PDA

View Full Version : ایران: پھانسی سے چند لمحے قبل معافی



بےباک
04-17-2014, 10:20 PM
ایران میں قتل کے جرم میں پھانسی سے چند لمحات قبل مجرم کو مقتول کے والدین کی جانب سے معاف کیے جانے کے واقعے کا ملک بھر میں چرچا ہے۔
قتل کا یہ واقعہ سات برس قبل بازار میں ایک لڑائی کے دوران پیش آیا تھا۔

حال ہی میں جب بلال نامی مجرم کو 17 سالہ عبداللہ حسین زادہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت دینے کے لیے پھانسی گھاٹ لایا گیا تو مقتول کی والدہ نے پہلے تو اسے ایک طمانچہ رسید کیا اور پھر معاف کر دیا جس سے اس کی جان بچ گئی۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول کے والد عبدالغنی حسین زادہ نے کہا ہے کہ پھانسی کی مقررہ تاریخ سے تین دن قبل ان کی اہلیہ نے خواب میں اپنے بیٹے کو دیکھا جس نے انھیں بتایا کہ وہ بہت اچھے حالات میں ہیں اور وہ بدلہ نہ لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کو دیکھ کر ان کی اہلیہ پرسکون ہوگئیں اور پھر باہمی صلاح مشورے کے بعد انھوں نے بلال کو معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سرعام پھانسی کا عمل دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے افراد نے اس سارے واقعے کو تصاویر کی شکل میں محفوظ کر لیا جو ایران میں فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سماجی روابط کی ویب سائٹس کی مدد سے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں۔
خیال رہے کہ حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ موت کی سزائیں ایران میں دی جاتی ہیں اور اکثر یہ عمل سرعام پھانسی کی شکل میں سرانجام دیا جاتا ہے۔
ایرانی قانون کے مطابق سزائے موت کے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار صرف مقتول کے اہلِ خانہ کے پاس ہے تاہم وہ صرف موت کی سزا معاف کر سکتے ہیں اور مجرم کو پھر بھی قید بھگتنا پڑتی ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ایرانیوں نے بلال کو معاف کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بہادرانہ اور قابلِ احترام قدم قرار دیا جبکہ کچھ لوگ قصاص کے نظام میں تبدیلی اور سزائے موت پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے۔
بہت سے افراد نے اس عمل کو ٹی وی میزبان عادل فردوس پور کی اپیل کا نتیجہ قرار دیا جنھوں نے اپنے پروگرام میں عوام سے بلال کو معافی دلوانے کے لیے پیغامات بھیجنے کو کہا تھا اور اس مہم کے دوران دس لاکھ سے زیادہ پیغامات موصول ہوئے تھے۔
thanks bbc urdu