PDA

View Full Version : حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ



گلاب خان
12-17-2010, 03:32 PM
برصغیر پاک وہند میں اسلام کی ترویج واشاعت اولیا ء اللہ ،بزرگان دین اور عوام کے دلوں میں رو حانی طور پر فیض پہنچانے والے پار ساء ہستیوں کی مر ہون منت ہے۔ متحدہ ہندو ستان کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ ایسی ہستیاں ملک کے کونے کونے میں مو جودہیں۔ انہی میں سے چند روز پہلے انتقال فر ما جانے والی ایک شخصیت حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی ہے۔ آپ اپنے وقت کے قطب الاقطاب تھے ۔عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی امارت کے ساتھ ساتھ متعدد دینی تحریکوں کی سر پرستی فرما یا کر تے تھے ۔جمعیت علماء اسلام کے سر پرست اعلیٰ تھے اورمجلس احرارِ اسلام کے سر پر شفقت وسر پرستی کا خصوصی ہاتھ رکھتے تھے اور عقیدۂ ختمِ نبوت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دفاع کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے ۔ان کی شخصیت ایک غیر متناز ع حیثیت کی حامل تھی ۔پاکستان سمیت پوری دنیا میں ان کا حلقہ مدیرین ہے۔ بالخصوص پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش ، افغانستان ،بر طانیہ میں ان کا حلقہ ارادت پھیلا ہوا تھا۔

ہم نے متعدد بار حضرت مو لانا خواجہ خان محمد کی زیارت کی ہے کہ چیچہ وطنی میں آپ کے خلیفہ مجاز حضرت حافظ عبدالرشید چیمہ جو کہ ۳ سال قبل مدینہ منورہ میں انتقال فرما گئے تھے ۔ ان کے ہاں حضرت مولانا خواجہ خان محمد عموماً سال میں ایک مرتبہ لازماًتشریف لاتے ۔حکیم حافظ عبدالرشید چیمہ ایک نیک صالح انسان تھے ۔ وہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت اور جمعیت علماء اسلام سے تعلق کے باو جود ایک غیر متنازع اور ہر دل عزیز شخصیت اور فنافی الشیخ تھے۔ آپ کے تین صاحبزادے ہیں۔ سب سے بڑے جناب عبداللطیف خالدچیمہ مجلس احرارِ اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے پاکستان سمیت بیرون ممالک میں بھی بھر پور جد وجہد میں مصروف ہیں ۔ دوسرے جاوید اقبال چیمہ مقامی و علاقائی سیاست میں سر گرم عمل ہیں۔ آپ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے حافظ حبیب اللہ چیمہ اپنے والد گرامی کے جانشین ہیں۔ اپنے والد محترم کی خانقاہ رشید یہ ) بستی سراجیہ ( اور ان کے طبی و روحانی علوم کے جانشین ہیں۔ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ ہیں۔ مذہبی طور پر مقامی وضلعی سطح پر مصروف عمل ہیں ۔حضر ت خواجہ خان محمد اپنے خلیفہ حافظ عبدالرشید کے ہاں شروع سے تشریف لا تے رہے ہیں ۔ ان کے یہاں حضرت خواجہ خان محمد کا قیام۲،۳ دن تک ہوتا تھا۔ ضلع ساہیوال سمیت قریب کے اضلاع سے بھی آپ کے عقیدت مند چیچہ وطنی آتے ۔ حضرت خواجہ خان محمد کے ضلع ساہیوال میں ۳ خلفاء تھے۔ جن میں حضرت حافظ احمد دین دادڑہ بالا (ہڑپہ) ،حضرت حافظ قطب الدین بستی حافظ حبیب اللہ ( ہڑپہ ) اور حضرت حافظ عبدالرشید چیمہ خانقاہ رشیدیہ بستی سراجیہ ۱۲/۴۲۔ایل، چیچہ وطنی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلعساہیوال میں آج کے دور میں حضرت خواجہ خان محمد کا بہت بڑا حلقہ مو جود ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت خواجہ خان محمد بہت کم گفتگو فرماتے بلکہ خاموش رہ کر روحانی طور پر اپنے مریدین کو فیض منتقل فرماتے تھے ۔چند سال پہلے حضرت خواجہ خان محمد نے ایک ٹریفک حادثے کی وجہ سے کمر پر تکلیف آنے پر سفر بند کر دیے تو پھر آپ کے باہمت وبا کمال صاحبزادگان مولانا عزیز احمد اور مو لانا رشیداحمد مسلسل یہاں تشریف لاتے ہیں اور اپنے والد گرامی کے عقیدت مندوں کو ’’ مثل باپ ‘‘بن کر روحانی تسکین پہنچا رہے ہیں۔ چیچہ وطنی میں حضرت خواجہ خان محمد کی آمدپر خانقاہ رشیدیہ میں باغ وبہار کا سماں ہوتا تھا۔ عوام الناس کا جم غفیر اپنے شیخ سے روحانی فیض حاصل کرنے کیلیے جوق در جوق حاضری دیتے۔ حضرت خواجہ خان محمد بھی حافظ عبدالرشید کے گھر کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔ حضر ت خواجہ خان محمد کے حافظ عبدالرشید کے نام بعض خطوط کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ خان محمد کو حضر ت حافظ عبدالرشید ان کی اولاد اور ان کے خاندان سے کتنی محبت تھی کہ خوشی اور غم کے موقع پر حضرت خواجہ خان محمد اپنے دلی جذبات کا کس طرح اظہار فرماتے تھے۔ ضلع ساہیوال میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کا ایک بہت بڑا حلقہ آپ سے متعلق ہے جنہوں نے حضرت خواجہ خان محمد سے فیض حاصل کیا اور یہ فیض تاقیامت جاری رہے گا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔

