PDA

View Full Version : لوگوں کے ساتھ تعامل کے اصول وضابطے



العلم
03-28-2014, 09:12 AM
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
قرآن وحدیث کے نصوص پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین وتقویٰ اور حسن اخلاق کو دنیا وآخرت میں شرف وتقدم اور فضیلت وبرتری سے وابستہ کردیا ہے، لیکن شہرت یا لہو ولعب یا حسب نسب یا اس جیسی کسی اور چیز کے ساتھ وابستہ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے نصوص ودلائل موجود ہیں ۔ جیسے:
(إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ) (الحجرات:13)
"اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے والا ہے۔ "
"خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ"
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔"
(خیرکم من یرجی خیرہ ویؤمن شرہ)
تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جس سے خیر کی امید ہو اورجس کے شر کا ڈر نہیں ہو،
"خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی"
"تم میں سب سے بہتر وہ ہےجو اپنے افراد خانہ کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں۔"
"خیرکم إسلاما أحاسنکم أخلاقا إذا فقھوا"
"تم میں سب سے بہتر اسلام والا وہ ہے، جو تم میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو، بشرطیکہ وہ دینی سمجھ والا بھی ہو۔"
اور پوچھا گیا، اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے باعزت ومکرم کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ: ان میں جو سب سے زیادہ متقی ہو، لوگوں نے عرض کیا کہ ہم آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھتے ہیں تو آپ نے خود فرمایا کہ کیا معادن عرب کے بارے میں پوچھ رہے ہو ؟ زمانہ جاہلیت میں جو بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہی ہوں گے ۔ بشرطیکہ ان کو دین کی سمجھ ہو۔
"خیرکم من أطعم الطعام أو الذین یطعمون الطعام"
"تم میں بہتر وہ ہے جو کھانا کھلائے یا وہ لوگ جو کھانا کھلاتے ہیں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ:لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا وہ شخص جو اپنی جان ومال سے جہاد کر رہا ہو یا وہ شخص جو کسی گھاٹی میں اپنے رب کی عبادت کر رہا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے دور رکھے ہو ۔
پوچھا گیا کہ: لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو فرمایا کہ:جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔ یہ اور ان کے علاوہ دوسرے اور بہت سے دلائل سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت وتکریم اور فضیلت وبرتری تقویٰ اور عمل صالح سے ملتی ہے ۔ جو اللہ کے نزدیک کریم وبا عزت ہے مناسب یہی ہے کہ وہ مومنوں کی نظر میں کریم ہو ۔ اگر نہ تو نہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے پیمانے کی تصحیح فرماتے ہیں:
"إن اللہ لا ینظر إلی صورکم و أموالکم ولکن ینظر إلی قلوبکم و أعمالکم"
"اللہ تمہاری صورتوں اور مال ودولت کو نہیں بلکہ تمہارے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"
مصعب بن سعد کا بیان ہےکہ حضرت سعد نے خیا ل کیا کہ ان کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہے ،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے ما تحتوں کے سبب مدد بھی کیے جاتے ہو اور تمہیں روزی بھی ملتی ہے۔
ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو اپنے وفات شدہ آباء واجداد پر فخر ہوگا ، جبکہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، یا اللہ کے یہاں گبریلا سے بھی زیادہ کمتر ہوں گے جو اپنی ناک سےگندگی نکالتا رہتا ہے۔منافق کو سردار مت کہو، کیوں کہ اگر وہ سردار ہوگابھی تو (یہ کہہ کر) تم اللہ کو ناراض کروگے ۔
کیا میں تم کو سب سے بدتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں وہ ہے سخت گو اور گھمنڈ وغرور والا انسان اور کیا میں تم کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ ہے کمزور وناتواں بوسیدہ کپڑے والا انسان جو اگر اللہ کے واسطے سے قسم کھائے تو اللہ اس کی قسم پوری کرادے۔
