PDA

View Full Version : وہ سیلانی پریتم۔۔۔!



گلاب خان
12-17-2010, 02:56 PM
سورج کو ابھی اپنی منزل کی طرف پہنچنے میں چند گھنٹے درکار تھے لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ میری سلطنت کا سورج ڈوب چکا تھا۔ میرا وقت رک گیا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں اُن کو حسبِ عادت فی امان اللّٰہ کہا اور اپنے بچوں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے باہر نکل آئی۔ مسز سلیم میرے ساتھ تھیں۔ میرا وقت تھم چکا تھا۔ ہاں۔۔۔ میرا وقت تھم گیا تھا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنا سر گاڑی کی نشست کی پشت پر ٹکایا اور آنکھیں موندلیں۔ اور میں نے جو ادھورا خواب دیکھا تھا اس کو اپنی چشمِ تصور میں دوہرانے لگی۔

جب میں پہلی مرتبہ اِسی شارع الملک عبد العزیز پر بخار ی صاحب کے ہمراہ آئی تھی تو آٹھ ذوالحجہ، جمعۃالمبارک کا دن تھا۔ بخاری صاحب اپنی نئی زندگی کا آغاز حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی سے کرنے کے خواہاں تھے۔ تب بھی شام کا وقت تھا۔ سائے گہرے ہورہے تھے لیکن۔۔۔ سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا۔ اس وادی میں یونہی چہل پہل تھی۔ اس کے در و دیوار، راہ و بازار، وسیع و عریض ریتلے میدانوں اور لق و دق پہاڑوں پر یکساں رونق تھی۔ ہر طرف سے خوشیاں پھوٹتی تھیں۔ سال کے نو مہینے جن راستوں پر گہرے مہیب سنّاٹوں نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں، اِن تین ماہ میں ماحول اُس کے مختلف تھا۔ ہوائیں یہاں کے در و دیوار سے اٹھکیلیاں کرتی، خوشیوں کے گیت گاتی ضیوف الرحمٰن کا استقبال کررہی تھیں۔ ہم بھی خوشیوں کے اِس ماحول میں خوشی سے سرشار منٰی سے عرفات، عرفات سے مزدلفہ، رمی جمرات اور طوافِ زیارت جیسے ارکان ادا کررہے تھے۔ حج کی ادائیگی کے بعد اُنھوں نے یہیں حیّ العزیزیہ میں موجود حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سے مجھے بیعت کرایا، اور ان کی توجہ کی برکات اور ڈھیروں دعائیں لیتے ہوئے ہم اُملج کی طرف روانہ ہوگئے۔

اُملج، ہمارا ابتدائی مسکن تھا۔ یہاں بخاری صاحب کا حلقۂ احباب گو بہت وسیع نہ تھا لیکن یہاں بخاری صاحب کی علمی و ادبی تشنگی کو تنگیِ داماں کا سامنا تھا۔ صبح کے چھے سات گھنٹے تدریسی مشاغل میں اور باقی ماندہ وقت روح کو بذریعہ ذکر و اذکار تقویت مہیا کرنے میں صرف کرتے، یا پھر فارغ اوقات میں مسجدِ شاذلی کے امام اور اُملج کی پاکستانی کمیونٹی کے بزرگ سربراہ، میری عدم موجودگی میں اُن کے میس (Mess) کے انچارج قاری علی زمان (ساکن مانسہرہ) کی صحبت میں گزارتے۔ قاری صاحب سے اُن کی ایک بِنائے دلچسپی یہ بھی تھی کہ اُنھوں نے اپنے وقت کے عظیم قرّاء سے فنِ قرات سیکھا تھا۔ اُنھی میں ایک شَیخ عبدالمالک بھی تھے جو کہ بخاری صاحب کے ماموں سید عطاء المحسن بخاریؒ کے استاد تھے۔ اس کے علاوہ قاری صاحب نے بہت چھوٹی عمر سے ہی بزرگوں کی صحبت سے اکتسابِ فیض کیا تھا اور مطالعہ کا بھی ذوق رکھتے تھے۔ ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ قاری صاحب کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اور وہ دونوں میاں بیوی اس سید زادے کے آنے سے بہت خوش تھے۔ بلکہ بخاری صاحب بتاتے کہ قاری صاحب کئی دفعہ بھری مجلس میں بر ملا کہتے ’’اللہ نے سانوں تے ابراہیمؑ ونگراں بڑھاپے وچ پتر دتا اے، پر اُمتیاں نوں سید زادہ دِتا اے۔‘‘ (اللہ نے ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی طرح بڑھاپے میں بیٹا دیا ہے لیکن امتیوں کو سید زادہ عطا کیا ہے)

