PDA

View Full Version : بادشاہ انٹرنیٹ۔گوگل



این اے ناصر
03-18-2014, 01:30 PM
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=EQGT

جیسے جیسے انٹرنیٹ کی دنیا میں مواد زیادہ ہوتا گیا، ویسے ویسے مواد کی آسان اور بہتر تلاش کا رحجان بڑھتا گیا۔ آج وہ وقت ہے کہ جب انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے اور اگر انٹرنیٹ سے تلاش کی سہولت ختم کر دی جائے تو یہ لاچار ہو کر رہ جائے گا۔ تلاش کے حوالے سے گوگل (Google)سب سے آگے اور مشہور ہے۔
جب گوگل اس میدان میں اترا، تب سرچ انجن اور انٹرنیٹ سے متعلقہ دیگر سہولیات فراہم کرنے کے معاملے میں یاہو اور ایم ایس این (مائیکروسافٹ نیٹ ورک) انٹرنیٹ کی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔ گوگل بعد میں آیا اور دوسروں سے آگے نکل گیا۔ سرچ انجن کے ساتھ ساتھ صارفین کو دیگر کئی ایک بہتر، منفرد اور مفت سہولیات فراہم کرکے گوگل دن بدن چھاتا ہی چلا گیا۔ آج انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی زندگی میں گوگل کا بڑا عمل دخل ہو چکا ہے اور اس کے بغیر انٹرنیٹ ادھورہ لگتا ہے۔ اب تو لوگ انٹرنیٹ پر تلاش کرنے کے عمل کو بھی گوگل کہنے لگے ہیں۔ جیسے اگر کسی نے کہنا ہو کہ فلاں چیز انٹرنیٹ پر تلاش کر لو تو اب وہ کہتا ہے کہ فلاں چیز گوگل کر لو۔ اور تو اور گوگل کی بہترین اور معیاری تلاش کی بدولت اس پر کئی کارٹون اور لطیفے بھی بن چکے ہیں۔ مثلاً بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ ہمارا بچہ کہیں گم گیا ہے تو شوہر جواب دیتا ہے کہ پریشان مت ہو، ابھی گوگل پر تلاش کر لیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کی ایک بڑی تعداد تو ایسی بھی ہے جو گوگل کو ہی انٹرنیٹ سمجھتی ہے۔ گو کہ گوگل ہی انٹرنیٹ نہیں مگر یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ گوگل انٹرنیٹ کا بادشاہ ہے۔ ’’برے مت بنو‘‘ گوگل کا غیررسمی نعرہ ہے۔ ماؤنٹین ویو کیلیفورنیا میں موجود گوگل کے ہیڈ کواٹر کو ’’گوگل پلکس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ روایتی دفاتر کی طرح نہیں بلکہ یہاں ملازمین کو کافی آزادی اور سہولیات دی جاتیں ہیں۔ یہاں انواع و اقسام کا مفت کھانا، ورزش کے لئے جم، موسیقی کے آلات، ویڈیو گیمز اور طرح طرح کی سہولیات موجود ہیں۔ گوگل پلکس دفتر کم اور کھیل کا میدان زیادہ لگتا ہے۔ ملازمین کے لئے لازم نہیں کہ وہ بڑے طور طریقے سے بیٹھ کر کام کریں بلکہ جیسے وہ آسانی محسوس کریں ویسے کام کریں۔ گوگل کے ملازمین کو ’’گوگلرز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو ’’نوگلرز‘‘ کہا جاتا ہے اور انہیں پہلے دن پہننے کے لئے گوگل کے روایتی رنگوں والی ایک ایسی ٹوپی دی جاتی ہے جس کے اوپر ہیلی کاپٹر کے پروں جیسے پر ہوتے ہیں۔ ویسے اس طرح کی ٹوپی کو ’’گردشی پنکھ ٹوپی‘‘ (Propeller Beanie) کہا جاتا ہے۔ مزید گوگل نے کئی ایک انوکھے کام شروع کر رکھے ہیں۔ جیسے ڈوڈل اور اپریل فول کا لطیفہ وغیرہ۔ مختلف موقعوں پر گوگل اپنے نام والے ’’لوگو‘‘ میں اس موقع کی مناسبت سے تبدیلی کر کے ’’ڈوڈل‘‘ بناتا ہے۔ جیسے چودہ اگست کو پاکستان کی مناسبت سے ڈوڈل بنایا اور اسے گوگل پاکستان کی ویب سائیٹ پر لگایا۔ اس کے علاوہ کئی دفعہ اپریل فول پر گوگل کوئی نہ کوئی لطیفہ بھی چھوڑتا ہے۔ جیسے 2007ء میں گوگل نے کہا کہ وہ مفت انٹرنیٹ سروس دے رہا ہے۔ جس کا نام ہے ٹی آئی ایس پی (TiSP) یعنی ٹائلٹ انٹرنیٹ سروس پروائیڈر۔ بہرحال گوگل ویب سرچ انجن کے طور پر شروع ہوا اور اس نے آغاز میں ہی ایک چھوٹے سرچ انجن ’’گوٹو ڈاٹ کام‘‘ کا آئیڈیا استعمال کیا۔ وہ آئیڈیا ’’تلاش کی اصطلاحات کی فروخت‘‘ تھا یعنی ان الفاظ کی فروخت جو صارفین سرچ انجن میں درج کر کے مواد تلاش کرتے ہیں۔ اس آئیڈیے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مختلف ویب سائیٹس کسی خاص لفظ یا الفاظ کے تحت گوگل کو اشتہار دیتی ہیں اور جب کوئی ان الفاظ سے تلاش کرتا ہے تو نتائج کے شروع میں گوگل وہ اشتہار دکھا دیتا ہے۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو عموماً تلاش کے نتائج کے شروع میں چند متعلقہ اشتہارات (Related Ads) ہوتے ہیں۔ شروع میں یہی اشتہارات گوگل کی آمدنی کا ذریعہ تھے۔ گو کہ اب کئی دوسرے ذرائع سے بھی گوگل کما رہا ہے مگر آج بھی یہ اور اس جیسے دیگر اشتہارات ہی گوگل کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ شروع 1999ء میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب گوگل کے بانیوں (لیری اور سرگے) کو محسوس ہوا کہ گوگل ان کا بہت زیادہ وقت لے رہا ہے اور اس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے گوگل بیچنے کا سوچا اور ’’ایکسائیٹ‘‘ کے چیئرمین جارج بل کو دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل فروخت کرنے کی پیشکش کی، مگر جارج نے یہ سودا ٹھکرا دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد 7 جون 1999ء کو چند بڑے سرمایہ کاروں اور دو ’’ونچر کیپٹل فرمز‘‘ کی طرف سے گوگل کے لئے 25 ملین ڈالر کی مرحلہ وار سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ سرمایہ کاری گوگل کے لئے اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔اس کے بعد گوگل نے ایسے ترقی کی کہ پہلے جو کمپنی خود فروخت ہو رہی تھی اب وہ دوسری کمپنیوں کو خریدنے لگی۔ جس طرح سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگل جاتی ہیں، کچھ ایسا ہی انٹرنیٹ کے سمندر میں بھی ہوتا آیا ہے۔ عموماً بڑی کمپنیاں اپنے سے چھوٹی کمپنیوں کو خریدنے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض کو خرید بھی لیتی ہیں۔ گوگل نے بھی کچھ ایسا ہی کیا اور ابھی تک تقریباً 145 کمپنیاں یا ان کی مصنوعات کو خرید کر اپنے اندر ضم کر چکا ہے۔ آج کل سرچ انجن کے بعد گوگل کی مشہور سروسز زیادہ تر وہی ہیں جن کو کسی زمانے میں گوگل نے خریدا تھا۔ گو کہ گوگل انٹرنیٹ کا بادشاہ کہلاتا ہے مگر سوشل نیٹ ورک کے معاملے میں لاکھ کوششوں کے باوجود بھی دیگر کمپنیوں جیسے فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ پہلے آرکٹ پھر گوگل بز اور بعد میں گوگل پلس مارکیٹ میں آئے مگر پھر بھی اس معاملے میں گوگل دوسروں سے پیچھے ہی رہا۔ گوگل صارفین کی کئی قسم کی معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ جس میں صارف کے کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ کے ہارڈویئر، سافٹ ویئر، محل وقوع، صارف زیادہ تر کونسی ویب سائیٹ کھولتا اور تلاش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گوگل اس معلومات کو اکٹھا کرنے کا یہ جواز دیتا ہے کہ وہ اس سے راہنمائی لے کر اپنے صارفین کو بہتر سے بہتر سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل جی میل کی ای میلز بھی پڑھتا ہے۔ جب یہ بات عدالت تک پہنچی اور مثال کے طور پر کہا گیا کہ کوئی بھلا یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کا خط راستے میں ہی ڈاکیا کھول کر پڑھے۔ یہ پرائیویسی کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں گوگل کا کہنا تھا کہ وہ ای میلز ڈاکیے کی حیثیت سے نہیں بلکہ آپ کے سیکرٹری کی حیثیت سے پڑھتا ہے تاکہ غیر ضروری ای میلز کو ردی میں پھینک سکے اور آپ کو بہتر سہولت فراہم کر سکے۔ انٹرنیٹ سے متعلقہ سہولیات فراہم کرنے والی دیگر کئی کمپنیوں کی طرح گوگل کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے لئے جاسوسی کرتا ہے اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) کو صارفین کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بات بھی عدالت میں پہنچی اور اس پر جج کا کہنا تھا ’’امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل نہیں کہ گوگل اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی آپس میں کس قسم کا تعاون کرتے ہیں۔‘‘ بہرحال جاسوسی کرنے والی بات کے متعلق حتمی کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ صارفین کی معلومات تو واقعی اکٹھی کرتا ہے اور اس بارے میں گوگل کی ویب سائیٹ پر لکھا ہوا ہے، بلکہ جب بھی کوئی گوگل کی کسی بھی سہولت کا صارف بنتا ہے تو ’’ٹرمز اینڈ کنڈیشن‘‘ میں ایسی معلومات درج ہوتی ہیں اور پھر وہی صارف بن سکتا ہے جو اسے قبول کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے ہاں لوگ ایسی معلومات کو نہیں پڑھتے اور جلدی میں قبول پر کلک کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ گوگل انٹرنیٹ سے متعلقہ کئی قسم کی سہولیات دے رہا ہے بلکہ ایک عام صارف کی ضرورت کی تقریباً تمام سہولیات مفت فراہم کرتا ہے اور انہیں مفت سہولیات پر اشتہارات سے گوگل کو آمدن ہوتی ہے۔ ابھی گوگل کی چند مشہور سروسز کا سرسری جائزہ لیتے ہیں۔ سرچ انجن گوگل کی سب سے پہلی اور اہم سہولت سرچ انجن ہی ہے۔ جس کے ذریعے انٹرنیٹ کے سمندر میں معلومات تلاش کی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کو بہتر کیا جاتا رہا اور اب دنیا کی کئی زبانوں میں تلاش ممکن ہے۔ عام تلاش کے لئے گوگل سرفہرست تو ہے ہی لیکن اگر کوئی بات صرف خبروں، کتابوں،تحقیقی مواد، بلاگز یا خاص کسی ایک ویب سائیٹ سے تلاش کرنی ہو تو ایسی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ تحریری معلومات کے ساتھ ساتھ ویڈیو اور تصویر بھی تلاش کی جا سکتی ہے۔ گوگل کروم انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فاکس وغیرہ کی طرح گوگل کروم بھی ایک ویب براؤزر ہے جو کہ ستمبر 2008ء میں صارفین کو مہیا کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں گوگل کروم سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ جی میل یہ ای میل بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت ہے جو کہ اپریل 2004ء میں متعارف کرائی گئی۔ منفرد سہولیات اور میل باکس میں زیادہ جگہ دینے کی وجہ سے جی میل بہت جلد مشہور ہو گیا۔ آج بھی جی میل ایسی کئی سہولیات مفت دیتا ہے جوکہ اس کے حریف مفت نہیں دے پا رہے۔ گوگل پلس جنوری 2004ء میں گوگل نے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائیٹ آرکٹ متعارف کرائی۔ یہ مشہور تو ہوئی مگر اسے زیادہ شہرت نہ ملی۔ فروری 2010ء میں گوگل بز شروع کیا جو تقریباً پونے دو سال چلنے کے بعد دسمبر 2011ء میں بند کر دیا گیا۔ اسی دوران جون 2011ء میں گوگل نے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائیٹ گوگل پلس متعارف کرائی۔ شروع میں کافی زیادہ صارف فیس بک چھوڑ کر ادھر چلے گئے مگر جلد ہی واپس لوٹ آئے۔ گوگل اپنی اس ویب سائیٹ کو کامیاب کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ گوگل ٹاک/ہینگ آؤٹ گوگل ٹاک اگست 2005ء میں شروع ہوا۔ یہ ایک میسینجر تھا جس کے ذریعے چیٹ وغیرہ ہوتی تھی۔ مئی 2012ء میں جب گوگل پلس کی سہولت ہینگ آؤٹ متعارف کرائی گئی تو گوگل ٹاک کو اس میں ضم کر دیا۔ گوگل ہینگ آؤٹ کے ذریعے آڈیو اور ویڈیو چیٹ ہوتی ہے۔ مزید اس کے ذریعے ایک وقت میں دس لوگ ویڈیو کانفرنس بھی کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کو بذریعہ یوٹیوب محفوظ اور لائیو براڈکاسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ کئی اہم شخصیات جیسے امریکی صدر بارک اوباما نے گوگل ہینگ آؤٹ کے ذریعے عوام سے خطاب بھی کیا تھا۔ گوگل ٹرانسلیٹ یہ تحریر کا مختلف زبانوں میں بذریعہ مشین ترجمہ کرنے کی سہولت ہے۔ جس کا آغاز اپریل 2006ء میں کیا گیا۔ شروع میں اس میں دو چار زبانیں ہی تھیں مگر اب اردو سمیت تقریباً 81 زبانوں کا ایک سے دوسری میں ترجمہ ہو سکتا ہے۔ گو کہ کئی زبانوں کا بڑا اچھا ترجمہ ہو جاتا ہے مگر اردو ترجمہ ابھی تک معیاری نہیں ہو سکا۔ بہرحال گوگل کا کہنا ہے کہ لوگ بذریعہ’’ٹرانسلیٹر‘‘ جتنا زیادہ ترجمہ کریں گے یہ اتنا ہی بہتر ہوتا جائے گا۔ یوٹیوب یہ مشہورِ زمانہ ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائیٹ ہے۔ جو کہ فروری 2005ء میں بنی اور اکتوبر 2006ء میں گوگل نے اسے خرید لیا۔ پکاسا ویب البم 2002ء میں بننے والی پکاسا ویب سائیٹ تصاویر شیئر، ترتیب اور منفرد انداز میں دیکھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ گوگل نے اسے جولائی 2004ء میں خریدا۔ گوگل پلس بننے کے بعد پکاسا کو بھی اس کا ایک حصہ بنا دیا گیا۔ گوگل ارتھ/ میپ سی آئی اے کے فنڈ سے چلنے والی ’’کی ہول‘‘ نامی کمپنی نے زمینی نقشہ جات کے متعلق ایک سافٹ ویئر ’’ارتھ ویور‘‘ کے نام سے بنا رکھا تھا۔ اکتوبر 2004ء میں گوگل نے کی ہول اور جغرافیہ سے متعلقہ ایک دوسری کمپنی بھی خرید لی۔ فروری 2005ء میں گوگل میپ شروع ہوا اور جون 2005ء میں ارتھ ویور میں ترامیم کر کے اسے’’گوگل ارتھ‘‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ زمینی نقشہ جات اور جغرافیہ سے متعلقہ معلومات کے لئے گوگل ارتھ/میپ اس وقت بہت مشہور ہے۔ کمپیوٹر، موبائل اور گاڑیوں کے نیویگیشن سسٹم تک گوگل میپ سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ آج تقریباً دنیا کے ہر کونے کی تصاویر، مختلف قسم کے نقشے اور سیٹیلائیٹ ویو تک گوگل ارتھ میں مل جاتے ہیں۔ سٹریٹ ویو کے ذریعے گلیاں ایسے دیکھی جا سکتی ہیں جیسے کوئی خود اس گلی میں چل رہا ہو۔ ایک شہر سے دوسرے شہر کا فاصلہ اور نقشہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نظامِ شمسی، چاند اور مریخ کا مشاہدہ تک کیا جا سکتا ہے۔ گوگل ارتھ/میپ کے اتنے جدید ہونے کے پیچھے صارفین کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ زیادہ تر تصاویر، سڑکوں اور مختلف مقامات کی نشاندہی صارفین ہی کر رہے ہیں۔ اگر کوئی چاہے تو وہ ’’گوگل میپ میکر‘‘ اور ’’پینورامیو‘‘ کے ذریعے اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ گوگل ڈاکس/ڈرائیو اگست 2005ء میں شروع ہونے والی ’’رائیٹلی‘‘ کو گوگل نے خرید کر اکتوبر 2006ء میں گوگل ڈاکس متعارف کرایا۔ یہ ویب بیسڈ (ویب سائیٹ پر چلنے والا) ایسا نظام ہے جس کے ذریعے مختلف ڈاکومنٹس تیار کیے جا سکتے ہیں۔ جس طرح مائیکروسافٹ ورڈ اور پاور پوائنٹ ہیں، ایسے ہی گوگل ڈاکومنٹ، سپریڈ شیٹ اور پریزنٹیشن وغیرہ ہیں۔ اپریل 2012ء میں گوگل ڈرائیو شروع کی گئی تو ڈاکس کو اس کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ گوگل ڈرائیو ایسے ہی ہے جیسے کمپیوٹر کی ہارڈڈرائیو۔ اس میں اپنا ڈیٹا آن لائن رکھا جا سکتا ہے اور کہیں سے بھی بذریعہ انٹرنیٹ اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بلاگر/بلاگسپاٹ ’’بلاگر ڈاٹ کام‘‘ بلاگ بنانے کی ایک مفت سروس ہے جس کو اگست 1999ء میں پیرا لیب نے شروع کیا تھا۔ فروری 2003ء میں گوگل نے اسے خرید لیا۔ اب بلاگر اور بلاگسپاٹ ایک ہی سروس کے دو نام ہیں۔ ایڈ ورڈز اور ایڈسنس ایڈورڈز کے ذریعے گوگل اشتہارات لیتا ہے اور پھر ایڈسنس کے ذریعے وہ اشتہارات مختلف ویب سائیٹس کو دیتا ہے۔ ایڈسنس اس وقت بہت مشہور ہے اور بہت سارے ویب سائیٹ مالکان اس سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کما رہے ہیں۔ ایڈسنس ’’اپلائیڈ سمنٹکس‘‘ نے شروع کیا مگر مارچ 2003ء میں گوگل نے اسے خرید لیا تھا۔ ویب ماسٹر ٹولز اور انیلیٹکس یہ ویب سائیٹ مالکان کے لئے مفت سہولیات ہیں۔ ویب ماسٹر ٹولز کے ذریعے ویب سائیٹ کی حالت کی جانچ کی جاسکتی ہے اور انیلیٹکس سے ویب سائیٹ ٹریفک کی نگرانی اور معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔ انیلیٹکس ارچن سافٹ ویئر کارپوریشن نے شروع کیا تھا اور گوگل نے اسے خرید کر نومبر 2005ء میں اپنی طرف سے متعارف کرایا۔ ان کے علاوہ بھی گوگل کی کئی مصنوعات اور سہولیات ہیں۔ ابھی چند مشہور کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ مزید گوگل کی کئی ایک سروسز ایسی بھی ہیں جو مفت شروع ہوئیں اور بعد میں قیمت مقرر یا کچھ بند بھی کر دی گئیں، جیسے گوگل ایپس، ریڈر اور بز وغیرہ۔ سمارٹ فون کا مشہور اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈرائیڈ‘‘ بھی گوگل کا ہے جوکہ اس نے اگست 2005ء میں خریدا تھا۔ آج گوگل ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن ہے۔ (اس تحریر کے لکھاری ’’ایم بلال ایم‘‘ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے فری سافٹ ویئر ’’پاک اردو انسٹالر‘‘ کے خالق اور ایک بلاگر ہیں۔ ان کا بلاگ www.mBILALm.comپر دیکھا جا سکتا ہے۔)

شاہنواز
03-18-2014, 01:32 PM
بہت ہی عمدہ معلومات کا ذخیرہ جمع کیا ہوا ہم تک پہنچانے کا شکریہ

بےباک
03-19-2014, 02:09 AM
زبردست معلومات ، جزاک اللہ