PDA

View Full Version : بابری مسجد کا فیصلہ؟ ہائی کورٹ نے اڑائی پھر ایک بار انصاف کی دھجیاں



گلاب خان
12-17-2010, 03:22 PM
ابوحمزہ(بھارت)
بیسویں اور اکیسویں صدی میں ناانصافی پرمبنی کسی فیصلہ کا دنیا کے کسی بھی ملک اور خطہ میں کسی بھی عدالت یا سپریم کورٹ کاصادر ہوناکوئی اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ بسیار کوششوں کے بعد یہود کو ان صدیوں میں دنیابھر میں اپنے شکنجے گاڑنے کا موقع ہاتھ آیا ہے اور دنیا کے اکثر خطوں میں زندگی اور معاشرے کے تمام شعبوں پر ان کو کافی اثر رسوخ حاصل ہے۔ قرآن کے اعلان کے مطابق یہود و ہنود کا گٹھجوڑ ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ شدید عداوت کا حامل ہوا کرتا ہے۔ لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا لیہود و الدین اشرکوا۔کہ آپ ضرور بالضرور مؤمنوں کے لیے یہودکو سب سے زیادہ سخت عداوت والا پائیں گے اور مشرکوں کو ۔

تاریخ اس بات پر شاہد عدل ہے کہ عہد نبوی میں صلی اللہ علیہ سے لے کر عہد حاضر تک۔ ہر زمانہ میں اسلام کے خلاف ان کا اتحاد پایا جاتا رہا ہے اور آج بھی پایا جارہا ہے۔

آپ کو تعجب ہوگا بابری مسجد کے عنوان پر تحریر کیے جارہے اس مضمون میں آخر یہود و مشرکین کے اتحاد کی یہ بات بے جوڑ معلوم ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام جنم بھومی کا اصل مسلہ اٹھانے والاایک یہودی ہے، فیصلہ کے دوسرے دن گجراتی ہندی مراٹھی اخبارات بابری مسجد کی معلومات سے بھرپور تھے۔ ایک اخبار نے اس کی تاریخی معلومات فراہم کی اور تحریر کیا ۱۶۶۷ء میں ایک یہودی پیشوا جوزف ٹائفتینتھلر نے سب سے پہلے اس جگہ کو ہندوؤں کے مقدس مقام کے نام سے متعارف کروایا اور پھر ہوتے ہواتے اسے رام جنم بھومی قرار دیدیا گیا؛ اچھا مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ ہندوؤں نے بہت سے مقامات کو رام جنم بھومی قرار دیا ہے تو کیا رام ایک بار سے زائد مرتبہ پیدا ہوئے یا ایک ہی بار میں مختلف مقامات میں پیدا ہوئے۔

بہرحال ان کے عقائد کی ویسے بھی کوئی ٹھوس تو کیا بنیاد ہی نہیں، نہ عقلی طور پر قابل فہم ہے اور نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے؛ بس ہم تو اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ اسلام و ایمان کی دولت عظیم سے ہمیں مالامال کیا۔ الحمد للہالذی ہدانا لہذا و ما کنا لنہتدی لولا ان ہدانا اللہ!

ہٹلر نے اپنی ایک کتاب میں عجیب بات تحریر کی ہے اس نے لکھا کہ میں چاہتا ہوں یہودیوں کو چن چن کر دنیاسے ختم کردوں اس لیے کہ معاشرے میں جتنی اخلاقیاں اور جتنے فتنے اور فساد کے عناصر ہیں اس میں اصل ہاتھ یہودی کا ہوتا ہے۔ (المجتمع عربی مجلہ)

اتفاق سے میں نے جس دن اخبار میں بابری مسجد مسئلہ کی ابتدا کی تاریخ پڑھی اسی دن کویت سے شائع ہونے والے عربی کے سب سے مشہور و مقبول مجلہ المجتمع میں ہٹلر کا قول بھی پڑھا تو فوراً اس پر گویا ایک دلیل مل گئی۔ اس کے بعد میں نے مصر کے مشہور مؤرخ عبدالوہاب المسیری مرحوم کی معرکۃ الآراء کتاب ’’موسوعۃ الیہود و الیہودیۃ الصہیونیۃ‘‘ کی ورق گردانی کی تو ہندوستان میں یہود کی تاریخ بھی مل گئی۔ موصوف نے ’’الیہود فی الہند‘‘ کے عنوان کے تحت رقم کیا ہے کہ:

’’ ۱۹۶۱ء میں کیے گیے مردم شماری کے اعداد شمار میں بتایا گیا کہ ہندوستانی یہودیوں کی تعداد ۵ء۳۹ ہے جس میں سے ۱۴۶۰۰ ہندوستان میں آباد ہیں اور ۲۳ ہزار ہندوستانی یہود اسرائیل میں آکر آباد ہوگئے ہیں۔