قاری صاحب نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا تھا۔ وہ نہایت مردم شناس انسان تھے۔ خاندان و حالات کے ستائے ہوئے تھے۔ بخاری صاحب کے آنے سے وہ ایک دم پھر سے جوان ہوگئے تھے۔ اُن کو سہارا مل گیا تھا۔ بخاری صاحب بھی قاری صاحب کی اس بے لوث محبت کو محسوس کرتے ہوئے ان کو بھرپور وقت دیتے تھے۔ پہروں ان کی باتیں (کہانیاں، واقعات) سنتے۔ اُن کو سنبھالا دیتے۔ اپنی بذلہ سنج طبیعت سے ان کا جی بہلاتے۔ ہم ایک رات قاری صاحب کے گھر ملنے گئے تو قاری صاحب کہنے لگے: ’’بخاری صاحب میں کب سے آپ کا انتظار کررہا تھا۔‘‘ میں تو اندر چلی گئی۔ میں ان کی اہلیہ سے گپیں لگاتی رہی۔ واپسی پہ میں نے اُن سے پوچھا کہ خیر تھی، اُنھیں آپ سے کوئی خاص کام تھا؟ تو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے بتانے لگے کہ میں قاری صاحب کو جو لطیفے سناتا رہتا ہوں، آج وہ ایک نہایت عمدہ سی ڈائری خرید کر لائے ہیں کہ وہ سارے مجھے اِس میں خوش خط کرکے لکھ دو۔ جب میں وطن واپس چلا جاؤں گا تو تنہائی میں تمہاری یاد میں ان کو پڑھوں گا۔

یہ ایک قاری صاحب کا قصہ ہی نہیں بلکہ بیسیوں وہ پاکستانی، بنگالی، ہندوستانی افراد جو بسلسلۂ روزگار وہاں مقیم تھے، اپنی بپتا کہنے اور مسائل کے بھنور سے نکلنے کا حل پوچھنے کے لیے مناسب موقع و ملاقات کے انتظار میں رہتے۔ بخاری صاحب نے ایک مصروفیت یہ نکالی کہ تبلیغی جماعت والوں کی جو یومیہ تعلیم پہلے سرسری سے انداز میں چل رہی تھی، اس میں باقاعدہ سے ساتھیوں کو منظم کیا اور روایتی زبان و بیان سے ہٹ کر اس سادہ مختصر سی محفل کو نئے قالب میں ڈھالا۔ ان کو چند مخصوص سنن و اعمال پر اصرار کرنے کے دائرے سے نکال کر پوری زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی نئی راہ سجھائی۔ اِس کا اثر یہ تھا کہ جلد ہی تکبیرِ اُولیٰ سے نماز پڑھنے والے نمازیوں میں اپنے اپنے کفیل سے لین دین میں گاڑھے غبن سے تائب ہونے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔ اِس سب کے ساتھ ہی اُنھوں نے میری فراغت کا یہ حل نکالا کہ اکثر نماز کے بعد ایک دو دوستوں کو مسجد سے واپسی پر اپنے ساتھ کرلیتے یا رات کے کھانے پر دو چار خاندانوں کو بلالیتے اور دسترخوان کو ایسے سجاتے جسے دیکھ کر عربوں کی سخاوت کا رنگ پھیکا پڑجاتا۔ اس کے علاوہ یومیہ تبلیغی تعلیم بھی اکثر ہمارے ہاں ہی ہوا کرتی جس میں چائے کے ساتھ مُکَسّرات کا ہونا ضروری سمجھتے تھے۔

بخاری صاحب کو کسی کے ’’مسلکِ اِنفاق‘‘ سے اختلاف نہ تھا لیکن اپنی حسنی حسینی روش کو چھوڑنے کا یارا بھی نہ تھا۔ اُملج میں آنے والی تبلیغی جماعتوں کے لیے ایک دو افراد نے مل کر ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا تھا۔ اِس کے بجلی اور گیس کے واجبات میں حصے کے علاوہ وہاں آنے والی جماعتوں کی خدمت اکثر اپنے ذمہ لے لیتے۔ ان کے کئی ’’ہمدرد یار‘‘ ان سے کہتے یار بخاری! آپ نے کرلی بچت۔۔۔؟ تو اپنے مخصوص انداز میں دھیما سا مسکراکے صرف اتنا کہتے ’’اللہ خیر کرے گا۔‘‘

