PDA

View Full Version : خطبه استسقاء (حصه دوم)



العلم
03-21-2014, 05:51 PM
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،
برادرانِ اسلام!سب سے پہلے میں اپنے آپ کو پھر آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ سے ڈرنے کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ جن کاموں کواس نے کرنے کا حکم دیا ہے اسے کیا جائے اور جن کاموں سے روکا ہے اس سے رک جایا جائے، قرآن کی زبان میں اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ اور یہی تقویٰ ہی نجات وسلامتی او ر فلاح وکامرانی کا دار ومدار ہے۔ جولوگ اللہ سے ڈر کر اس کے حکم پر عمل کرتے او ر اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں وہی اللہ کے عذاب سے نجات پا سکیں گے۔
ارشاد باری ہے:
) ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا) (مریم: 72)
"پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔"
اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا ہے اس کے وارث بھی یہی لوگ ہوں گے جو اللہ سے ڈر کر نیک عمل کریں گے اور برے کاموں سے بچیں گے۔ ارشاد باری ہے:
(تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيًّا) (مریم:63)
"یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔"
نیز ارشاد باری ہے :
(إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ) (المائدۃ :27)
"اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔"
میرے بھائیو!گنا ہوں پر پردہ ڈالنے والی اور ہماری خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کر نے والی ذات صرف اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں سے فر ماتا ہے:
(وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون) (النور:31)
"اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔"
وہ انہیں ملأ اعلیٰ میں آواز دیتا ہے:
(یا عبادی إنکم تخطئون باللیل والنھار وأنا أغفر الذنوب جمیعا فاستغفروا لی أغفر لکم)
"اے میرے بندو!تم رات اور دن خطائیں کرتے ہو، اور میں تمہارے سارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں، لہذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا۔"
اللہ تعالی ٰ اپنی ساری مخلوقات کو جانتا اور ان سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ ان کی ساری کمزوریوں اور خامیوں سے آگاہ ہے۔ اسی لیے وہ اپنی بخشش ومغفرت کا دروازہ ان کے لیے ہر آن کھلا رکھے ہے اور انہیں اپنی جنت اور بخشش کی طرف بلا تا ہے۔
ارشاد باری ہے :
(وَاللَّـهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ ۖ) (البقرۃ: 221)
"اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے۔"
ہمارے رب کی رحمتیں بے پا یاں ہیں ا ن کا کوئی حسا ب نہیں۔ وہ دینے سے کبھی ختم بھی نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے بندوں پر بہت رحیم وشفیق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں جو ان کے گناہ معاف کرے۔
(وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـه) (آل عمران: 135)
" فی الواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟"
میرے بھائیو!امت میں جب توبہ واستغفار کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ ان سے اپنی ارضی وسماوی آفات ومصائب کو دفع فرما دیتا ہے۔
ارشاد باری ہے:
(وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ) (الأنفال: 33)
"اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرےگا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دےگا اس حالت میں کہ وه استغفار کرتے ہوں۔"
توبہ وا ستغفار سے اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں، ارشاد ہے:
(لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) (النمل: 46)
"تم اللہ تعالیٰ سےاستغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"
میرے بھائیو!فرد اور سو سائٹی کی فارغ البالی اور خوشحالی اور مالداری میں اضافےمیں اور توبہ واستغفار کے ذریعہ پاکی میں بہت گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی حقیقت کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلا تے ہوئے ان سے فرما یا تھا:
(اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا۔ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا۔ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا) (نوح:10-12)
"اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دےگا۔ اور تمہیں خوب پےدرپے مال اور اولاد میں ترقی دےگا اور تمہیں باغات دےگا، اور تمہارے لیے نہریں نکال دےگا۔"
سب سے افضل استغفار یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ کی حمد وثنا سے اس کی شروعات کی جائے۔ پھر اس کے انعامات واحسانات اور نوازشوں کا ذکر کیا جائے۔ پھر اپنے گنا ہوں اور کو تاہیوں کا اعتراف واقرار کیا جائے۔ اس کے بعد اس سے مغفرت وبخشش کا سوال کیا جائے۔ جیسا کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :
