PDA

View Full Version : مرگی مرض دماغ کھاجاتا ہے



شاہنواز
03-28-2014, 01:23 AM
مرگی دماغ ’ کھا ‘ جاتی ہے ، تعویز نہیں ادویات سے علاج کرائیں :ماہرین
27 مارچ 2014 (23:58)


http://www.dailypakistan.com.pk/digital_images/350/2014-03-28/news-1395946905-3505.jpg

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں مرگی کے مریضوں کی تعداد پچاس لاکھ جبکہ پاکستان میں یہ تعداد بیس لاکھ ہے لیکن آگاہی اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ مریض دن بدن دماغ اور زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں جن میںچھوٹے بچوں اور نوجوانون کی تعداد زیادہ ہے ۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 50 لاکھ افراد مرگی کا شکار ہیں،پاکستان میں مرگی سے متاثرہ افراد کی تعداد دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 27اعشاریہ 5فیصد مریض شہروں جبکہ دیہی علاقوں کے صرف 2 اعشاریہ 9 فیصد لوگ مرگی کے مرض کا باقاعدہ علاج کرواتے ہیں۔دماغ کے علاج ومعالجے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مرگی کے مریضوں کو مزاروں پر لے جانے اور تعویذ گنڈوں کے بجائے اگر ان کا مکمل اور درست علاج کرایا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں مرگی کو بیماری نہیں سمجھاجاتا ، اکثر لوگ اسے جنات کا سایہ یا آسیب کہہ کر اس کے مریض پر تعویذ گنڈے کرانے اور مریض کو نارمل کرنے کیلئے مزارات اور پیری مریدی کا سہارا لیتے ہیں جس سے اس مرض کومزید نقصان پہنچتا ہے جبکہ مرگی کے دورے مسلسل پڑنے سے دماغ سخت متاثرہوتا ہے ، مرگی کے ایک دورے سے دماغ کے لاکھوں خلیات مردہ ہوجاتے ہیں۔اگر کسی مریض کو آدھے گھنٹے تک دورہ پڑتا رہے تو اس کا دماغ 25 فیصد بیکار ہوجاتا ہے جس کے لئے دوروں کو دواوئں سے روکنے کی ضرورت ہے"ماہر امراض دماغ کا کہناہے کہ پاکستان میں 70 فیصد مرگی کے مریضوں کو مکمل علاج دستیاب نہیں جبکہ ملک کے اکثر دیہات میں مرگی سے متاثرہ مریضوں کو دوائیں دستیاب نہیں ہوتیں جس وجہ سے اکثر مریض مکمل علاج سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ اگر اس مرض کا مکمل علاج کیاجائے تو لوگ نارمل مریض ایک کامیاب زندگی گزارسکتا ہے۔ ماہر امراض دماغ ڈاکٹرمالک کا کہناہے کہ انسانی دماغ کے نیورون مکمل طور پر فعال نا ہونے سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے جس میں رسولی اور دماغ کے برقی خلل بڑی وجہ بنتے ہیں ،جس کے باعث جسم کو کنٹرول کرنیوالے دماغی خلئے متاثر ہوتے ہیں جس سے مریض پر دورہ پڑتا ہے۔






متعلقہ خبریں

جاذبہ
03-31-2014, 11:23 AM
اللہ سبکو اس مو ذی مر ض سے بچا تا رکھے ۔ آمین