بخاری صاحب اپنی ذاتی زندگی میں بھی شاہ خرچ تھے۔ اُنھوں نے مجھے کبھی کوئی کمی نہیں دی۔ کوئی روک ٹوک نہ کرتے تھے۔ وہ میرے شوہر ہی نہیں، میرا اعتماد بھی تھے۔ وہ عورت کو پاؤں کی جوتی نہیں بلکہ انسان سمجھتے تھے۔ گھریلو ذمہ داریوں سے بالکل نہ گھبراتے تھے۔

تحدیثِ نعمت کے طور پر اس بات کا ذکر کرتی ہوں کہ ہماری فیملی پر اللہ کا یہ خاص کرم تھا کہ ہماری مدینہ طیبہ حاضری اکثر ہوجاتی تھی۔ میرے پاس اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کچھ زیادہ الفاظ نہیں ہیں۔ میرے اور بچوں کے لیے یہ اطلاع کہ کل ہم نے مدینہ طیبہ جانا ہے، ہلالِ عید کی نوید سے بڑھ کر ہوتا۔ اس موقع پر میں اگر الفاظِ نبویؐ کے ذریعے حلف اُٹھاکر کہوں توبے جا نہ ہوگا کہ والذی نفسی بیدہٖ عطاء المکرِم اور عطاء المنعم نے اپنے بابا سے کسی کھلونے یا تفریحی مقام پر جانے کے لیے کبھی ضد نہیں کی تھی لیکن حرمین جانے کے لیے وہ یوں تڑپتے اور مچلتے جیسے ماہیِ بے آب۔ یہ ہر آٹھ دس دن بعد بڑی بے تابی سے پوچھتے بابا اِتنے دن ہوگئے ہیں، ہم حرم کب جائیں گے؟ تو بخاری صاحب بڑے جذباتی انداز میں اُنھیں اپنے ساتھ چمٹا کر کہتے اچھا بیٹا! ابھی کچھ دن تک چلتے ہیں۔

اس دنیا میں رہتے ہوئے یہاں کے مسائل اور مشکلات سے کسی بشر کو مفر نہیں لیکن یہ اپنی تنگیِ داماں کا کسی کو احساس نہ ہونے دیتے۔ حرمین جاتے ہوئے کپڑوں والے بیگ کے ساتھ ایک بیگ تحائف کا ضرور ہوتا۔ اس میں کئی کتابوں کے نسخے، عطر اور ٹوپیاں بڑے اہتمام سے رکھتے اور مکہ و مدینہ میں موجود اپنے رفقا کو حسبِ پسند ہدیہ کرتے۔

ایک اہم بات جو میں نے محسوس کی، کہ اُنھوں نے تقریبًا ساڑھے چھے سال املج میں گزار دیے لیکن وہاں ان کے ’’مطلب‘‘ کی کوئی چیز نہ تھی، ملازمت نہ افراد، لیکن اُنھوں نے دونوں میں مطلب پیدا کرلیا تھا۔ وہ یوں کہ اپنے سکول میں صرف یہی اکیلے پاکستانی استاد تھے۔ چنانچہ یہ عرب اساتذہ سے خوب گپ شپ لگاتے۔ اُن سے اُن کی تہذیب و تمدن پر خوب گفتگو کرتے۔ ان کے دو ساتھی ابراھیم الحُمیدی (شامی استاد، جو ملازمت کے لیے یہاں آئے تھے) اور فھد بن یاسر العُسیری، اکثر فیملی سمیت گھر آتے تھے۔ ان کے آنے پر ہمارے ہاں خوب جشن کا سماں ہوتا کیونکہ بخار ی صاحب کو عام عربوں کا طرزِ رہائش اور اُن کی بود وباش بہت پسند تھی۔ چنانچہ خصوصی طور سے سعودی قہوہ اور ان کے پسندیدہ مکسرات لاتے، اور پھر گھنٹوں عرب شعراء و شیوخ کے بارے میں باتیں ہوتیں۔ بخاری صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’ادب‘‘ پڑھنے سے نہیں، وہاں رہنے اور معاشرتی اطوار کو کُلّی طور پر اپنانے سے آتا ہے۔ لہٰذا یہ کبھی بھی وہاں پاکستانی لباس نہیں پہنتے تھے۔ ہمیشہ ’’ثوب‘‘ پہنتے اور باقیوں کو بھی بڑی شدومد سے اِس کی ترغیب دیتے۔

