PDA

View Full Version : کعبے کا امام



گلاب خان
12-17-2010, 02:59 PM
امام مکے سے آیا تھا اور نماز ملتان میں پڑھی جارہی تھی، ہر طرف سرہی سر تھے اور ہرجگہ صفیں ہی صفیں۔ مدرسے کی وسیع مسجد اور اس سے ملحق سبزہ زار بھی، کھلا میدان بھی اور روشیں بھی ۔۔۔حتیٰ کہ مدرسے سے باہر کی سڑکیں بھی، صف بستہ نمازیوں سے پُرتھیں۔امام صاحب نے اس دن مغرب کی پہلی دورکعتوں میں، قدرے طویل تلاوت کی تھی لیکن مغرب کی نماز کوآخر کتنا طویل ہونا تھا؟نماز ختم ہوگئی۔ ایک کیفیت ختم ہوگئی۔ یوں لگا کہ سماعت کوایک سرور اور دل کو ایک دھڑکن بس چند منٹ کے لیے ودیعت ہوئی اور پھر کھوگئی۔

آج اخبار میں خبر پڑھی کہ شیخ علی جابر، اللہ کو پیارے ہوگئے تو زبان سے بے اختیار نکلا ’’اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘۔ ذہن میں یکایک ایک تصویر سی چمک اٹھی۔ ۱۷سال پہلے کی وہ نماز ہمیں بہت یاد آئی جو شیخ علی عبداللہ بن علی جابر کی اقتدا میں‘ خیر المدارس ملتان میں ۱۹۸۸ء میں اداکی گئی تھی۔ تب وہ امام کعبہ تھے۔

حرم مکہ کے موجودہ ائمہ میں سے شیخ عبدالرحمن السدیس اور شیخ سعودالشریم اپنے اپنے منفرد لہجوں سے گویا گوشِ سماعت اور گوشِ دل کے فاصلے مٹا دیتے ہیں۔ لیکن اس سال رمضان میں‘ شیخ صلاح البدَیْر اور شیخ عبداللہ عواد الجہنی، مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ بلائے گئے۔ تراویح اور قیام کے لیے۔ مدینہ والوں کوان کا بلایا جانا اچھا تو نہیں لگا لیکن حرم مکہ کے نمازیوں کے لیے رمضان کی یہ راتیں پہلے سے کہیں بڑھ کر یادگار اور پرکیف رہیں۔آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی، سسکیوں میں دبی ہوئی اور تاثیر سے بھری ہوئی۔ صلاح البدیر، قدم قدم پر رودیتے ہیں، بالکل یوں جیسے بچہ بے تابانہ بلکتا ہے۔ اور عبداللہ الجہنی، جوان بلکہ نوجوان، پڑھتے نہیں بہتے ہیں۔ ایسا بہاؤ جس میں عجز، مسکنت، حلاوت، سکینت اور نجانے کیا کچھ سننے والوں کو بہائے لیے جاتا ہے۔

شیخ علی جابر کی وفات کاسنا تو دل میں وہ جو ایک امید سی تھی کہ شاید کبھی ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا ایک بارپھر نصیب ہو، وہ امید دم توڑ گئی۔ ادھر ملتان میں تھاتو حبیب گرامی، مولانا حبیب الرحمن ہاشمی حفظہ اللہ کی تلاوت میں شیخ علی جابر کی طرزِ ادا کا عکس سادیکھا کرتاتھا۔ تجوید میں نے سیکھی نہ پڑھی،لیکن یونہی ایک دلچسپی سی پیدا ہوگئی۔ نتیجہ یہ کہ اپنی محرومی کا احساس بھی پیدا ہوا۔ اور یہ احساس گردو پیش پر نظر کرتے اور شدید۔۔۔اور گہر ا ہوجاتا ہے۔ قرآن کا پڑھنا، ترتیل کے ساتھ پڑھنا، لحون عرب میں پڑھنا اور حضور قلب سے پڑھنا ۔۔۔افسوس ان میں سے ایک ایک لغت پر زوال آرہا ہے، اور ہم اپنے زوال کی نشانیاں نجانے کہاں ڈھونڈرہے ہیں؟

