PDA

View Full Version : خطبۂ استسقاء(حصه اول)



العلم
03-21-2014, 05:49 PM
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،
میرے بھائیو!یاد رکھو جب کسی قوم میں برائی عام ہو جاتی ہے، تو وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ برا ئیوں کی کثرت اور زیادتی رزق سے محرومی اور رحمتوں اور برکتوں کے چھن جانے کا سبب بنتی ہے۔ اس سے فساد عام ہوتا ہے۔ بیماریاں پھیلتی ہیں۔ دشمنوں کا خوف دلوں پر چھا جاتا ہے۔ سوسائٹی اضطراب وبےچینی اور انتثار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک دن اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا:
"یامعشر المھاجرین خمس إذا ابتلیتم بھن وأعوذ باللہ أن تدرکوھن، لم تظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بھا إلا فشا فیھم الطاعون والأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافھم الذین مضوا، ولم ینقصوا المکیال والمیزان إلا أخذوا بالسنین وشدۃ المؤونۃ وجور السلطان علیھم، و لم یمنعوا الزکاۃ فی أموالھم إلا منعوا القطر من السماء و لو لا البھائم لم یمطروا، ولم ینقضوا عھد اللہ وعھد رسولہ إلا سلط اللہ علیھم عدوا من غیرھم فأخذوا بعض ما فی أیدیھم، و ما لم تحکم أئمتھم بکتاب اللہ ویتخیروا مما أنزل اللہ إلا جعل اللہ بأسھم بینھم" (ابن ماجہ وحاکم)
"اے مہا جرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے (اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فسق وفجور اور زناکاری ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں، جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور ظلم وجور کے شکار ہو جاتے ہیں۔تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کو توڑ دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہو تا ہے ان سے چھین لیتا ہے۔پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جواللہ نے نازل کیا ہے، اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتاہے۔"
میرے بھائیو!گناہوں کی نحوست ہوتی ہے۔ اس کے اثرات بد اور برے انجام ہوتے ہیں، جنہیں قوموں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے، کتنی قومیں اپنے گنا ہوں کے پاداش میں ہلاک وبرباد کردی گئیں۔
ارشاد باری ہے :
(وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِين) (الأنبیاء:11)
"اور بہت سی بستیاں ہم نے تباه کر دیں جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا۔"
ایک جگہ ارشاد ہے۔
(كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ. وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ. وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ. كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ.فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ) (الدخان: 25-29)
" وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔ اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔ اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے۔ اسی طرح ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا۔ سو ان پر نہ تو آسمان وزمین روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔"
گناہوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں، اور آفات ومصائب، اور بلیات نازل ہوتی ہیں، اور لوگ فتنوں اور آزمائشوں میں مبتلا کردیے جاتے ہیں۔ ارشاد باری ہے :
(إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ) (الرعد:11)
"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لیں ۔"
میرے بھائیو! اللہ کی حکمت اور اس کی مشیت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ وہ اس علاقے میں رہنے والے بندوں کو آزمائے۔ وہ خوش حالی اور قحط اورفراخی وتنگی دونوں کے ذریعہ آزماتا ہے۔ یہ آزمائش بھی درحقیقت اس کی مہربانیاں اور اس کے الطاف ہیں۔ اس کا شعور اور ادراک وہی لوگ کر پاتے ہیں جو سچے اور مخلص مومن ہوتے ہیں ۔ ان آز مائشوں سے ایمان ویقین میں اضافہ ہوتا ہے، جب آزمائشیں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور پریشانیاں اور مصائب وآرام سخت ہوجاتے ہیں، تو اللہ کی نصرت ومدد کا وقت بھی قریب آ جاتا ہے۔
ارشاد باری ہے :
(حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا) (یوسف :110)
"یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی۔"
ہلاکتیں اور مصیبتیں مومن کی توجہ مخلوقات سے ہٹا کر اس کے خالق کی طرف پھیر دیتی ہیں، اور وہ صدق دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اور اللہ سے عاجز ی وگریہ وزاری میں لگ جاتا ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے، جو بلاؤں، آفتوں اور آزمائشوں میں اپنی عجز وبےبسی اور بےچارگی کا اظہار نہیں کرتے، اور اپنے رب کی طرف رجوع نہیں ہوتے۔
ارشاد باری ہے:
(وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُون) (المؤمنون:76)
"اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔"