ان کے ایک سعودی شاگرد نادر کو اُن سے بہت تعلق تھا۔ وہ کچھ بننا چاہتا تھا۔ وہ ان کے پاس بیٹھتا اور انگریزی ادب پڑھتا سیکھتا تھا۔ میں بیٹھک سے اُس کی ’’یا سبحان‘‘ اور’’ للہ درُّ القائل‘‘ کی بے ساختہ صدائیں سنُتی رہتی تھی۔ ایک دن بتایا کہ کسی بات پر اچانک اُن کے بوسے لینے لگا (یہ عربوں کی فریفتگی کا ایک انداز ہے)۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا استاد سید! ہم سعودی پاکستانیوں کو بطور گالی استعمال کرتے ہیں (ان کے اعمال کی وجہ سے)۔ لیکن میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اور زندگی کے جس میدان میں بھی کامیابی حاصل کروں گا، تمہارا نام فخر سے بتاؤں گاتو میں نے اُسے بتایا کہ ہمارا خمیر تو ہے ہی یہیں سے۔

بخاری صاحب اس مٹی کی محبت کو اپنے بچوں کی فطرت کا جزو بنادینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے شہزادوں کو تفریحِ طبع کے لیے ان ریگستانوں، پہاڑوں پر لے کے جاتے اور ساتھ میں بتاتے جاتے کہ بیٹا! یہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جان نثاروں سمیت بدر کا معرکہ لڑا تھا۔ اور اکثر مدینہ سے واپسی پہ جب ہم ابواء، رابغ، ینبع سے گزرتے تو کہتے عطاء المکرِم! دیکھو۔۔۔ دیکھو اِن راہوں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کارواں لے کر تبوک گئے تھے۔ سنو، سنو میں یہاں اُن کے گھوڑ وں کے ٹاپوں کی آوازیں سنتا ہوں۔ وہ اکثر ضباء روڈ پر بحرِ احمر کے کنارے بنے تفریحی مقام پر اُنھیں گھماتے۔ سمندر میں لے جاتے۔ پانی میں اُن کو نہلاتے اور کہتے اِس پانی کو اُنھوں نے چھوا ہے۔ اِسی میں اُنھوں نے گھوڑے ڈالے تھے۔۔۔ اور پھر رات گئے بچوں کے تھک جانے پر وہ گھر واپس آتے۔ میں اُن سے اکثر کہتی کہ آپ کا تو دل ہی نہیں چاہتا یہاں سے جانے کو۔ مجھے لگتا ہے یہ راہیں بھی آپ کے قدم پکڑلیتی ہیں۔ فاصلے لمبے ہوجاتے ہیں۔ تو ایک ٹھنڈی آہ بھرکے کہنے لگے ہاں! صحیح کہتی ہو۔