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذر ا تو آپ نے اپنے پاس بیٹھے ایک دوسرے شخص سے پو چھا کہ اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے؟اس نے جواب دیا کہ اشراف میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اگر (کسی کو) پیغام نکاح بھیجے تو اس سے شادی کی جائے، اور اگر کسی کے لیے سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہ گئے۔ پھر ایک دوسرا آدمی گذرا تو آپ نے اس آدمی سے پوچھا کہ اس گذرنے والے کےبارے میں تمہاراکیا خیال ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ آدمی مسلم فقراء میں سے ہے اس لائق ہے کہ وہ اگر کسی کو پیغام نکاح بھیجے تو اس سے شادی نہ کی جائے۔ اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو اور اگر کچھ کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے، تب آپ نے فرمایا: یہ دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے۔
ابن حبان نے اپنی صحیح (685)میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابو ذر!کیا تم کثرت مال کو ہی مالداری سمجھتے ہو ؟ ابو ذر نے کہا کہ ہاں اللہ کے رسول!آپ نے پھر پوچھا:کیا تو قلت مال کو فقیری سمجھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا ہاں، اس پر آپ نے فرمایا کہ: مالداری دل کی مالداری ہے اور فقر دل کی محتاجی۔ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ: پھر آپ نے مجھ سے پوچھا:فلاں کو جانتے ہو؟ قریش کے ایک آدمی کی طرح اشارہ تھا میں نے جواب دیا کہ ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے جواب دیا کہ : وہ اگر مانگے تو اسے ملتا ہے اور اگر کہیں جاتا تو اسے جگہ ملتی ہے پھر آپ نے مجھ سے اہل صفّہ میں سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ تم کیا اسے جانتے ہو؟ تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، اے اللہ کے رسول! میں اسے نہیں جانتا۔ پھر آپ مسلسل اس کا ذکر خیر اور تعریف کرتے رہے یہاں تک کہ میں اس کو پہچان گيا۔ میں نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول! میں اب اسے پہچان گیا آپ نے پوچھا اس کے با رے کیا خیال ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ وہ اہل صفّہ میں سے ایک مسکین آدمی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ: (ھو خیر من طلاع الأرض من الآخرۃ)
شہداء کو دفن کرنے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے کہ ان میں سب سے زیادہ قرآن کسے یاد ہے ؟ اگر دو میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہوتا تو آپ اسے ہی لحد میں پہلے ڈالتے تھے حتی کہ دفن میں قرآن والے کو ہی تکریم وتقدیم حاصل ہوتی ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصف میں بیان ہوا ہے کہ:
(إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ) (النحل:120)
"بےشک ابراہیم ایک امت اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔"
حضرت ابو سفیان سلمان وصہیب اور بلال کے پاس ایک گروپ میں آئے، تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے اللہ کی تلوار دشمن خدا کی گردن پر صحیح سے نہیں استعمال کی۔ حضرت ابو بکر نے یہ سن کر کہا: قریش کے بزرگ اور سردار سے تم ایسا کہہ رہے ہو؟ چنانچہ حضرت ابو بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کی خبر کر دی ، تو آپ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے شاید ان لوگوں کو ناراض کردیا ،اگر تم نے واقعی ان کو ناراض کردیا ہے تو تم نے اپنے رب کوناراض کردیا۔ آخر حضرت ابو بکر ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ اے بھائیو!میں نے آپ لوگوں کو ناراض کیا ہے؟ کہا کہ نہیں ، بھائی اللہ آپ کو معاف فرمائے۔
"اللھم أحینی مسکینا و أمتنی مسکینا و أحشرنی فی زمرۃ المساکین یوم القیامۃ"
"اے اللہ !مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھ ، مسکین ہی بنا کر وفات دے اور قیامت کے دن انہی کے ساتھ حشر کر۔"
فقرائے مہاجرین قیامت کے دن چالیس سالوں کی مسافت سے مالداروں کے بالمقابل جنت کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو کہیں بھیجنا چاہا تو آپ نے سب سے قرآن پڑھوایا ۔ چنانچہ ان میں جس کو جو یاد تھا، اس نے پڑھا۔ پھر آپ ایک آدمی کے پاس گئے، تو پوچھا کہ اے فلاں! تمہارے پاس کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیاکہ مجھے فلاں فلاں اور "سورۃ البقرۃ" یاد ہے۔ آپ نے پوچھا کہ تمہیں "سورۃ البقرۃ" یاد ہے؟ تو اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا کہ جاؤ تم ان سب کے امیر ہو۔"