ایک لطیفے کی بات یادآگئی۔ کچھ روز ہوئے ایک دوست کے یہاں بیٹھا تھا۔ ٹی وی پر کوئی ہندوستانی چینل چل رہا تھا۔ ایک پروگرام پیش کیا گیا ۔۔۔’’استاد بسم اللہ خان‘‘ پر۔ استاد، اس وقت ہندوستان کے سب سے بڑے شہنائی نواز ہیں۔ بہت بوڑھے، چہرے پر جھریاں، وجود اکہرے سے بھی کچھ کم۔ لیکن آنکھوں میں چمک، بدن میں چستی اور سانس پر تو ایسا قابو کہ دیکھنے والے کاسانس، جسے دیکھ کر ہی رک جائے۔ استاد نے بہت سی باتیں کیں۔ فن موسیقی پر۔ اس کی مشرقی اور کلاسیکی روایت پر۔ لیکن ان کا سب سے زیادہ زور اس بات پر تھا کہ سچا سُر، سچے من سے پھوٹتا ہے۔ ریاضت اپنی جگہ، لگن اپنی جگہ لیکن۔۔۔دل و نظر جو ’’مسلماں‘‘نہیں تو کچھ بھی نہیں۔پھر استاد نے ’’سارے گاماپا۔۔۔‘‘کوالٹ پلٹ کر عجیب پرسوز انداز میں دوچار بار گایا۔ اچانک بولے، اب سنیے۔ کیا؟ارے ۔۔۔استاد نے کہا ’’اللہ جل جلالہ‘‘۔کہا نہیں۔۔۔گایا۔ جم کر اور ڈوب کر۔ ایک بار، دوبار، تین بار۔ اور واقعہ یہ ہے کہ استاد کی آواز سننے والے کے پورے وجود میں سرایت کررہی تھی۔ مجھے اس وقت ماموں سید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اللہ علیہ بہت یادآئے۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ سانس روکنے اور کھینچنے کی کیفیات میں اللہ کا ذکر، ہمارے تصوف میں ہندوؤں کے یہاں سے آیا ہے۔ بول، بندش، راگ، راگنی، سُر،تال، خیال ۔۔۔ غرض موسیقی کوکتنی ہی جہتوں سے ’’مسلمان‘‘بنانے کی کوششوں میں ہم نے سلوک وتصوف کو ’’موسیقیا‘‘دیا۔ایک اہم حوالہ، اس ضمن میں، وہ قاری محمدطاہر قاسمی رحمتہ اللہ علیہ (قاری محمدطیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے بھائی)کی کسی کتاب سے ہمیشہ دہرایا کرتے تھے۔ مجھے وہ حوالہ مستحضر نہیں، البتہ کتاب کا دیکھنا خوب یاد ہے۔