مشکلات تو آتے وقت بھی کچھ کم نہیں ہوتی تھیں، لیکن وقتِ واپسی تو دوہری تہری ہوجاتی ہیں۔ اور پھر اکثر ہمارے ساتھ ہوتا بھی یہ تھا کہ جب بھی ہمارے املج سے واپس آنے کے دن قریب آتے تو ایک طرف محکمانہ مسائل منہ کھولے کھڑے ہوتے اور دوسری طرف بخاری صاحب کی طبیعت پر اداسی چھاجاتی۔ بالکل خاموش بیٹھے رہتے یا پھر قاری علی زمان صاحب کے پاس چلے جاتے اور ان سے فرمائش کرکے حجازی لہجے میں قرآن سنتے۔ جب ہم املج سے ’’خروجِ نہائی‘‘ پہ آئے تو اللہ شاہد ہے کہ ہمارا ۹ گھنٹے کا سفر اڑھائی دن میں مکمل ہوا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گاڑی آگے کی بجائے پیچھے کو جارہی ہے۔ سفر تھا کہ کٹنے میں نہیں آتا تھا۔ آخر خدا خدا کرکے ہم گھر (ملتان) پہنچے تو پروگرام کے مطابق ہم نے نئے ویزے نکلواکر چھٹیاں ختم ہوتے ہی مکہ چلے جانا تھا۔ لیکن ان کے بقول ’’میرا انٹری ٹیسٹ شروع ہوگیا ہے۔‘‘ ابھی قدرت کو ان کی آزمائش مقصود تھی۔ سات ماہ یہ اپنے اللہ سے حرم کی قربت مانگتے اور جواب میں خاموشی ہوتی تھی۔ آخر مارچ ۹۰۰۲ء کو اُن کے نالوں کا جواب آہی گیا۔ میں اُن کی خوشی اور جذبات کو لفظوں کے سانچے میں نہیں ڈھال سکتی۔ ان کی تو کایا ہی پلٹ گئی تھی۔ ایک ہینڈ بیگ اور دو تین کتابوں کے کارٹن کی جگہ ایک بڑے سوٹ کیس نے لے لی۔ لباس، جوتے، پرفیوم، گھڑی کے شاپر لے کر جب رات ڈیرھ بجے گھر پہنچے، مجھے جگایا۔ کہا کہ ٹھنڈا ٹھار ملک شیک تو بنادو، آج میں بہت خوش ہوں۔ میرا عیش کوجی چاہ رہا ہے۔ جب میں دودھ بناکر لائی تو ساری چیزیں سامنے رکھے اُنھیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا یہ کس کی ہیں؟ قہقہہ لگاکر بولے: ’’میری۔‘‘ آخر کو مکّے سے بلاوا آیا ہے۔ اور نہایت استغنا سے بولے: ’’سلیم کہتا ہے یہ سب ضروری ہے۔‘‘

مکہ پہنچ کر کچھ دن تو اِنہی دونوں دوستوں سلیم صاحب اور سجاد صاحب کے ہاں ٹھہرے رہے۔ پھر کچھ دن بعد اپنا مکان مل گیا۔ یہ وہاں شفٹ ہوگئے۔ لیکن یہ دونوں اُن کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ یہ ٹرائیکا ایک دوسرے کے سہارے مزے سے جی رہا تھا۔ سانس بھی آپس کے مشورے سے لیتے تھے۔ اس دوران عطاء المکرِم فون پر اکثر اُن سے کہتا بابا آپ ہمیں کب بلائیں گے؟ بابا ہم نے بھی عمرہ کرنا ہے۔ ہم نے بھی حرم جاناہے۔ بابا اللہ کے لیے حرم میں ایک چھوٹا سا گھر لے لو۔ میں اس میں سے نکل کر طواف کروں گا۔ اُس کی پھوپھو نے اُس سے پوچھا مکرِم، بڑا گھر کیوں نہیں؟ تو نہایت فلسفیانہ انداز میں کہنے لگا کہ پھوپھو جان پھر رش ہوجاتا ہے اور طواف میں مشکل ہوتی ہے۔ ہم سب ہنس پڑے۔

بخاری صاحب کافی عرصے سے کوشش میں تو تھے ہی لیکن بچوں کے اصرار کی وجہ سے جلد ہی ویزہ نکلوالیا۔ جس دن ہمارے پاسپورٹ اور ٹکٹیں ملیں، دونوں بچے خوشی سے اچھلنے لگے۔ ہم ۰۲/اکتوبر ۹۰۰۲ء کو سعودیہ پہنچ گئے۔ مسز سجاد اور مسز سلیم نے بہت پرجوش طریقے سے ہمارا استقبال کیا۔ جب تک ہمارا گھر سیٹ نہیں ہوا، ہمارا قیام و طعام اُن کے ہاں تھا۔ ساڑھے چھے سال بخاری صاحب نے جو خواب دیکھے تھے، وہ اب حقیقت کا روپ دھار چکے تھے۔ بڑا خوبصورت گھر، شاہی مہمانداری اور وہ سب کچھ جسے ہم ماضی میں چشمِ تصور سے دیکھتے تھے۔ صبح شام اٹھتے بیٹھتے حج کی باتیں ہوتیں۔ ایک رات ہم تینوں خاندان اکٹھے حرم گئے۔ گھڑی والے ٹاور کی نشانی مقرر کرکے تینوں اپنے اپنے بچوں کے ساتھ ہولیے۔ طواف کے دوران عطاء المکرِم نے پوچھا بابا آپ ہمارے لیے اداس نہیں ہوتے تھے؟ جوابًا کہا بیٹا میں بہت اداس ہوتا تھا۔ آدھی رات کو یہاں آجاتا تھا اور وہاں اوپر (اُس کو اوپر اُٹھاکر برآمدوں کی تیسری منزل کی طرف اشارہ کرکے کہا) ٹھنڈی ہوا میں آہستہ آہستہ طواف کرلیتا تھا۔ عطاء المنعم نے کہا بابا ہمیں بھی وہاں طواف کرائیں، تو بولے ابھی نہیں بیٹا، حج کے بعد ۔

