PDA

View Full Version : ماہ رمضان کا استقبال 02



العلم
03-31-2014, 11:16 AM
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذبالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
أما بعد فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد – صلی اللہ علیہ وسلم-، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔
قال اللہ سبحانہ وتعالی:
(إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ) (الزمر:10)
" صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا اجر بلا حساب دیا جاتا ہے۔"
محترم بھائیو! رمضان کایہ مبارک مہینہ جس کاآپ نے استقبال کیا، صبر کا مہینہ ہے۔ دیگر مہینوں میں جو چیزیں آپ پر حلال تھیں، ان میں سے بہت سی چیزوں سے آپ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک بغیر کسی پہرےدار کے اجتناب کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں آپ کے سامنے ہونے کے باوجود آپ انہیں استعمال نہیں کرتے۔ ان چیزوں کی لذتوں سے آپ آشنا ہونے کے باوجود آپ اللہ کے واسطے انہیں ہاتھ نہیں لگا تے اور صبر سے کام لیتے ہوئے غروب آفتاب کا انتظار کرتے ہیں۔ خاص کر گرمی کے ایام میں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس صبر کے امتحان میں کامیابی عطا فرمائے۔
آپ روزے کی حالت میں کھانا اور پانی ترک کرتے ہیں، شہوت ترک کرتے ہیں، لڑائی جھگڑوں سے بچتے ہیں، غیظ وغضب اور گالی گلوج سے بچتے ہیں اور دل کو اللہ کی یاد،ذکر وفکراور تلاوت کلام پاک میں لگاتے ہیں۔ بےشک دل کو ذکر وفکر کے لیے یکسو کرنا بہت بڑی بات ہے۔ شہوت، دل کو سخت اور اندھابناتی ہے۔ کھانا پانی سے پیٹ کو بھرنے کے بجائے اسے کچھ خالی رکھنا دل کو منور کرتاہے۔ اس میں تواضع پیدا کرتا ہے اور اس کی سختی کو دور کرتا ہے۔
روزےدار کی دو قسمیں یا دو طبقے ہیں؛
پہلا طبقہ، ان لوگوں کا ہے جو روزے کیحالت میں اللہ کے لیے اپنا کھانا، پینا اور اپنی شہوت چھوڑ کر، اس کے بدلے اللہ سے جنت پانے کی امید کرتے ہیں۔ اس طبقہ نے گویا اللہ کے ساتھ تجارت کی اور اللہ سے معاملہ کیا۔ اور اللہ ایسے شخص کااجر ضائع نہیں کرتا، جو اچھا عمل کرتا ہے۔ پس ایسے روزےدار کو اللہ تعالیٰ جنت میں جس قدر کھانا، پینا اور خدمت کے لیے جتنی دوشیزائيں دینا چاہے دےگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ) (الحاقۃ:24)
"(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے۔"
مجاہد وغیرہ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت روزےداروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
"عن سھل (بن سعد) رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:إن فی الجنۃبابا یقال لہ الریان، یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ لا یدخل معھم أحد غیرھم"
"حضرت سہل (بن سعد) رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام"ریان" ہے، جس سے قیامت کے دن روزےدار ہی داخل ہوں گے۔ ان کے ساتھ ان کے علاوہ دوسرا کوئی داخل نہ ہو سکےگا۔
دوسرا طبقہ، روزےدار وں کا ان لوگوں پر مشتمل ہوگا، جو دنیا میں (روزے کی حالت میں ) اللہ کے علاوہ ہر چیز سے قطع تعلق کیے ہوتے ہیں۔یہ لوگ اپنے سر اور اس کے متعلقات کی حفاظت کرتے ہیں، پیٹ اور اس کے مشتملات کی حفاظت کرتے ہیں اور موت ومصیبت کی یاد میں دنیا کی زیب وزینت کوچھوڑ دیتے ہیں۔چنانچہ یہ عید الفطر ان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(مَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّـهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) (العنکبوت:5)
"جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے والا ہے، وه سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے"
اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں فرمایا:
"کل عمل ابن آدم لہ إلاالصیام، فإنہ لی وأناأجزی بہ" (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب ھل یقول إنی صائم إذا شتم)
"روزے کے علاوہ ہر نیک عمل کا اجر بندہ کو ملتا ہے؛البتہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور اس کا ثواب میں اپنے ہاتھ سے خود دوں گا۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ) (الزمر:10)
" صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا اجر بلا حساب دیا جاتا ہے۔"
اس مہینہ میں بھلائیواحسان اورخیر خواہی کا کام زیادہ سے زیادہ کرناچاہئے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں جودوسخاکے کام بہت زیادہ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کوزیادہ سے زیادہ نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اللھم أغفر لجمیع المسلمین، ووفقنا وإیاھم لصیام رمضان وقیامہ، وتقبل منا ومنھم، اللھم أعز الإسلام والمسلمین، وأخذل الکفرۃ والمشرکین،
عباد اللہ! إن اللہ یأمر کم بالعدل والإحسان، وإیتاء ذی القربی، وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی، یعظکم لعلکم تذکرون، وصلی اللہ علی النبی وسلم تسلیما کثیرا۔
http://www.minberurdu.com/%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A7% D8%AA/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86_ %DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D8%A7% D9%84.aspx