PDA

View Full Version : آج بھی ہوجو براہیم سا ایماں پیدا



العلم
03-20-2014, 08:43 AM
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
حضرت ابراہیم کی پوری زندگی آزمائش سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مختلف مقامات پر مختلف چیزوں سے آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔کبھی نمرود سے مباحثہ ہوا، کبھی وطن کو خیرباد کہا، کبھی آتش نمرود میں بےخطر کود نے اور کبھی حکم خدا کی تعمیل میں اپنے جگر گوشہ کے حلقوم پر چھری پھیرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اتنے امتحانات اگر عام انسان کی زندگی میں ہوں تو وہ کامیابی کا سامنا کبھی نہیں کرسکتا۔لیکن اللہ کایہ نیک بندہ ہر ایک امتحان میں کامیاب وکامران رہا۔قرآن شریف کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیےگئے تمام امتحانات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے قرآن کی اس آیت:
(وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ) (البقرۃ:124)
"جب ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا۔"
اس آیت کے اندر کلمات کی تفسیر جن چیزوں سے کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
حکم الٰہی تعمیل میں قوم سے ان کی جدائی، نمرودسے ان کا مباحثہ، آتش نمرود میں پھینکے جانے پر صبر، وطن سے ہجرت، ضیافت ومہمان نوازی اور اس سلسلے میں پیش آمدہ ذاتی و مالی مشکلات پر صبر اور اپنے لاڈلے، لخت جگر ونورنظر کے ذبح کے لیے تیار ہو جانا شامل ہے۔ "کلمات" کی تعبیر میں گرچہ لوگوں نے بہت اختلاف کیا ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا تفسیر دل کو لگتی ہے۔ چنانچہ قرآن کے اندر مذکورہ تمام چیزوں کا ذکر انفرادی طور پر بھی موجود ہے۔
۱۔حضرت ابراہیم کا نمرود سے مباحثہ:
قرآن نے اس سلسلے میں فرمایا:
(أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَآجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رِبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ) (البقرۃ: 258)
"کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر (ابراہیم علیہ السلام سے) اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لاتا ہے، تو اسے مغرب کی طرف سے لے آ۔ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
یعنی حضرت ابراہیم نے نمرود باشاہ سے مباحثہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جس نے زندگی اور موت دیا ہے؟ تونمرود نے جواباً کہا کہ وہ تومیں بھی کرتا ہوں۔ حضرت ابراہیم نے پھر کہا کہ اللہ پورب سے سورج طلوع کرتا ہے،تم پچھم سےطلوع کر کے دکھاؤ۔ چنانچہ نمرود حیران وپریشان اور ششدر رہ گيا۔
۲۔ آتش نمرود اور حضرت ابراہیم:
(قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ) (الأنبیاء:68-69)
"قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ ہم نے فرمایا دیا: اے آگ تو ٹھندی پڑ جا اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا۔"
چنانچہ وہ آگ میں ڈالے جانے کے باوجود اس فرمان الٰہی کے تحت صحیح سالم بچ گئے۔
۳۔ وطن سے ہجرت:
حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمان الٰہی کی تعمیل میں وطن کو خیرباد کہا اور بےآب وگیاہ چٹیل میدان میں جو دعا کی اس کا تذکرہ قرآن نے یوں کیا ہے:
(رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ) (إبراھیم:37)
"اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بےکھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔"
۴۔ ایثار وقربانی:
ایک مدت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اولاد سے سرفراز کیے گئے۔ پھر اللہ نے اسی کی قربانی کا مطالبہ کر کے ان کے صبر وتحمل اور جذبۂ ایثار کا زبردست امتحان لیا جیسا کہ قرآن نے کہا:
(فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ) (الصافات:510)
"غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا، تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!، یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بےشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
قرآن کریم کی ان آیات بابر کات میں حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام کے انہی امتحانات اور آزمائشوں کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام اپنے تمام امتحانوں میں اتنے پورے اور کامل اترےاکہ انہوں نے حکم الٰہی کی تعمیل میں ہزاروں دعائیں اور منت وسماجت سے مانگی ہوئی اولاد کو بھی قربان کردینے سے دریغ نہیں کیا۔ کتنا پختہ تھا حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا ایمان، اور کتنا کامل تھا ان کا یقین، کہ وہ اپنے تمام امتحانات میں کامیاب رہے۔ ایمانِ ابراہیم کی یہی وہ پختگی اور عشق الٰہی کایہی وہ کارنامہ ہے کہ آگ بھی گلزار بن گئی۔ یقیناً ؎
آج بھی ہوجو براہیم ساایماں پیدا
آگ کرسکتی ہےانداز گلستاں پیدا
http://www.minberurdu.com/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8% D8%A7%D8%AA/%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AC %D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B3 %D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C %D8%AF%D8%A7.aspx