جذبات کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ کسی بھی کیفیت کی شدت کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ بخاری صاحب بہت خوش تھے۔ وہ دنیا کی ہر خوشی اپنے بچوں کے قدموں میں لا ڈھیر کرنا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ رات عشا کی نماز پڑھنے گئے اور بہت دیر سے واپس آئے تو عطاء المنعم نے کہا بابا اِتنی دیر سے ہم آپ کا انتظار کرہے تھے۔ میری طرف دیکھتے ہوئے بولے: میں بہت خوش ہورہا تھا۔ اِن کو اور تمھیں خوش دیکھا تو مالک کا شکر ادا کررہا تھا جس نے مجھے اتنی استطاعت دی کہ میں اپنے بچوں کو خوشیاں دینے کے قابل ہوا۔

خوشی سے بچوں کو گود میں اُٹھاتے، چومتے۔ اُن کی بلائیں لیتے نہ تھکتے تھے۔ اُن کی فرمائشیں پوری کرتے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ وقت بڑی سرعت سے گزر رہاتھا۔ یہ جلد از جلد اپنے تمام کام سمیٹ رہے تھے۔ ۴۱/نومبر ہفتے کا دن بہت مصروف گزارا۔ میرے ماموں ممانی حج کے سلسلے میں چند ہی دن بعد آنے والے تھے۔ اس سلسلے کے تمام امور کو حتمی شکل دی۔ رات گئے Translation کا کام مکمل کیا۔ کھانا کھایا۔ وتر پڑھے۔ روز کا معمول تھا کہ سوتے وقت لیٹے لیٹے ایک ایک تسبیح استعفار اور درود شریف کی ضرور پڑھتے۔ لیکن اِس رات بہت دیر تک کمروں میں ٹہلتے رہے اور ساتھ تسبیح بھی پڑھتے رہے۔ اِس رات سعودیہ کی فٹ بال ٹیم کوئی میچ جیتی تھی۔ سعودی نوجوان رات ایک بجے فتح کے جھنڈے لہراتے، گاڑیوں کے ہارن خاص سٹائل میں بجاتے سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ ایک بے ہنگم شور تھا کہ سو نہیں سکتے تھے۔ دونوں بچے بھی کھڑکی سے منہ باہر نکالے اُن کی اچھل کود سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ یہ بڑی مشکل سے اُنھیں یہ کہہ کر لائے کہ یہ اب تین چار دن یہی کچھ کریں گے۔ صبح باہر جاکر دکھا لاؤں گا۔

۵۱/نومبر کا سورج ہمارے لیے عجیب پیغام لیے طلوع ہوا تھا۔ حج کی چھٹیاں شروع ہورہی تھیں۔ کہنے لگے آج جلدی آؤں گا۔ ہوسکتا ہے صرف حاضری ہی ہو کیونکہ طلبہ کی اکثریت غیرحاضر ہوتی ہے اِس لیے پیریڈ فارغ ہوں گے۔ ناشتے کے بعد ٹھیک نو بج کر پچاس منٹ پر گھر سے نکلے۔ بچے حسبِ معمول اوپر کھڑکی سے اُنھیں یونیورسٹی جاتا دیکھ رہے تھے۔ جب تک نظروں سے اوجھل نہ ہوگئے بچے وہیں کھڑے رہے۔ چونکہ یہ جلدی آنے کا کہہ گئے تھے لہٰذا میں عطاء المکرِم کو پڑھانے کے ساتھ ہی دوپہر کے کھانے کی تیاری میں جُت گئی۔ سارے کاموں سے فارغ ہوکر میں ذرا دیر کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گئی کہ دوپہر ڈیڑھ بجے مسز سلیم اور مسزسجاد کے گھنٹی بجانے سے میری آنکھ کھل گئی۔