(سید الاستغفار أن یقول العبد: اللھم أنت ربی، لا إلہ إلا أنت، خلقتنی وأنا عبدک، وأنا علی عھدک و وعدک ما استطعت، أعوذ بک من شر ما صنعت، أبوء لک بنعمتک علی، و أبوء بذنبی، فاغفر لی، فإنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت) (بخاری)
"سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ کہے: اے اللہ ! تو میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے۔اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور جہاں تک طاقت رکھتا ہوں، تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، اور میں اپنے کیے ہوئے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ان نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں ، جو تونے مجھ پر کیں ہیں، اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ پس تو مجھے معاف فرما دے۔ بےشک تیرے سوا کوئی گنا ہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔
اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ دعا سید الاستغفار اس لیے ہےکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت اور اس کی توحید کے اقرار اور اعتراف پر مشتمل ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں بندے کے اپنے عجز وتقصیر اور اپنی کوتاہیوں کا بھی اعتراف واظہار ہے۔
اللہ کے بندے!تمہیں ایک ایسی ذات نے پیدا کیا ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے۔ وہی تمہیں وفات دےگی، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرےگی، اور تم اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش کیے جاؤ گے۔ اس لیے اس دن کی تیاری کر لو، اور اس دن کے لیے توشہ جمع کرلو۔
میرے نوجوان بھا ئیو!کیا تم بڑھاپے کا انتظار کررہے ہو؟ اور اس انتظار میں ہو کہ تمہیں کوئی بیماری آ دبوچے اور تم عمل کرنے کے لائق نہ رہ جاؤ۔ یاد رکھو، موت پہلے سے بتا کر نہیں آئےگی۔ وہ اچانک آئےگی۔ اس لیے ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ اور ہم نے جو گناہ کے کام کیے ہیں، نیک اعمال کر کے اس کی تلافی کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنائے جنہوں نے اپنی عمریں ضائع کردیں اور مرنے کے قریب پہنچ گئے اور ابھی تک آنے والی زندگی کے لیے کوئی سامان نہیں کیا۔
میرے بھائیو!اپنے اس رب سے ڈرو جو تمہارا پالنہار اور پروردگار ہے۔ نیکی کے کام کرو اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرو ۔ برائی سے اور بےحیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔لوگوں کےحقوق کا خیال رکھو ۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو ۔ بھوکوں کو کھانا کھلا ؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرو ۔ اور اللہ کی راہ میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرو ۔ یہی وہ اعمال ہیں جو ہمیں اللہ کی ناراضگی سے بچا سکتے ہیں۔
میرے بھائیو!اس جگہ ہم اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ ہم اپنے رب سے اس قحط اور خشک سالی کی شکایت کریں، جو ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے ہم پر مسلط ہو گئی ہے۔ ہم اس سے بارش طلب کریں، جس کی خود ہمیں ہمارے چوپایوں اور ہماری کھیتیوں کو شدید ضرورت ہے، جو ہمیں اللہ کو خوش کیے بغیر نہیں مل سکتی ہے ۔ اس لیے ہم اپنے نیک اعمال کے حوالے سے رو رو کر گڑگڑا کر اس سے دعائیں کریں ، اور اپنی عاجزی وبےچارگی اور محتاجی کا اقرار واعتراف کریں اور اپنی کوتاہیوں اور بداعمالیوں پر افسوس وندامت کا اظہار کریں اور آئندہ اس سے باز رہنے کا پختہ عہد کریں۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود وسلام بھیجیں کیونکہ دعائیں اس وقت تک آسمان وزمین کے درمیان موقوف ہو تی ہیں، جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام نہ بھیجا جائے۔
اللھم صل وسلم وبارک علی عبدک ورسولک محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
میرے بھائیو!ہم پر جو آفتیں اورمصیبتیں آتی ہیں، وہ ہماری بداعمالیوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
ارشاد باری ہے :
(وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (الأعراف:96)
"اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔"
دوسری جگہ ارشاد ہے:
(وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِير) (الشوری:30)
"تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہیں اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔"
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
(ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا) (الروم: 41)
"خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے۔"
