PDA

View Full Version : پاکستان معدنیات دنیا کا امیر ترین ملک



شاہنواز
04-05-2014, 04:41 PM
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے
1461

انجم رشید
04-06-2014, 08:43 AM
شاہنواز صاحب الحمد للہ وطن عزیز میں صرف کوئلے کے ذخییر ہی نہیں ہم بہت سی قومی پیدہ وار میں دنیا میں ایک سے دس نمبر پر ہیں جیسے گندم چاول چینی آم خوبانی کینو کپاس اور بہت سی معدنی دھات اگر کوئی حکومت ان اللہ تبارک وتعالی کی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرے تو ہم راتوں رات امیر ہو سکتے ہیں ۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں گندم کی کٹائی کے بعد جو گندم کی جڑیں بچ جاتی ہیں ان کو کسان آگ لگا دیتے ہیں تاکہ زمین صاف ہو جائے اگر یہی جڑیں حکومت بجلی بنانے کے کام لائے تو بڑی حد تک طوانائی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

بےباک
04-07-2014, 09:45 AM
جزاک اللہ شاھنواز صاحب ،
وطن کی محبت سے سرشار سوچ پر خوشی ہوتی ہے ،
شکریہ آپ دونوں کا

انجم رشید
04-08-2014, 08:53 AM
یہ رپورٹ دیکھیں۔
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=W1GB
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=DKGM

انجم رشید
04-08-2014, 08:56 AM
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے


رکودک
Reko Diq


متناسقات: http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/5/55/WMA_button2b.png/17px-WMA_button2b.png28°48′45″N 64°42′00″E (http://stable.toolserver.org/geohack/geohack.php?pagename=%D8%B1%DA%A9%D9%88%D8%AF%DA%A 9&params=28_48_45_N_64_42_00_E_type:other)


ملک
http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/3/32/Flag_of_Pakistan.svg/22px-Flag_of_Pakistan.svg.png (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%81:Flag_of_Pakistan.svg) پاکستان (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86)


تحصیل (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9% DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C_% D8%AA%D9%82%D8%B3%DB%8C%D9%85)
چاغی (http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%BA%DB%8C)


حکومت


- قسم
قصبہ


- ناظم (http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=Nazim&action=edit&redlink=1)



منطقۂ وقت (http://ur.wikipedia.org/wiki/Time_zone)
PST (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9% D8%A7_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%88% D9%82%D8%AA) (یو ٹی سی+5 (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AA%D9%86%D8%A7%D8%B3%D9%82_%D8%B9%D8%A7% D9%84%D9%85%DB%8C_%D9%88%D9%82%D8%AA))


رکودک یا انگریزی زدہ اردو میں ریکوڈیک (http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/5/55/WMA_button2b.png/17px-WMA_button2b.png28 ڈگری 48 منٹ شمال اور 64 ڈگری 42 منٹ مشرق (http://stable.toolserver.org/geohack/geohack.php?pagename=Reko_Diq&params=28_48_45_N_64_42_00_E_type:city_region:PK)) پاکستانی بلوچستان (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86) میںضلع چاغی (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B6%D9%84%D8%B9_%DA%86%D8%A7%D8%BA%DB%8C) کے علاقے میں ایران (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86) و افغانستان (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D 9%86) کی سرحدوں سے نزدیک ایک علاقہ ہے جہاں دنیا کے عظیم ترین سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ مقامی زبان میں رکودک کا مطلب ہے ریت سے بھری چوٹی۔ یہاں کسی زمانے میں آتش فشاں پہاڑ موجود تھے جو اب خاموش ہیں۔ اس ریت سے بھرے پہاڑ اور ٹیلوں کے 70 مربع کلومیٹر علاقے میں 12 ملین ٹن تانبے اور 21 ملین اونس سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ تانبے کے یہ ذخائرچلی (http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%8C) کے مشہور ذخائر سے بھی زیادہ ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی بلوچستان میں غیر ملکی قوتوں کی مداخلت کی ایک وجہ یہ علاقہ بھی بتایا جاتا ہے۔۔ ایک اندازہ کے مطابق سونے کی ذخائر کی مالیت 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہےاس کان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بیک وقت دنیا کی سب سے بڑی سونا نکالنے والی شراکت اور دنیا کی سب سے بڑی تانبا نکالنے کی شراکت دونوں کام کر رہی ہیں جس سے اس علاقے کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ان عظیم ذخائر کو کوڑیوں کے بھاؤ غیر ملکی شراکتوں کو بیچا گیا ہے۔[5] (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%D9%88%D8%AF%DA%A9#cite_note-5)