میرا خواب ادھورا رہ گیا تھا ۔۔۔اُنھیں اُن کے شوہروں نے مجھے سہارا دینے کے لیے بھیجا تھا، اِدھر میرے موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی، دفاعِ مدنی کا ایک شرطی مجھ سے میرا اور میرے زوج کا نام پوچھ رہا تھا۔ وہ مجھے میری متاعِ حیات لٹنے کی اطلاع دینا چاہ رہا تھا، کاتبِ تقدیر کی لکھت غالب آچکی تھی، میرے بخاری صاحب نے ندائے الٰہی پر لبیک کہہ دیا تھا، بخاری کی چٹکتی کلیاں ایک دم مرجھاگئی تھیں اور میں صرف ’’اچھا مالک‘‘ ہی کہہ پائی تھی۔

میں شارع ملک عبد العزیزپر تھی۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ میں مستشفیٰ ملک الفیصل میں بچوں کو اپنے بابا سے ملوانے لے جارہی تھی۔ وہ یونیورسٹی سے پڑھاکر آچکے تھے۔ اب اُنھیں اپنے خوابوں کے محل جانے کے لیے تیار ہونا تھا۔ عطاء المکرِم کے بقول بابا نے اپنے گھر کو سیٹ کرنے کے لیے بہت محنت کی تھی نا، اِس لیے وہ تھک گئے تھے۔ ہاں بیٹا! اب اُنھیں تھکاوٹ اتارنے جنت المعلیٰ میں جانا تھا۔

سرد خانے کے انچارج نے جب اُن کے چہرے کو ہمارے لیے کھولا تو وہ اپنے بچوں کی آہوں اور آنسوؤں کی پروا کیے بغیر آرام کررہے تھے۔ اِتنے شدید ایکسڈنٹ کے باوجود اُن کے چہرے پر کسی قسم کی تکلیف کے کوئی آثار نہ تھے۔ پیشانی کے محراب پر سٹیرنگ کے دو نشانوں کے علاوہ کوئی خراش تک نہ تھی۔ میں رات کو مکہ کے نواحی مقام الرصیف میں مغسلۃ الامویہ الخیریہ میں اُن کو آخری سلام کرنے گئی تو میں نے دیکھا کہ اُن کے دوست سجاد صاحب اور سلیم صاحب اپنے رفقا کے ساتھ مل کر اُن کو تیار کررہے تھے۔ میں اُن کی وفا و عظمت کو سلام پیش کرتی ہوں۔ تھوڑی دیر بعد وہ مجھے اُن کے پاس لے گئے۔

بنو ہاشم کا شاہ زادہ۔۔۔ اماں خدیجہ کا لاڈلا۔۔۔ سفید براق جیسا لباس پہنے۔۔۔خوشبوؤں میں نہائے میٹھی نیند سورہا تھا۔۔۔ حوروں کا دولہا مسکرا رہا تھا ۔۔۔ بخاری! ذرا آپ اِن معصوموں کے ننھے ننھے ذہنوں میں کلبلاتے سوالات تو سنتے۔ عطاء المکرِم کہتا ہے امی، بابا نے تو کہا تھا کہ ہم اکٹھے رہیں گے۔ پہلے مزملہ چلی گئی۔ اب بابا بھی اُس کے پاس چلے گئے۔ ہم کس کے پاس رہیں گے؟ امی ہمارا وقت کیوں نہیں آیا؟ عطاء المنعم نے اپنی فوجی جیپ کو اینٹیں مار کر ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ کہتا ہے کہ یہ شرطی کی گاڑی ہے۔ اِس نے میرے بابا کی گاڑی کو ٹکر ماری تھی۔

بخاری! آپ کے بچے اب Blocks سے مکان اور پُل بنانے کی بجائے حرم اور جنت المعلیٰ کے ڈھانچے بناتے ہیں۔

میں سوچتی ہوں بخاری! آپ تو اپنے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیتے تھے۔ اور اب اپنی کمی دے گئے ہیں۔ آپ تو اِن کی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھ سکتے تھے، تمام عمر کے لیے آنکھیں نم کرگئے ہیں۔

سیدہ اُم مزملہ بتول

تانیہ
12-20-2010, 09:22 PM
تھینکس...