PDA

View Full Version : حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ اور خانقاہ سراجیہ



گلاب خان
12-17-2010, 03:31 PM
موت برحق ہے ۔ اس سے کوئی بھی ذی روح انکار نہیں کر سکتا۔ اگر خالق کائنات کی محبوب ترین ہستی کو معافی نہیں تو پھر اور کون اس سے بچ سکتا ہے۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس میں آنکھ جھپکنے کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ بعض شخصیات کی موت اہل خاندارن اور قرابت داروں کو افسردہ کرتی ہے لیکن بعض ہستیاں اس قدر عظیم المرتبت ہو تی ہیں کہ ان کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد ایک خاندان ، ایک قبیلہ ، ایک قوم کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کا ہر فرد خود کوبے سہارا اور یتیم سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی ہی ایک ہستی حضر ت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی ہے کہ جن کے انتقال کے بعد ہر شخص خود تنہا سمجھ رہا ہے ۔ وہ ایک ایسا سائبان تھے کہ ہر مکتب فکر کا آدمی اس سائے میں سکون محسوس کر تا تھا۔ ہم نے خانقاہ سراجیہ میں دیکھا کہ مختلف الخیال لوگ اور باہمی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے نظر یاتی مخالف بھی وہاں حاضری کو اپنے لیے باعث نجات سمجھتے تھے۔

نقشبندی سلسلہ کی معروف خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے حضرت خواجہ خان محمد سراج الدین رحمتہ اللہ علیہ کی یادمیں۱۹۲۰ء میں قائم ہونے والے روحانی مرکز خانقاہ سراجیہ ) کندیاں شریف ( کے تیسرے مسندنشین کے طور پر حضرت خواجہ خان محمد ۱۹۵۶ء میں اپنے شیخ حضر ت مو لانا محمد عبداللہ کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے تو یہ خانقاہ بر صغیرپاک وہند کی مصروف ترین خانقاہ تھی ۔ یہاں کی عظیم الشان لائبریری اپنی شان وشوکت کے اعتبار سے دور دور سے تشنگان علم کو مقناطیسی قوت کی طرح کھینچ رہی تھی۔ بانی خانقاہ سراجیہ حضرت مو لانا ابو سعد احمد خاںؒ نے اپنی زندگی میں خرچ کرکے اہل ہند وستان پر احسان عظیم کیا۔ اُس دور میں بھی مختلف ممالک سے کتب منگواکر لائبریری کا حسن بڑھا یا۔ آپ کے بعد حضرت مولانا محمد عبداللہ نے بھی اس پر بھر پور تو جہ دی۔ حضر ت خواجہ خان محمد کو لائبر یری سے محبت ورثہ میں ملی تو آپ نے مریدین پر توجہ کے ساتھ ساتھ لائبریری کا بھی پورا حق ادا کیا۔ حضرت خواجہ خان محمد۱۹۵۶ء میں سجادہ نشین ہوتے تو خانقاہ سراجیہ بے آب و گیا ہ صحرا میں اپنی عظمت کا نشان تھی۔ ارد گرد کئی میل تک آبادی نہیں تھی۔ حضر ت خواجہ خان محمد کی محنت دعا ؤں اور خلوص کی بدولت آج خانقاہ سراجیہ کے ارد گرد جدید سے جدید تر عما رتیں، ادارے اور کالونیاں بن چکی ہیں ۔ خانقاہ سراجیہ کی وہی۹۰ سال پہلے تعمیر ہونے والی مسجد خانقاہ کے حجرے اور مدرسہ سعدیہ کی قدیم وجدید عمارت اپنی تابانی کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔ میرا تعلق چار پشتوں سے اس خانقاہ شریف سے ہے کہ میرے پر ادا حاجی غلام نبی چیمہ نے بانی خانقاہ سراجیہ حضرت مو لانا ابو سعد احمد خاں سے بیعت کی اُس وقت سے یہ تعلق دن بدن پختہ سے پختہ ہو تا گیا۔