ہندوستان میں مقیم یہودیوں کی کل چار قسمیں ہیں: (۱)یہود بنی اسرائیل(۲)یہود کوچن (۳)یہود منی پور (۴)بغدادی یہود۔

یہود بنی اسرائیل کو کن میں مقیم تھے مگر ۱۸ویں صدی عیسوی کے اوائل بمبئی منتقل ہوئے۔ ۱۷۶۹ میں بمبئی میں سب سے پہلا یہودی معبد بنایا گیا، ۱۸۳۳ء تک دو ثلث یہود بنی اسرائیل بمبئی پہنچ گئے مگر حاخامی یہودیوں سے یہ لوگ مدتِ دراز سے کٹ چکے تھے اور ہندوانہ ثقافت میں رنگ گئے ان کے نام عادات و اطوار سب ہندوانہ ہوگئی یہاں تک کہ انہوں نے ہندو مذہب ہی قبول کرلیا اور تلمود سے بھی نابلد ہوگئے اور مراٹھی زبان بول نے لگے ساتھ ہی تمام ہندوانہ تعلیمات پر عمل پیرا ہوگئے تاآں کہ ان کے نزدیک بیوہ عورتوں سے شادی کرنا، گائے کا گوشت کھانا سب حرام قرار پایا۔ حالاں کہ تورات میں ایسی کوئی تعلیم نہیں ہے۔

گویا اس وقت جو مراٹھاسیاست میں سرگرم ہے وہ اصلاً یہودی ہیںیا ان کے ہم نوا، اسی لیے ان کی مسلمانوں سے عداوت بھی بڑی سخت ہے۔

عبدالوہاب المسیری مرحوم آگے تحریر فرماتے ہیں: اور یہود کوچن تو ان کا تعلق یہودیوں کے قدیم مشہور قبیلے منسیّ سے ہے اور یہ لوگ مالابار کے ساحل کے راستہ سے کوچن پہنچے اس وقت جب ہیکل کو ڈھا دیا گیا ان کے ہندو راجاؤں سے بھی گہرے مراسم رہے اور کسی زمانہ میں ہولندا سبانیا اور حلب کے یہود بھی ان کے ساتھ آکر بس گئے اور جب انگریز ہندوستان پرقابض ہوئے تو انگریزوں کے ساتھ بھی انہون نے تعلقات استوار کیے مگر یہود بنی اسرائیل کی طرح یہود کوچن ہندوانہ تہذیب میں رنگ گئے اور مالایالام زبان بولنے لگے البتہ انگریزی زبان سے بھی وابستہ رہے مگر عبرانی زبان کو بہ دستور اپنی عبادتوں میں استعمال کرتے رہے شرقی اور عربی یہود کی رسومات اختلاط کی وجہ سے ان میں رچ بس گئے گو یاشرقی غربی ہندی اس طرح تین تین طرح کی رسومات اور عادات ان میں سرایت کرگئے، سیاست اور تجارت میں بھی کافی اثرورسوخ حاصل ہوا اور ہے۔

یہود منی پور۔ یہ اصلاً چین کے کایفنج قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں مغلوں کے زمانہ میں یہ لوگ اس علاقہ میں آباد ہوگئے، یہ لوگ اپنے دین سے بالکلیہ طور پر کٹ چکے تھے چند یہودی رسومات کے علاوہ اکثر وثنی اور مسیحی رسومات ان میں جگہ پکڑگئے یہاں تک کہ دیگر ہندوستان یہود ان کے جانتے بھی نہیں تھے۔

بغدادی یہود۔ یہ اپنے آپ کو اصل یہود گردانتے ہیں ۱۷ویں صدی میں بغداد سے ہندوستانی منتقل ہوئے یہ انتہائی متمول اور کارخانوں اور فیکٹریوں کے مالک رہے مگر ان کی بڑی تعداد یورپ کی طرف چلی گئی۔ (موسوعۃ الیہود و الیہودیۃ و الصہیونیۃ:۸۷۔۸۹)

مرحوم عبدالوہاب المسیری نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس موضوع کو اٹھایا ہے۔ بندہ نے اس کا خلاصہ قائین کے نظر کیا ۔

اب آیئے ہم اس تاریخی معلومات کے بعد ایک بار پھر اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں میں بات چھیڑ دی تھی اخیری چند دہائیوں مین دنیا بھر کے عدالتی فیصلوں کی تو آیئے ہم دنیا کی عدالتوں سے اسلام مخالف ناانصافی پر مبنی فیصلوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