میرے بھائیو! آسمان سے جو بارش رک جاتی ہے اور کنویں، تالاب اور دریا خشک ہو جاتے ہیں، اور لہلہاتی کھیتیاں سوکھنے لگتی ہیں ، گھاسیں اور سبزیاں خشک ہو جاتی ہیں، جانور اور چوپائے بھوک اور پیاس سے مرنے لگتے ہیں ، (معاذ اللہ) یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس کے خزانے میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اس کا ہاتھ ہمیشہ بھرا ہوتا ہے۔ وہ دن ورات خرچ کرتا ہے۔ پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ قسم ہے اللہ کی! اس کی وجہ اور اس کاسبب صرف اور صرف ہماری بدعملی، کوتاہی اور اللہ کے احکام کی نافرمانی ہے۔ ہماری بداعما لیوں اور نا فرمانیوں سے ناراض ہو کر اللہ ہم سے اپنی رحمت روک لیتا ہے۔ اس لیے آئیے، ہم اپنے اعمال کا جا ئزہ لیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو شرک وبدعات میں گرفتار ہیں، ان کے عقیدے صحیح نہیں، جو تعلق اللہ سے ہونا چاہئے وہ دوسروں سے قائم کر رکھے ہیں۔توحید جو ہمارا مضبوط قلعہ ہے اور ہماری پناہ گاہ بھی، وہ ہمارے پاس نہیں رہی۔ تو ہم اللہ کے غضب کا شکار کیوں نہیں ہوں گے۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اس کی الوہیت کا اقرار اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
(لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِين) (الأنبیاء:87)
"الہٰی! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں ہو گیا۔"
چنانچہ اللہ کی مدد آتی ہے اور وہ اس مصیبت سے جس میں وہ گرفتار تھے نجات پالیتے ہیں۔
(فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِين) (الأنبیاء:88)
"تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں۔"
آئیے، ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ ہم میں کتنے ایسے ہیں جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں، اور کتنے ایسے ہیں جو من چاہی نماز پڑھتے ہیں۔ جب ان کا دل چاہتا ہے پڑھتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا نماز کا چھوڑ نا اکبر الکبائر نہیں؟ بہت سے محققین اہل علم کے نزدیک جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینے سے آدمی دائرۂ اسلام ہی سے نکل جاتا ہے۔
بریدہ ابن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر) (ترمذی)
" ہم میں سے کتنے مالدار ہیں جو صاحب نصاب ہیں جن پر زکاۃ فرض ہے؛ لیکن وہ ز کاۃ نہیں دیتے۔ حالانکہ اللہ نے اپنی کتاب میں بےشمار مقامات پر نماز کے ساتھ زکاۃ کا ذکر کیا ہے اور اسے غریبوں اور محتاجوں کا حق بتایا ہے، اور اس کی ادائیگی کی تاکید فرمائی ہے۔ اس کے باوجود ہم اس کی حکم عدولی سے نہیں ڈرتے۔ اللہ کی رحمت ہم سے کیوں نہیں روٹھےگی۔
(فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّين) (التوبۃ:11)
"اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دینے لگ جائیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔"
ہمارے دین کا ایک رکن رکین امربالمعروف ونہی عن المنکر ہے؛ لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس ذ مہ داری کو پا بندی کے ساتھ نبھاتے ہیں ؟ ہم اپنی آنکھوں سے لوگوں کو منکر کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؛ لیکن ہم انہیں نہیں روکتے، اور اپنے بھائیوں کے لیے ہمارے اندر خیرخواہی کا کوئی جذبہ نہیں ابھر تا۔اسی طرح ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو سود خوری ، شراب نوشی ،زنا وحرام کاری میں مبتلا ہیں ، اور کھلے عام بےحیائی کے کام کرتے ہیں۔ کیا ہم کبھی خیرخواہا نہ طور پر ان سے ان کاموں سے باز رہنے کے لیے کہتے ہیں؟
(وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا وَإِذًا لَّآتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا) (النساء:66-68)
"اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیاده مضبوطی والا ہے۔ اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں۔ اور یقیناً انہیں راه راست دکھا دیں۔"
میرے بھائیو!ہم نے شرک وکفر کا ارتکاب کیا، نمازوں کو ضائع کیا، حرمتوں کو پامال کیا، ہمارے معاملات درست نہیں، سود خوری ہم میں عام ہے، گانے بجانے کی چیزوں ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ہم دلدا دہ ہیں، بےحیائی اور فحش کاری میں ہم سر سے پیر تک غرق ہیں۔ پھر اللہ اپنی رحمت کو ہم سے کیوں نہیں روک لےگا؟ جب کہ صحیح حدیثوں سے ثا بت ہے کہ زکاۃ کی عدم ادائیگی ، حرام خوری اورامر بالمعروف ونہی عن المنکر کو چھوڑ دینے سے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے۔
(اللھم لا تقتلنا بغضبک) "اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب کا شکار نہ بنا۔"
(اللھم لاتھلکنا بعذابک) "اے اللہ! تو ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر۔"
http://www.minberurdu.com/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%A8% D8%B1/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8% D8%A7%D8%AA/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B3% D9%82%D8%A7%D8%A1.aspx

بےباک
03-22-2014, 08:26 AM
جزاک اللہ ، بہترین دینی معلومات پیش کی ہیں آپ نے ،
اس پر بے حد شکریہ