ اور تدبر وتفکر کرو ان آیات ربانیہ میں اور ذرا ایمان سے بتاؤ کہ کیا تمہارا اللہ کو چھوڑ کر، نبیوں اور ولیوں کو پکارنا شرک نہیں ہے؟ کیا تمہارا ابدال واقطاب سے اپنی مراد یں مانگنا شرک جلی نہیں ہے؟ ہاں ہے،یاد رکھو کہ یہ تمہارےسارے کرتوت خدائی فرمان کے خلاف ہیں۔ خدرا ان سے باز آؤ اور اپنی ہر ضرورت کی چیز اللہ سے مانگو کیوں کہ تمہاری مرادیںصرف وہی پوری کرسکتا ہے، کوئی اور نہیں، کوئی اور نہیں!
http://www.minberurdu.com/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A7% D8%AA/%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%9B_%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C% D8%AA_%D8%8C_%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88 %D8%B1_%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AA_%DA%A9 %DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%B7%DB%8C%DA%BA.aspx

شاہنواز
03-16-2014, 05:20 PM
بہت خوب زبردست عمدہ