بہت سے پراگندہ حال، دروازہ پر سے بھگا دیے جاتے ہیں حالانکہ ان میں ایسےبھی ہوتے ہیں کہ وہ اگر اللہ کے واسطہ سے قسم کھا لیں، تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے۔"
ان دلائل کی روشنی میں ہم دیکھ سمجھ سکتے ہیں کہ مسلم معاشرہ نے کس طرح ایسے لوگوں کی عزت وتوقیر کی ہے جن کا دنیا کی نظر میں کوئی مقام واہمیت نہیں۔ ان کی عزت وتکریم کا سبب دین وتقویٰ اور دین میں سبقت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر کی حالت میں ایک نابینا شخص حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کو مدینہ کاامیر بنا دیتے تھے ۔ اسی طرح حضرت سلمان فارسی فارس کی فتح کے بعد مدائن کے امیر بنا دیے گئے۔
حضرت عبدا للہ بن عمررضی اللہ عنہ اپنے والد کے پاس ان کی خلافت کے وقت آئے اور شکایت کی۔ میرے لیے تین ہزار درہم اور اسامہ کے لیے چار ہزار درہم متعین کیے گے ہیں۔ جبکہ جس جنگ میں میں شریک ہوا وہ اس میں شریک نہیں ہوئے تو حضرت عمررضی اللہ نے اس کا جواب دیا: میں نے ان کا زیادہ اس لیے کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کے نزدیک تم سے زیادہ محبوب تھے اور ان کے والد بھی تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کا حصہ ان کے مقام ومرتبہ ،علم قرآن اور جہاد (میں شرکت) کے حساب سے متعین کیا۔ اور جب ان کے پاس بحرین کا خراج آیا تو انہوں نے مہاجرین اوّلین کے لیے پانچ ہزار، انصار کے لیے چار ہزار اور ازواج نبی صلی اللہ کے لیے دس ہزار متعین فرمایا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے ابو حذیفہ کے غلام سالم جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھے ہوئے تھے، مہاجرین کی امامت کرتے تھےاور ہجرت رسول کے بعد یہی سالم بشمول حضرت ابوبکر وعمر اور ابوسلمہ وزید اور عامر بن ربیعہ مہاجرین اولین صحابہ کو مسجد قباء میں نماز پڑھاتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ:ابوبکر ہمارے سردارہیں اور انہوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا ہے ۔
حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی حضرت عمر رضی کے پاس پہنچے، ان لوگوں کےساتھ حضرت بلال اور صہیب بھی تھے۔ حضرت عمر نے بلا ل اور صہیب کو بلایا اور باقی لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ نےکہا کہ میں نے آج جیسا دن نہیں دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان غلاموں کو اجازت دے دی اور ہم لوگوں کو اپنے دروازہ پربیٹھے چھوڑ دیا ، ہمیں انہوں نے اجازت نہیں دی۔ اس پر سہیل بن عمرو جو ایک عقلمند انسان تھے،کہا کہ اے لوگو! اللہ کی قسم! میں تمہارے چہروں کو پڑھ رہاہوں۔ اگر تم لوگ غصہ میں ہو تو خود پر غصہ کرو۔ پوری قوم کو بلایا گیا اور تم بھی بلائے گئے مگر ان لوگوں نے جلدی کی اور تم نے تاخیر کی۔
حضرت حسن کا بیان ہے کہ:اللہ اپنی طرف تیزی سے آنے والے بندے کو، تاخیر سے پہنچنے والے بندے کی طرح نہیں بناتا ۔
جب قتیبہ بن مسلم نے ترکوں سے قتال کرنا چاہا تو محمد بن واسع کے بارے میں پتہ چلایا، بتلایاگيا کہ وہ میمنہ فوج کے دائیں دستہ میں اپنی کمان تھامے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف دکھا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ انگلی میرے نزدیک لاکھوں مشہور تلواروں اور تیز طرار جوانوں سے محبوب ہے۔دوران حج بنو امیہ کا منادی چیخ چیخ کر بول رہا تھا کہ حج کے بارے میں عطاء بن ابی رباح کے سوا کوئی فتویٰ نہیں دے گا۔ اور ان کو جا ننے پہچا ننے والے کسی شخص نے ان کا رنگ وروپ بتا یا کہ عطاء بن ابی رباح کالے، چپٹی ناک والے، بیکار دست وبازو الے ، اندھے شخص ہیں۔
http://www.minberurdu.com/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%A8% D8%B1/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%B1% D8%AA/%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3 %D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84_ _%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84_%D9%88%D8%B 6%D8%A7%D8%A8%D8%B7%DB%92.aspx