کانیںاس میں کچھ کانکنی بھی ہو چکی ہے جو اخبارات و جرائد میں پاکستانی حکومت کی ناعاقبت اندیشی اور کمیشن کھانے کی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے ۔ یہی اخبارات و جرائد اسے بلوچستان میں امریکی مداخلت کی وجہ بھی بتاتے ہیں۔ موجودہ کانوں کا جو ٹھیکہ دیا گیا ہے اس میں بلوچستان کی حکومت کا حصہ 25 فی صد، انتوفاگاستا (Antofagasta plc ) کا حصہ 37 اعشاریہ 5 فی صد اور بیرک گولڈ (Barrick Gold) کا حصہ 37 اعشاریہ 5 فی صد ہے۔ لیکن حکومت بلوچستان کو یہ حصہ اس صورت میں ملے گا اگر وہ ان کانوں میں 25 فی صد سرمایہ کاری کرے۔ یعنی اصل میں بلوچستان کی زمین اور وسائل استعمال کرنے کے لیے بلوچستان یا حکومت پاکستان کو کوئی ادائیگی نہیں ہو رہی۔ انتوفاگاستا (Antofagasta plc ) چلی کی ایک شراکت ہے لیکن اس میں بنیادی حصص برطانوی لوگوں کے ہیں کیونکہ اس شراکت نے 1888 میں برطانیہ میں جنم لیا تھا۔ دوسری شراکت بیرک گولڈ (Barrick Gold) دنیا کی سب سے بڑی سونا نکالنے کی شراکت ہے جس کا صدر دفتر کینیڈا میں ہے مگر یہ اصلاً ایک امریکی شراکت ہے۔ اس کے دفتر امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں ہیں۔ اولاً کانکنی کے حقوق ایک آسٹریلوی شراکت ٹیتیان (Tethyan) کو دیے گئے تھے جس کا اپنا اندازہ تھا کہ ہر سال 500 ملین پاؤنڈ تانبا نکالا جا سکے گا۔
[ (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%D9%88%D8%AF%DA%A9#cite_note-7) بعد میں اوپر دی گئی شراکتوں نے یہ حقوق لے لیے۔ واضح رہے کہ ٹیتیان (Tethyan) انہی دو شراکتوں نے مل کر بنائی تھی جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سونے کا ذکر تک نہیں ہوا اور بعض ذرائع کے مطابق تابنے کی آڑ میں سونا بھی نکالا جاتا رہا اور ہر 28 گرام سونے کے لیے 79 ٹن کے ضائع زہریلے اجزاء بشمول آرسینک زمین میں دفن ہوتے رہے جو ادھر کے ماحول کو خراب اور زیر زمین پانی اور کاریزوں کو زہریلا کرتے رہے۔

زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے تانبے کی کان کے نام سے مشہور کیا گیا ہے تاکہ سونا نکالنے پر پردہ پوشی کی جا سکے۔جولائی 2009ء میں بیرک گولڈ اور انتوفاگاستا نے اس علاقہ میں مزید تلاش کے لیے تین ارب امریکی ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ جنوری 2011ء میں ثمر مبارک مند (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_ %D9%85%D9%86%D8%AF) نے عدالت اعظمی کو بتایا کہ ملک کانوں سے خود سونا اور تانبا نکال کر دو بلین ڈالر سالانہ حاصل کر سکتا ہے۔ غیر ملکی کمپنی دھاتوں کو خستہ حالت میں ہی ملک سے باہر لے جانا چاہتی ہے۔ مبصرین کے مطابق چلی (http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%8C) اور کینیڈا (http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DA%88%D8%A7) کی کمپنی پاکستانی جکمرانوں کو رشوت دے کر ذخائر کوڑیوں کے بھاؤ حاصل کر رہی ہے۔

شاہنواز
04-08-2014, 03:16 PM
ریکوڈیک آج کا نہیں یہ بہت پرانا منصوبہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ٹھیکہ ڈچ اور آسٹریلیا کے پاس تھا جس پر آسٹریلیا 70 فیصد لے رہا تھا اور پاکستان صرف 30 فیصد وصول کررہا تھا جس پر عدالت عالیہ نے اس منصوبہ کے خلاف فیصلہ بھی دیا تھا کہا جاتا ہے کہ یہاں پر سونے کا سب سے بڑا خزانہ ہے جس کو نکا لنے کے لئے حیلے بہانے کررہا ہے ۔ تیل کے ذخائر نمک ، کوئلہ اور دیگر قیمتی معدنیات کے ذخائر ہونے کے باوجود ہم دوسروں سے بھیک مانگ رہے ہیں ۔