میرے والد گرامی نے پہلی بیعت خانقاہ سراجیہ کے فیض یا فتہ حضرت حاجی جان محمد باگڑ سر گانہ سے کی جنہوں نے میرے والد محترم کو اپنی خلافت سے نوازا۔ ان کی وفات کے بعد والد محترم نے اپنا تعلق حضرت خواجہ خان محمد سے جوڑلیا جہاں حضرت خواجہ خان محمد نے میرے والد محترم کو تکمیل سلوک کے بعد دو بارہ اپنی خلافت عطا ء کی ۔ راقم الحروف نے حضرت خواجہ صاحب کے ساتھ متعدد اسفار کیے بالخصوص سر ہند شریف ) ہندوستان ( کا سفر یاد گار ہے۔ راقم الحروف اور میرے بیٹے سعید احمد اور بیٹی رقیہ بی بی کا نام بھی حضرت کا ہی تجویذ کردہ ہے ۔ مجھے وہ لمحات وواقعات کبھی نہیں بھول سکتے کہ حضرت مرحوم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دو تین روزیہاں قیام رہتا۔ مخلوق خدا ایسے اکٹھی ہوتی کہ جیسے شہد کے چھتے پر شہد کی مکھیاں بیٹھتی ہیں۔ بچپن میں میرے لیے حضرت مرحوم کی آمد عید کے دن سے کم نہیں ہوتی تھی۔ ابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے رفقاء بالخصوص حضر ت صاحبزادہ محمد عابد مرحوم ، حضرت عبدالغفور مرحوم ، حاجی گل محمد سر گانہ مرحوم اور حضرت الاستاد حافظ احمد دین مرحوم کی شفقتیں اور پیار مجھے کبھی نہیں بھول سکتا کہ جنہوں نے مجھے اپنوں سے زیادہ پیار دیا۔ حضرت مرحوم کی مجلس پر رونق ہوتیں اور علم وفضل کی بارش سے ان مجلسوں کا رنگ دو بالا ہو جاتا ۔ لیکن نماز عشاء کے بعد کی نجی مجلس کا اپنا ہی سماں ہوتا جس میں چند احباب حاضر خدمت ہوتے ۔بندہ کے والد محترم ۲۰۰۳ء میں بیمار ہوئے اور فالج کے حملہ سے چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تو اس کے بعد حضرت مرحوم نے مجھ پر انتہائی شفقت کا ہاتھ رکھا لیکن جون ۲۰۰۷ء میں والد محترم کے انتقال کے بعد حضرت مرحوم مجھ نا چیز پر اپنی شفقت و کمال کی انتہا کر دی اور مجھ کو ظاہر وباطن میں والد مرحوم کی شفقت پرور ی سے محرومی کا احساس نہ ہونے دیا۔ مجھے جب بھی بے چینی محسوس ہو تی، رابطہ کرتا یا خانقاہ شریف حاضر ہو جاتا توملتے ہی سب سے پہلے والد محترم کا تذکرہ فرماتے ۔ والد ہ محترمہ کا پو چھتے تو سکون کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ ظاہری و باطنی تسکین کے لیے بھر پور تو جہ فر ماتے جب بھی خانقاہ شریف حاضر ہو تا تو نماز فجر حضرت مرحوم کے گھر میں ہی جاکر آپ کے ساتھ ادا کرتا۔ اس وقت حضرت خصو صی توجہ فرماتے جس سے وہ کچھ حاصل ہوتا جس کے بیان سے زبان کہنے اور قلم لکھنے سے قاصر ہے۔ مجھے اپنے شیخ سے محبت تھی اور میرے شیخ کی مجھ پر نظر عنائت تھی مجھے جو ملا والد محترم اور حضرت الشیخ کی مہر بانی سے ملا میں گنہگار ہوں، میری غلطی کو تا ہیاں میری نا دانی ہے لیکن میرے شیخ کے کرم سے میرے مو لا نے ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا ہے۔ میرے مولا اس کو تا قیامت رکھیں۔ ہمارا عقید ہ اور نظریہ وہی ہے جو میرے والد محترم اور میرے حضرت الشیخ رحمتہ اللہ علیہ کا تھا ہم اپنے عقید ے اور نظر یے پر مطمئن ہیں اور اس سلسلہ میں ہمیں کسی سے بھی سر ٹیفکیٹ لینے یا تصدیق کی ضرورت نہیں ہے حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ

میراثِ پدر خواہی علم پدر آموز

کین مالِ پدر خرچ تواں کردہ بدہ روز

(باپ کی میراث چاہیے تو باپ کا علم حاصل کرو ،باپ کا چھو ڑا ہوا مال تو دس دنوں میں خرچ ہو جائے گا )

حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کا رو حانی سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ حضر ت حاجی دوست محمد قندھا ری (موسیٰ شریف )حضر ت مرزا مظہر جانِ جاناں شہید رحمتہ اللہ علیہ( دہلی)، حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ( سر ہند شریف ) سے حضرت ابو بکر صدیق ر ضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ۳۷ ویں سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے منکرین ختمِ نبوت کے خلاف جہاز کیا اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ تحریک ختمِ نبوت کے پہلے امیر ہو تے اور آج کے دور میں تحریک ختمِ نبوت کی سر برا ہی بھی آپ رضی اللہ عنہ کے رو حانی جانشین حضرت مو لانا خواجہ خان محمد کے سپر د ہوئی۔ اس خانقاہ سراجیہ کی ابتدا ء ۱۹۲۰ء سے ہوئی۔ اس کے بانی حضرت مو لانا ابو سعد احمد خاں نے بھی تحریک ختمِ نبوت کی بھر پور سر پرستی کی ۔۱۹۲۹ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار اسلام کی بنیاد رکھی۔ مجلس احرارِ اسلام نے تحریک آزادی تحریک کشمیر اور تحریک ختمِ نبوت میں اہم کردار ادا کیا اور مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام باقاعدہ ’’ شعبہ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت ‘‘ قائم کیا تو بانی خانقاہ سراجیہ مو لانا ابو سعد احمد خاں نے مجلس احرار اسلام کی بھر پور سر پرستی کی اور جماعت کو اپنا مکمل تعاون پیش کیا ۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر وں میں بھی خانقاہ سرا جیہ اور بانی خانقاہ سراجیہ حضرت مو لانا ابو سعد احمد خاں اور آپ کے جانشین حضرت مو لانا محمد عبداللہ المعروف حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر ملتاہے۔

۱۹۴۱ء میں مو لانا احمد خاں کے انتقال کے بعد مو لانا محمد عبداللہ بھی اپنے شیخ کے نقش قد م پر چلنے ہو تے تحریک ختمِ نبوت کی سر پرستی فرمائی اور ۱۹۵۳ء میں چلنے والی تحریک ختمِ نبوت میں خانقاہ سرا جیہ حضرت مو لانا محمد عبداللہ ، حضر ت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے بھر پور کردار ادا کیا۔ خانقاہ سراجیہ کو اس تحریک میں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں عقیدت مندوں کو تحریک ختمِ نبوت میں کرداد ادا کر نے کا حکم دیا گیا ۔ اس تحریک ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء حضرت خواجہ خان محمد نے خود بھی گر فتاری دی جو کہ تحریک ختمِ نبوت ، مجلس احرارِ اسلام اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے خانقاہ سراجیہ کے تعلق کا ایک اہم باب ہے ۔ ۱۹۵۶ء حضرت مو لانا محمد عبداللہ کے انتقال کے بعد اکابر علماء کرام حضرت مو لانا ابوسعد احمد خان اور حضر ت مو لانا محمد عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ کے خلفاء عظام نے حضر ت مو لانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین مقرر ہوئے۔ آپ کے دور میں خانقاہ سراجیہ کے فیوض و بر کات پوری دنیا میں پھیل گئے۔ خانقاہ سراجیہ سے نورہدایت جو ۱۹۲۰ء میں ایک روشن ستارے کی مانند چمکا تھا آج عالم اسلام میں سورج کی مانند روشنی بانٹ رہا ہے۔ حضر ت خواجہ خان محمد نے ۵۵ برس تک اس عالی شان مسند پر بیٹھ کر دین اسلام کی خدمت کی اور عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ جس خوبصورت انداز میں کیا دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔

۹؍اپریل ۱۹۷۴ء کو حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ نے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی امارت اس شرط پر قبول کی کہ حضرت مو لانا خواجہ خان محمد میرے نائب امیر بنیں۔ اس طرح حضر ت خواجہ خان محمد ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے نائب امیر مقرر ہوئے اور حضرت مو لانا سید محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ کے انتقا ل کے بعد ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء کو حضرت خواجہ خان محمد عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے امیر مرکزیہ منتخب ہوئے اور آخری دم تک آپ امیر مرکزیہ رہے ۔ اس دوران آپ نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے پوری دنیا میں سفر کیے۔ آپ نے تحریک ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تحریک ختمِ نبوت ۱۹۸۴ء میں اہم کردارا ادا کیا۔ ۱۹۸۴ء میں قادیانی سر براہ مرزا طاہر، ملک سے فرا ر ہو کر لندن جابیٹھا تو حضرت خواجہ خان محمد نے بھی اپنی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کادفتر لندن میں بنا کر قادیانیوں کا تعاقب شروع کیا ۔حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ جمعیت علماء اسلام کے سر پرست اعلیٰ تھے۔مو لانا مفتیمحمود رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ آپ کے انتہائی قریبی تعلقات تھے ۔ راقم الحروف کے والد گرامی حضرت حافظ عبدالرشید رحمتہ اللہ علیہ (خلیفہ مجاذ حضرت خواجہ خان محمد )کے بقول مو لانامفتی محمود نے ایک مرتبہ حضرت خواجہ خان محمد سے کہا کہ حضرت زندگی موت کا علم نہیں لیکن میرے بعد فضل الرحمن (قائد جمعیت مو لانا فضل الرحمن )کاخیال رکھنا ۔پھر دنیا نے دیکھا کہ مو لانا مفتی محمود کے انتقال کے بعد حضر ت مو لانا خواجہ خان محمد کی محنت دعاؤں سے مو لانا فضل الرحمن اپنوں بیگانوں کی مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہی گئے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مو لانا مفتی محمود کے انتقال کے بعد بہت بڑی بڑی شخصیات نے مو لانا فضل الرحمن کے لیے رکاوٹیں ڈالیں، مشکلات پیدا کیں لیکن حضر ت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے مو لانا مفتی محمود سے کیا ہوا وعدہ نبھا نے کا حق ادا کردیا۔ حضر ت خواجہ خان محمد نے تحریکی مصروفیات کے باوجود خانقاہی معمولات میں کو کمی نہ آنے دی۔ پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں مریدین کو روحانی فیض پہنچا کر سجادہ نشینی کا حق ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بر صغیر پاک وہند یت دنیا بھر میں تصوف کے حوالے سے خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کا بلند ترین مقام ہے ۔ آپ کے بڑے صاحبزادے مو لانا صاحبزاہ عزیز احمد اپنے والد گرامی کے ضعف و پیرانہ سالی میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے معاون امیر مرکزیہ کی ذمہ داری اور بیرون ممالک کے امور کی انجام دہی پر مصروف ہیں۔ آپ کے دوسرے صاحبزادے مو لانا خلیل احمد خانقاہ سراجیہ میں خانقاہی معمولات سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے تیسرے صاحبزادے مو لانا رشیداحمد لاہور میں مرکز سراجیہ کے مدیر ہیں۔ جہاں ختمِ نبوت کے لٹریچر کی اشاعت اور امورکی نگرانی کرتے ہیں۔ آپ کے چو تھے صاحبزادے صاحبزادہ سعید احمد میانوالی کی علاقائی سیاست میں سر گرم ہیں۔ آپ کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبزادے جناب صاحبزادہ نجیب احمد خانقاہ میں ہمہ تن خدمت خلق کی انجام دہی میں مشغول ہیں۔

حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی نمازجنازہ خانقاہ سراجیہ میں آپ کے صاحبزادے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے پڑ ھا ئی اور آپ کو آپ کے شیوخ حضر ت مو لاناابو سعد احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ کے غربی جانب سپرد خاک کیا گیا ہے۔ آپ کے انتقال کے بعد ۷؍مئی ۲۰۱۰ء جمعتہ المبارک کے روز حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کے خلفاء عظام حضر ت حاجی عبدالرشید صاحب ، مو لانا عبدالغفور صاحب ، حضر ت مولانا محب اللہ صاحب، حضر ت مولانا گل حبیب صاحب نے باہمی مشاورت اور حضرت مرحوم کے صاحبزادگان کے مشورہ سے صاحبزادہ مو لانا خلیل احمد کو حضر ت مرحوم کا جانشین اور خانقاہ سراجیہ کا سجادہ نشین نامز د کر دیا۔ یہ اعلان نماز ظہر کے بعد حضرت مرحوم کے سینکڑوں مریدین کی مو جودگی میں قائد جمعیت مو لانا فضل الرحمن نے مسجد میں ایک خطاب میں کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے جانشینی اہل سنت ضرورت اور تجدیدبیعت پر مدلل گفتگو فرمائی ۔ جس کے بعد حضرت مرحوم کے خلفاء نے مو لانا خلیل احمد کی دستار بندی کی مو قع پر مو جود متوسلین و مریدین نے مو لانا خلیل احمد کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ حضر ت صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب کو اس مسند حق اور خانقاہ سراجیہ پر بیٹھ کر طالبین کی تر بیت میں اپنی رحمت خاصہ عطاء فرمائیں اور اہم جیسے غلامان خانقاہ شریف کو ان کی خدمت کرنے اور ان سے روحانی فیض حاصل کرنے کی تو فیق فرمائیں۔( آمین )

تانیہ
12-20-2010, 09:18 PM
جزاک اللہ