PDA

View Full Version : اسلام آباد کا نیا ائرپورٹ اور لنک روڈ ۔ماسٹر پلان کی خلاف ورزی



بےباک
03-31-2014, 10:29 AM
نئے ایئرپورٹ کیلئے 15 ارب روپے کی لاگت سے لنک روڈ کی منظوری، اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی

http://beta.jang.com.pk/images/headlinebullet.gif



http://beta.jang.com.pk/shim.gif


http://beta.jang.com.pk/images/dot.jpg


http://beta.jang.com.pk/shim.gif


http://images.thenews.com.pk/jang/185680_l.jpg



اسلام آباد(عثمان منظور)وفاقی حکومت نے یکایک فتح جنگ کے نزدیک نئے بین الاقوامی ائیرپورٹ تک 15ارب سے زائد لاگت سے طویل اورپرپیچ لنک روڈ تعمیر کرنے کافیصلہ کرلیا اوراس میں اسلام آباد ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کیساتھ ائیرپورٹ تک بلارکاوٹ ‘سستی اورسیدھی رسائی کونظرانداز کردیا ۔ اگر یہ منظور شدہ لنک روڈ تعمیر ہوگیا تو 14‘15‘16اور17سیریز میں آئی اورایچ سیکٹر کے مابین جگہ ختم ہوجائیگی جسے ماسٹر پلان میں ریلوے ٹریک کیلئے تجویز کیاگیا ہے ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نیشنل ہائی وے اتھارٹی اورپلاننگ کمیشن کے اعلیٰ حکام نے حکومت کو غلط حقائق بتاکر اپنی پسند کی سڑک کی ان سے منظوری حاصل کرلی ۔ تاہم دواہم ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اورراولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جن کالنک روڈز سے قریبی واسطہ ہے انہیں اس بریفنگ میں بلایا گیا اورنہ ہی ان سے کوئی مشاورت کی گئی ۔ مزید یہ کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ راولپنڈی نے اس مقصد کیلئے نئے ائیر پورٹ کے قریب ایک بڑا قطعہ اراضی حاصل کرنا شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ محکموں سے موقف معلوم کرنے کیلئے 3 روز تک کوششیں کی گئیں بعض نے اپنا موقف دیا اوردیگر نے نہ دیا ۔ اس لنک روڈ کی منظوری کیلئے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی سے بھی غلط بیانی کی کیونکہ 23جنوری کوجامع بریفنگ اورفراہم کردہ نقشوں میں کسی ایسے روڈ کاذکر نہیں جواب بھی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ویب سائیٹ پر موجود تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ادارہ اس متنازع منظوری پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہا ہے اور خود الزام لینے کو تیار نہیں ہے۔اب جبکہ وقت کے ضیاع کے علاوہ بیوروکریسی کی نااہلی کیوجہ سے پہلے ہی نئے ائیرپورٹ کی لاگت پراسرارطور پر 30ارب سے بڑھ کر 100ارب تک پہنچ چکی ہے تومذکورہ لنک روڈ سرکاری خزانے پرمزید بوجھ کاباعث بنے گا ۔ ائیرپورٹ کی تعمیر میں مبینہ کرپشن کاکیس پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اورایف آئی اے عدالت سے احکام پر اسکی تفتیش کررہی ہے اصل اورمختصر سڑک صرف ایک ارب سے تعمیر ہوسکتی ہے اپنی نوعیت کاکثیر لاگت ترین منصوبہ ہونے کے علاوہ منظورشدہ روٹ کئی انوکھی خصوصیات کاحامل ہے اس میں کشمیر ہائی وے پرسی ڈی اے ٹول پلازہ کے قریب گولڑہ موڑ سے جی ٹی روڈ سے 24فٹ اونچا اورکم ازکم 4کلومیٹر طویل اسٹرکچر تعمیر کیاجائیگا جوآئی 14میں داخل ہونے کیلئے پارک آرمی سنٹرل مکینیکل ٹرانسپورٹ اینڈ اسٹورز ڈپو کے پاس سے گزرے گا ۔ آرمی ڈپو میں ہزاروں فوجی اہلکارکام کرتے ہیں اسکے بعد یہ لنک روڈ سطح زمین پرآئے گا ۔دوسرے نمبر پریہ سڑک پارکنگ لاٹ تک رسائی سے قبل اڑھائی کلومیٹر ائیرپورٹ کے اندر اہم تنصیبات کیساتھ بنے گی تیسرے نمبر پریہ 2کلومیٹر طویل ہوگی اورتمام ٹریک کو بالکل آغاز سے تعمیر کرناپڑے گا ۔ اس سڑک کیلئے آئی‘ ایچ 18اور19سیکٹرز میں اراضی حاصل کرنی پڑے گی جس پرخطیر رقم خرچ ہوگی ۔ اس وقت سیکٹر آئی اورایچ کے مابین 600فٹ کی رائٹ آف وے دستیاب ہے جس پرماسٹر پلان کے تحت ریلوے ٹریک ‘سروس روڈ اورمرکزی سڑک تعمیر ہوگی۔ اس اراضی پر یہ منظور شدہ سڑک بنائی جانی ہے یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ ہائی وے (منظور شدہ سڑک کو یہی کہا گیا ہے) کیلئے 1200 فٹ رائٹ آف وے (Row) درکار ہوتا ہے اگر اس اصول پر عمل کیا گیا تو ان سیکٹرز کو چھوٹا کرنا پڑے گا۔ جس کے لئے سالوں پہلے الاٹ کئے گئے پلاٹوں کی الاٹمنٹس کو کینسل کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب اگر درست راستہ چنا جاتا تو زیرو پوائنٹ انٹرچینج سے صرف 4کلو میٹر کا ایک چھوٹا سا حصہ نیا تعمیر کرنا پڑتا اس پوائنٹ تک کشمیر ہائی وے پہلے ہی بنی ہوئی ہے اور ائیر پورٹ کی ٹریفک کے بوجھ کیلئے کشمیر ہائی وے کی جی ٹی روڈ تک توسیع ہی کافی ہوتی۔ اس طرح سے کوئی خاص لینڈ ایکوزیشن بھی درکار نہیں ہوتی۔ نئے تعمیر ہونیوالے 4کلو میٹر کے ٹکڑے میں سے دو کلو میٹر کیلئے ان دو ہائوسنگ سکیموں کی طرف سے این ایچ اے کو مفت اراضی کی دینے کی پیش کش کی گئی ہے جن کے درمیان سے یہ سڑک گزرے گی تاہم باقی کے 2 کلو میٹر حصے کیلئے زمین خریدنی پڑے گی لیکن اس پر کوئی خطیر لاگت نہیں آئے گی۔ مزید برآں یہ لنک روڈ ائیر پورٹ کی کسی اہم تنصیب کے قریب سے گزرے بغیر سیدھی پارکنگ ایریا تک جائے گی۔ بریفنگ دینے والوں نے ایک دلیل دی کہ لنک روڈ کی تعمیر سے اس کے ساتھ ایک مہنگا کمرشل ایریا بنے گا جسے پرائیویٹ سیکٹر کو ہوٹلز اور شاپنگ ایریا کیلئے فروخت کر کے حکومت کو ائیر پورٹ کی تعمیر پر خرچ ہونیوالی خطیر رقم بھی وصول ہو جائیگی۔ اور یہ کہ ہائوسنگ ٹائونز کے مالکان کو ائیر پورٹ کی تعمیر سے کسی صورت فائدہ نہیں پہنچنا چاہئے۔ لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ پرائیویٹ ٹائون ڈویلپرز نے ائیر پورٹ پر کام شروع ہونے سے کئی سال پہلے اس علاقے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے کونسا جرم کیا۔ جب حکومت ملک کی وسیع اراضی کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی تو یہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے پیسہ کمانا چاہتی ہے۔ یہ عام روایت ہے کہ سرمایہ کار پلان شدہ ائیر پورٹس، بس ٹرمینلز اور دیگر سرکاری فسیلٹیز کے قریب جگہ لینا چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منظور شدہ سڑک پھر بھی ایک ہائوسنگ ٹائون میں سے گزرے گی جسے عرصہ پہلے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے دیئے گئے این او سی کی منسوخی کی دھمکیاں اس صورت میںدی جا رہی ہیںاگر اس نے نئی سڑک کیلئے اراضی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے نہ کی۔ دونوں ہائوسنگ ٹائونز کے مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آر ڈی اے سے تمام ضروری اجازت نامے 10 سال پہلے سے لے رکھے ہیں۔ چند سال قبل تمام سٹیک ہولڈرز اور متعلقہ سرکاری اداروں بشمول این ایچ اے، سی ڈی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ہائوسنگ ٹائونز کے مالکان کے نمائندوں میں اصل سڑک کیساتھ رائٹ آف وے کے حوالے سے معاہدہ بھی ہوا نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے کثیرالمنزلہ عمارات کی اونچائی پر بھی اتفاق کیا۔ اصل سڑک کے مخالفین کی طرف سے ایک اور دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اگر مختصر سڑک تعمیر کی گئی تو ایک تیسرا رن وے تعمیرنہیں ہو سکے گا۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے ہی ائیر پورٹ کی تعمیر پر حد سے زیادہ اخراجات ہوئے ہیں۔ اور نیا رن وے دو عشروں بعد تعمیر کیا جائے گا جس کیلئے خطیر رقم درکار ہوگی۔ اگر یہ نیا رن وے مستقبل میں بنایا بھی جاتا ہے تو اصل سڑک اس میں کسی طرح سے حائل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ عام خیال ہے کہ ایسے لنک روڈز متصل اراضی سے متعلق مخصوص مفادات کے بغیر تعمیر نہیںکئے جاتے اس معاملے میں بھی اس حوالے سے چہ مگوئیاں جاری ہیں تاہم حقیقت حال ابھی سامنے نہیں آئی۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف محکموں کے انجینئرز اورماہرین جو منظور شدہ نئی سڑک کی ڈیزائننگ اور تعمیر سے متعلق ہیں اس کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ہوابازی پر وزیراعظم کے خصوصی معاون شجاعت عظیم نے روانہ کئے گئے سوالنامے کا ایک سطری جواب میں جوابات کیلئے پلاننگ ڈویژن اور این ایچ اے سے رابطہ کرنے کیلئے کہا۔ ان کے مطابق مناسب ترین آپشنز خود وزیراعظم کے منتخب کردہ ہیں۔پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال نے دی نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پلاننگ کمیشن کا مجوزہ روٹ سے کچھ لینا دینا نہیں اور یہ این ایچ اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذہن کی پیداوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن نے صرف رائٹ آف وے کے حولے سے تجاویز دیں جو سڑک کے دونوں طرف سے لیا جانا چاہئے۔ تاکہ اتنی جگہ حاصل کی جائے کہ مستقبل میں کسی کمرشل سرگرمی کی صورت میں بنیادی طور پر فائدہ حکومت کو پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نئے روٹ کی الائنمنٹ کے حوالے سے کچھ علم نہیںتاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہم نے کہا کہ جو بھی روٹ ہے اس کے دونوں طرف معقول رائٹ آف وے ہونا چاہئے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا کہ اتھارٹی ماسٹر پلان کو متاثر نہیں ہو نے دیگی تاہم اس معاملے کو سی ڈی اے کا پلاننگ کمیشن دیکھ رہا ہے۔ سی ڈی اے نے چند ہفتے قبل دی نیوز کو اپنا تحریر شدہ موقف دیا جس میں لکھا گیا کہ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو اسلام آباد اور راولپنڈی سے منسلک کرنے کا سب سے قابل عمل روٹ کشمیر ہائی وے کے ذریعے ہے جو موٹر وے لنک روڈ کو زیروپوائنٹ سے منسلک کرنا ہے اس پوائنٹ سے ملانے کیلئے اضافی 4کلومیٹر کاحصہ تعمیر کرنا ہوگا سی ڈی اے سے نئے ائیرپورٹ سے کشمیر ہائی وے پرآنے والی ٹریفک کے پیش نظر پہلے ہی کشمیر ہائی وے کی توسیع شروع کررکھی ہے ۔ ڈی جی راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے رابطے پر کہاکہ آر ڈی اے کوسول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے لنک روڈ کی تعمیر کیلئے ایک اورمیٹنگ میں بلایاگیا ہے ۔ ڈائریکٹر آرڈی اے جمشید آفتاب جونئے ائیرپورٹ سے جڑواں شہروں تک سڑک کی تعمیر کے معاملے سے کافی آشناء ہیں نے رابطے پر کیا انہوں نے کہاکہ 12مارچ 2014ء کوایک اجلاس میں شرکت کی جس میں آرڈی اے نے زور دیا کہ نئے ائیرپورٹ کوکشمیر ہائی وے کے ذریعے منسلک کیاجائے لیکن اب پتہ چلا ہے کہ ایک نیاروڈ تجویز اورمنظور ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں نئے روڈ کی الاٹمنٹ دیکھنی پڑے گی پھر ہی ہم کچھ بتاسکیں گے ۔ تاہم اب تک ہم تعمیر شدہ کشمیر ہائی وے کونئے ائیرپورٹ سے ملانے کے موقف پرقائم ہیں سیکرٹری ایوی ایشن /چیئرمین سول ایوی ایشن اتھارٹی بورڈ محمدعلی گردیزی نے رابطے پرکہاکہ وزیراعظم کواین ایچ اے نے بریفنگ دی اورسول ایوی ایشن اتھارٹی کاروڈ کی تعمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات زیربحث آئی کہ ایسے بڑے ائیرپورٹ تک جانے والی سڑک کوچھوٹی چھوٹی گلیوں اورگھروں میں سے گزرنے کی بجائے ایک شاہراہ ہوناچاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ انکے اپنے خیال میں اس سڑک کوگلیوں کے بیچ کے راستے کی بجائے ایک شاہراہ ہوناچاہئے ۔ چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف سے مسلسل 3روز رابطہ کرنے کی گئی لیکن ان کاموقف معلوم نہ ہوسکا دی نیوز نے انکے دفتر کے فیکس نمبر 051-9260404پرایک سوالنامہ فیکس کیا انکے پرسنل اسسٹنٹ نے تصدیق کی کہ فیکس موصول ہوئی چیئرمین کے روبرو پیش کی گئی لیکن اسکا کوئی جواب نہ دیاگیا ۔
جنگ اخبار 31 مارچ 2014