یورپ کے اکثر ممالک میں عدالت نے برقعہ پر پابندی عائد کی حالاں کہ جمہوری اعتبار سے بھی یہ ناانصافی ہے کیوں کہ جمہوریت میں ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

برطانوی عدالت کا زبردستی یہودیوں کی فلسطین آبادکاری کے بارے میں ناانصافی پر مبنی فیصلہ۔

اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنا

فلسطین میں مسجد اقصیٰ پر ناجائز قبضہ۔

یورپی ممالک میں مسجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی۔

غرضیکہ یہودی پوری دنیا میں سرگرم ہے اور اسلام مخالف فیصلے کروانے میں اس کو بڑی مہارت حاصل ہے۔

سیکولرزم، جمہوریت آزادی، مساوات اخوت اور بھائی چارگی، اشتراکیت، اشتمالیت، وجودیت، ارتقائیت،جنسیت، اجتماعیت، تجربیت، عقلانیت، انسیت، علمیت، روشن خیالی، سرمایہ داریت، وصغی قانونیت، قومیت، علاقائیت، اتحاد ادیان کے نام سے جتنی بھی تحریکیں یورپ سے اٹھ کر پوری دنیا میں گمراہی اور ناانصافی کا ننگا ناچ‘ ناچ رہی ہے ان سب کے پیچھے یا تو براہِ راست یا بالواسطہ یہودیت زدہ عیسائیت یا یہودیت و صہیونیت ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔

ہندوستان جیسے کثیر المذہب جمہوری ملک میں بھی محض عقیدے اور اکثریت کے دل کے بہلاوے کے لیے تاریخ اور حقیقت سے روگردانی کرنا اورناانصافی پر مبنی ایسا فیصلہ!!!! بڑے افسوس کی بات ہے اور یہ کوئی پہلا فیصلہ نہیں آزادی کے بعد اسلام مخالف ایسے بہت سے فیصلے ہندوستانی عدالتیں سنا چکی ہیں جو درحقیقت جمہوریت کے میز پر ایک زوردار طمانچہ اور تھپڑ ہے اور تعجب تو اس پر ہے ک کچھ سابق ججوں نے بھی اسے صحیح فیصلہ قرار دیا ہے اور یہاں تک کہنے کی جرأت کرڈالی کہ عقیدے کے پیش نظر کیا جانے والا فیصلہ بھی انصاف ہی پر مبنی جانا جائے گا۔ این چہ بو لہبی است۔ تعجب ہے جہاں کی عدالتوں ہی سے ایسے فیصلے صادر ہو وہاں انسان آخر کس سے انصاف کی امید باندھ سکتا ہے؛ مگر یہ بات یاد رہنی چاہیے ہمیشہ جیت حق ہی کی ہوتی ہے اگرچہ یہ فیصلہ ہمارے لیے ا نتہائی تکلیف دہ مگر دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آیا بہت سے غیرمسلم تعلیم یافتہ لوگ بھی مسلمانوں کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور اس فیصلے کو سراسر بے بنیاد اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔

الحمد للہ اس بار ہمارے مسلمانوں نے جذبات میں نہ آکر صبر و تحمل سے کام لیا یہ بھی ایک اچھا پہلو ہے ہمیں اپنا حق مانگنا چاہیے مگر اس کے لیے سڑکوں پر اترآنا اور احتجاج کرنا ٹایر جلانا وغیرہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ سب اسلام میں ناجائز ہے الحمدللہ امت مسلمہ ہندیہ نے اس بار صحیح معنی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا اللہ آئندہ بھی ایسی توفیق مرحمت فرمائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تو جیسا کہ فیصلہ میں گنجائش ہے کہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں تو ہمیں اس کی تیاری شروع کردینی چاہیے، مگر افسوس کہ اب تک اپیل کرنے کے لیے نعرے لگا رہے ہیں اقدام نہیں ہورہا ہے تو جلدازجلد اقدام کرکے اس فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ دیکھناہے وہاں کیا ہوتا ہے انصاف ملتا ہے یا ناانصافی ؟؟

بہرحال بابری مسجد سے دست بردار تو کسی صورت میں نہیں ہونا ہے کیوں کہ فقہی شرعی حکم یہ ہے کہ ایک بار مسجد تعمیر ہونے کے بعد قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

خدا نخواستہ اگر وہاں بھی ناانصافی ہاتھ آئے تو پھر ہمیں براہ راست حکومت کو میمورنڈم اور اگر وہاں بھی نہیں تو انٹرنیشنل عدالت میں جانا ہوگا مگر ہار بہرحال ماننی ہی نہیں ہے اس طریقے سے اس کو بچانا ہے آخرکار ہماری کوشش کو دیکھ کر اللہ ضرور ہمارے حق میں فیصلہ صادر فرمائیں گے۔