عام ائمہ مساجد کا کیا کہنا، ہمارے ہاں اچھے اچھے فارغ التحصیل مولوی صاحبان کو، اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرماویں، نہیں معلوم کہ تلاوتِ قرآن کی ’’لذت‘‘کیا ہوتی ہے۔ وہ کونسا نور ہے جو کانوں کے راستے سے دل میں، اور دل سے پورے وجود انسانی میں سرایت کرتا ہے۔ گستاخی معاف !بڑے بڑے دھواں دار بلکہ دھاری دار خطیب، مقرراور واعظ ہمارے یہاں قرآن کو مجہول پڑھتے ہیں۔ اور بدآوازی؟ سننے والوں کے لیے یہ ایک ’’دردناک عذاب‘‘ہے جومستزاد ہے۔ وعظ فروشوں اور خطابتی سوداگروں میں البتہ کچھ ایسے بدنفس بھی ہوتے ہیں جو باقاعدہ راگوں راگنیوں میں تلاوتِ قرآن کرتے ہیں۔ ۱۹۹۶ء میں، میری ملازمت لیہ میں تھی۔ وہاں ایک صاحب ہمارے ساتھ ہی ملازم تھے۔ تعارف بڑھا تو معلوم ہوا کہ آپ کلاسیکی موسیقی سے خصوصی علاقہ رکھتے ہیں۔ ایک رافضی مولوی نے ان سے باقاعدہ راگ سیکھے اور پھر راگ میں تلاوت کی مشق کی۔ پھر موصوف نے ’مجلس خوانی‘‘ میں ’’تلاوت‘‘سے رُلادینے کی شہرت پائی اور ’’حافظ صاحب‘‘کہلائے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’آداب تلاوت تو بہت ہیں مگر میں ایک ہی ادب بیان کرتا ہوں جس میں سب آجائیں۔ یوں خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ تم پڑھو، ہم سنتے ہیں۔ تب یقیناًسنوار کرپڑھے گا‘‘۔جس چیز کو حضرت نے سنوار کر پڑھنافرمایا، اس میں سرزمینِ مصر کااپنا ایک امتیاز ہے۔ سال بھر ہوا۔ ایک روز شام(Syria)کے ایک قاری صاحب کو،شام ہی کے ٹی وی سے تجوید کاپروگرام پیش فرماتے دیکھا۔ انھوں نے تجوید کے بعض قواعد وقوانین اور کلیات وضوابط کی وضاحت بھی کچھ فرمائی، (یہ ایک سلسلہ وار پروگرام تھا)لیکن ایک بات کوخصوصًا واضح فرمایا، اور یہ وہی بات تھی جس کی طرف ہمارے یہاں توجہ کم کم ہے۔ یعنی ۔۔۔طرزِ ادا۔انھوں نے اس کے لیے ’’نغم‘‘(ن غ م)کالفظ استعمال فرمایا، جس کی جمع انغام اور اناغیم آتی ہے۔ جس خوبی سے اور عملی مشق سے انھوں نے مصر کے اکابر اور مشائخ قراء کے لہجوں کی اور لحون کی وضاحت فرمائی، وہ دیدنی بھی تھی اور شنیدنی بھی۔ عبدالباسط، محمدصدیق المنشاوی، مصطفی اسماعیل اور ان سے بھی پہلے محمدرفعت اور عبدالفتاح شعشاعی وغیرہم (رحمتہ اللہ علیہم اجمعین)کی تلاوتیں سن کر دل پر جو چوٹ پڑتی ہے، اُس کے کئی بھید اس روز کھلے۔ فن کے اسرار اورنزاکتیں کھلیں۔افسوس ان قاری صاحب، جو خاصے بزرگ لیکن بہت پردم تھے، کا نام بھول گیا۔

میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ تجوید ہرگز ہرگز میرا میدان نہیں۔ لحن خفی، لحن جلی، یا ۔۔۔اظہار،اخفاء، تفخیم، ترقیق وغیرہ کی مجھے ہوا بھی نہیں لگی۔ ہاں البتہ کچھ ایسی آوازیں تلاوت کی، ضرور ان کانوں نے براہِ راست سنی ہیں کہ اب ان سے بہتر آوازیں شاید ہی سننے کوملیں۔مثلًا قاری عبدالوہاب العوفی المکی رحمتہ اللہ علیہ جو ماموں سید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور سید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ کے استاد تھے اور امام القراء حضرت قاری عبدالمالک رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلے کے نمائندہ بزرگ تھے۔ ماموں عطاء المحسن بخاری علیہ الرحمتہ، خود قاری عبدالمالک رحمتہ اللہ علیہ کے شاگر دتھے۔ وہ بتلایا کرتے تھے کہ قاری صاحب مجھے فرماتے ’’آواز کو پھینکنا سیکھو، جیسے تمھارے ابا پھینکتے تھے‘‘۔اور پھر جنھوں نے سید عطاء المحسن بخاری علیہ الرحمتہ کوسنا ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ آواز کایہ ’’پھینکنا‘‘قدرت کاان پر ایسا انعام تھا، جس میں وہ لاکھوں نہیں، کروڑوں میں ممتاز تھے۔ آواز میں رس،رچاؤ، بلندی، کراراپن، طاقت اور دم۔۔۔یہی ان کی طرزِادا اور ان کا ’’نغم‘‘ تھا۔ ان کے معاصرین کاکہنا تھا کہ یہ خاص قاری عبدالمالک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کارنگ تھا۔ ناناابا(امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری علیہ الرحمتہ) کو میں نے سنا نہیں۔ لیکن اتنا تو معلوم ہی ہے کہ ا ن کے استاد شیخ عمر عاصم رحمتہ اللہ علیہ، عرب تھے۔ خود قاری عبدالمالک صاحب ؒ ، جوبلاشبہ اپنے عہد کے امام القراء تھے، فن کی یہ سوغات لینے لکھنؤ سے مدرسہ صدیقیہ مکہ مکرمہ پہنچے اور فائز المرام لوٹے۔ ان کے بھائی حضرت قاری عبدالخالق صاحب ؒ بھی ہمراہ تھے۔ ادھر حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی تینوں ماموؤں کو (سیدنا الامام ابوذربخاری رحمتہ اللہ علیہ کوچھوڑکر)خیر المدارس میں شرفِ تلمذ ملا۔ یہ ایک دوسرا سلسلۃ الذہب تھا۔جس کی طرزادا قاری محی الاسلام عثمانی رحمتہ اللہ علیہ اور قاری فتح محمد پانی پتی (مہاجر مکی) رحمتہ اللہ علیہ سے ہوتی ہوئی حضرت قاری رحیم بخش صاحب رحمہ اللہ تک پہنچی تھی۔