اب حضرت خواجہ خان محمد اس دنیا میں نہیں رہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھا ئیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کے جانشین مو لانا خلیل احمد کو خانقاہ سراجیہ کی سجادہ نشینی کا حق ادا کرنے کی تو فیق عطاء فرمائے آمین ۔ خانقاہ سراجیہ کے اکابر نے قرآن وسنت کی روشنی میں سلوک ،وتصوف کے ذریعے لوگوں کے باطن کو صاف کرنے اورعقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے جو گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں اُنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس خانقاہ نے دینی تحریکوں کے لیے خاموشی سے رجال کار تیار کئے جوپوری دنیا میں پھیل کہ اعلائے کلمتہ الحق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور تحریک دارالعلوم دیوبند سے وابستہ سبھی جماعتوں اور اداروں میں خانقاہ سراجیہ کے تر بیت یافتہ افراد صف اول میں نظر آتے ہیں ۔ خانقاہ سراجیہ نے رخصت کی بجائے عزیمت کا راستہ اختیار کر نے والوں کی زیادہ حوصلہ افزا ئی کی۔ خود حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے پیرانہ سالی کے باوجود پوری دنیا میں تحریک ختمِ نبوت کی سر پرستی کا حق ادا فر ما یا۔ یہی وجہ ہے کہ آج فتنۂ قادیانیت ہر مورچے پر منہ کی کھا رہا ہے۔ خانقاہ سراجیہ کا سب دینی قوتوں کے ساتھ سر پرستی کے رویے نے ایک ایسی مثال قائم کر دی ہ جو مشاجرات کے زمانے میں ایک عمدہ اور قابل عمل مثال ہے۔ حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے جس انداز میں سب کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھا۔ یہ کام اتنا آسان نہیں لیکن حضرت مرحوم کے صبر واستقامت اور خاموشی سے جو اسلوب سامنے آیا یہ اپنی مثال آپ ہے ۔

آزاد خان
12-18-2010, 04:19 PM
جزاک اللہ خیر

تانیہ
12-20-2010, 09:16 PM
جزاک اللہ

جمشید
02-16-2011, 12:48 AM
جزاک اللہ خیر

سرحدی
03-08-2011, 09:59 AM
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بندہ کو بیعت ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے، بندہ نے حضرت رحمہ اللہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے لیکن کراچی اور حضرت کی خانقاہ میں دوری کی سبب حاضری ہونا مشکل ہوگیا تھا. خیر اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی عمر میں اپنے اولیا کے ساتھ بیٹھنے کا شرف عطا فرمایا. بھت بڑے بزرگ تھے، اللہ تعالیٰ حضرت کی محنتوں کو قبول فرمائے اور ان کی قبر مبارک کو اپنی رحمت اور محبت کے نور سے بھر دے.... آمین

بےباک
03-11-2011, 01:49 PM
واہ جی واہ ، سارے فیضیاب ہو گئے ،
اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائیں.
آمین