اللہ تعالیٰ ایسے بد بخت لوگوں میں سے ہمیں نہ بنائے۔ آئیے، ہم صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس سے توبہ واستغفار کریں۔ اپنے گناہوں، خطاؤں اور کوتاہیوں کو یاد کریں اور اس سے معافی طلب کریں، اس کے سامنے رو رو کر، گڑگڑا کر، اس سے اس بات کا عہد کریں کہ ہم سے پھر یہ گناہ سرزد نہ ہوں گے۔ یاد رکھیں، دل کی آہ وزاری اور آنکھوں کے آنسوؤں سے بڑھ کر اس کی بار گاہ میں کوئی شفیع نہیں۔ ہم سے جس طرح بھی ہو سکے، ہم اپنے پیدا کرنے والے کو راضی کریں، اور اسے منائیں۔ ہم نے اپنی بداعمالیوں سے اسے ناراض کر دیا ہے۔
آئیے، ہم اس سے یوں دعا کریں۔ بار الہا! ہم نے اپنی بداعمالیوں سے تیری مقدس زمین کو نا پاک اور گندہ کردیاہے۔ ہم اپنی سزاؤں کو پہنچ چکے ہیں۔ اب ہم میں مزید طاقت نہیں ہے کہ ہم تیرے غضب وناراضگی کو برداشت کر سکیں۔ اے "حی" اور "قیوم" ہم پر رحم فرما۔ ہمارے قصوروں کو معاف فرما۔ ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پرنادم وشرمسار ہیں۔ اگر چہ ہماری خطائیں بےشمار ہیں؛ لیکن ہم تو تیرے ہی بندے اور غلام ہیں۔ تو اگر ہم سے منہ موڑےگا، تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ ہمارے معصوم بچے پیاس سے بلک رہے ہیں، ہمارے چوپائے بھوک وپیاس سے مر رہے ہیں، ہماری لہلہا تی کھیتیاں خشک ہو گئی ہیں، ہماری خطاؤں کی سز ا ہمارے معصوم بچوں اور بےجان چوپایوں اور ہماری کھیتیوں کو نہ دے۔ بارالہا! ہم پر کرم فرما۔ ہم اپنے گناہوں پر بےحد نادم وشرمسار ہیں۔ اور رو رو کر تجھ سے اس بات کا عہد کرتے ہیں، کہ اب ہم ان گناہوں کے قریب نہ پھٹکیں گے۔ بار الہا! ہمیں اپنی ناراضگی کا شکار نہ بنا،ہم پر ہمارے معصوم بچوں پر رحم فرما ۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے محروم نہ کر۔
(اللھم أنت اللہ لا إلہ إلا أنت، أنت الغنی ونحن الفقراء أنزل علینا الغیث واجعل ما أنزلت لنا قوۃ وبلاغا إلی حین)
"اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما، اور جو تو نازل فرما اسے ہماری قوت (رزق)بنا دے، اور ایک مدت تک اس سے ہمیں فائدہ پہنچا۔"
(اللھم أغثنا غیثا مغیثا مرئیا مریعا نافعا غیر ضار عاجلا غیر آجل)
"اے اللہ تو ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریادرسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزی اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے آنے والی نہ ہو۔
(اللھم اسق عبادک وبھائمک وانشر رحمتک وأحی بلدک المیت)
"اے اللہ تو اپنے بندوں اور چو پایوں کو سیراب فرما۔ اپنی رحمت کو عام فرما ۔ اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما۔
(اللھم أنبت لنا الزرع وأدر لنا الضرع وأنزل علینا برکاتک)
" اے اللہ! تو ہماری کھیتیاں پھر سے سبز وشاداب فرما ، ہمارے چوپایوں کے تھنوں کو دودھ سے بھر دے، ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما۔اے اللہ ! ہماری پریشانیوں کو دور فرما دے اور ہم پر آئی ہوئی اس مصیبت کو ٹال دے۔ بلاشبہ تو ہی بلاؤں، مصیبتوں اور آفتوں کا ٹالنے والا ہے۔ ہم تجھ سے مغفرت وبخشش طلب کرتے ہیں۔ تو بہت بڑا غفار ہے۔ ہمارے اوپر اپنی باران رحمت نازل فرما۔"
اے اللہ! تو ہمیں اپنی باران رحمت سے سیراب کر، ہمیں خوف سے امن دے، ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ فرما، ہمیں قحط اور خشک سالی سے ہلاک نہ فرما۔ اے اللہ! تو ہمارے دودھ پیتے بچوں پر رحم فرما۔ ہمارے بےعقل چوپایوں پر رحم فرما۔ ہمارے بوڑھوں ، کمزوروں اور ناتوانوں اور بیمار لوگوں پررحم فرما۔ اور اپنی تمام مخلوق پر رحم فرما۔
(رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ) (البقرۃ: 286)
"اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا ہم نے خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! تو ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔"
(اللھم إدفع لنا القحط والبلاء والوباء والربا والزنا والزلزال والمحق وسوء الفتن ما ظھر منھا وما بطن عن بلدنا وعن سائر بلاد المسلمین)
"اے اللہ کے بندو! اپنے نبی کی سنت کی اقتدا کرتے ہوئے، تم بھی اپنی چادریں پلٹ لو اور اللہ سے رو رو کر دعائیں کرو ، اور گڑاگڑا کر اس سے رحمت کا سوال کرو، تم یقین رکھو ، اللہ تمہاری دعائیں ضرور قبول کرےگا۔
کثرت سے توبہ واستغفار اور صدقہ وخیرات کرو ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو ، لوگوں کے حقوق ادا کرو ، ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ یقین رکھو، اللہ تعالیٰ کی رحمت ضرور تمہیں ڈھانپےگی۔ وہ تمہیں، تمہارے بچوں، تمہارے چوپا یوں اور تمہاری کھیتیوں کو اپنی باران رحمت سے ضرو ر سیراب فرمائے گا۔
(سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ علی النبی الکریم)
http://www.minberurdu.com/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%A8% D8%B1/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8% D8%A7%D8%AA/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B3% D9%82%D8%A7%D8%A1.aspx

بےباک
03-22-2014, 08:25 AM
جزاک اللہ ، بہترین دینی معلومات ہیں ،