میں نے سوچا تھا کہ شیخ علی جابر رحمہ اللہ کی وفات پر ایک شذرہ لکھ کر ’’نقیبِ ختم نبوت‘‘ کے لیے بجھوا دوں۔ لیکن یہ تحریر پھیلتی چلی گئی۔ اس کا مزید پھیلاؤ روکنے کی تدبیر نہ کی تو ڈر ہے کہ یہ ایک سروپا قسم کا ’’مقالہ‘‘بن جائے گا۔ جبکہ ایسے مقالے لکھنے کے لیے پی ایچ ڈی یا ایم فل وغیرہ کا عنوان آج کل ضروری سمجھاجاتا ہے۔ باتیں تو بہت سی ہیں، لیکن اس تحریر کو چند سطروں میں سمیٹتا ہوں۔

شیخ علی جابر مرحوم کا پڑھنا، سید عطاء المحسن بخاری رحمہ اللہ کو پسند تھا۔انھیں شاید علم نہ ہوسکا کہ شیخ، انہی کے سلسلے میں نسبت تلمذ رکھتے تھے۔ یہ بات یہاں آکر معلوم ہوئی کہ مدینہ طیبہ میں مقیم قاری محمدخلیل صاحب حفظہ اللہ (جو اب سعودی ہیں)شیخ علی جابر کے استاد ہیں۔ جبکہ قاری صاحب، قاری محمد شریف صاحب رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔اور وہ شاگرد تھے قاری عبدالمالک کے۔

علی جابر ۵۳سال کی عمر میں۱۴/ دسمبر (۲۰۰۵ء)کو چل بسے۔ وہ مدینہ یونیورسٹی اور جدہ کی ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں استاد رہے۔ شاہ خالد مرحوم کے امام خاص رہے۔ اب ایک طویل عرصے سے بیمار تھے۔ آخر، یہ بیماری دائمی صحت اور جاودانی زندگی کے نئے سفر میں، مرحوم کاساتھ چھوڑ گئی۔ سفر زیست کی کہانی کا ایک باب مکمل ہوا اورنیا باب نئے ورق سے شروع ہوگیا۔ ایک چھوٹا سا ورق اُدھر پاکستان میں، میرے ’’گورستانِ کتب‘‘ میں بھی ضرور کہیں دبا ہوا پڑا ہے، جس پر شیخ علی جابر کے دستخط ثبت ہیں۔ بس ایک یاد۔ آٹوگراف کابس ایک صفحہ۔ اور کچھ بھی نہیں۔

نگارشات:سید ذوالکفل بخاری

تانیہ
12-20-2010, 09:20 PM
نائس شیئرنگ ...تھینکس

نورمحمد
05-19-2011, 04:19 PM
بہت خوب . . . جزاک اللہ