PDA

View Full Version : اقبال رحمت اللہ اور قادیانیت۔۔۔چند توضیحات



گلاب خان
12-17-2010, 03:39 PM
قادیانیت کے بارے میں علامہ اقبال کے مؤقف کے حوالے سے چند توضیحات قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں:

(۱) مئی ۱۹۳۵ء میں علامہ اقبال نے ایک بیان جاری کیاجس میں کہا کہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بِنا نئی نبوت پر رکھے اور بزعمِ خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے۔ مسلمان اسے اسلام کی و حدت کے لیے ایک خطرہ تصور کریں گے۔ یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہے۔ علامہ نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ جماعت تسلیم کرے۔

علامہ کے بیان پر پنڈت جواہر لعل نہرو نے ’’ماڈرن ریویو‘‘ کلکتہ میں تین تنقیدی مضامین لکھے اور عملاً قادیانیوں کے وکیل صفائی کی پوزیشن اختیار کرلی حالانکہ وہ قادیانیوں کے برطانیہ نواز کردار سے بخوبی واقف تھے۔ علامہ اقبال نے پنڈت جی کے مضامین کے جواب میں اسلام اینڈ احمدازم کے عنوان سے ایک معرکہ آرا مضمون لکھا جس میں ختم نبوت کے مذہبی، عمرانی اور سیاسی پہلوؤں کی وضاحت کرنے کے علاوہ احمدی تحریک کے خدوخال پر بھی روشنی ڈالی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ہندوستانی قوم پرستوں کے علاوہ قادیانی بھی مسلمانانِ ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی نفوذ کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناًفوت ہوجائے گا کہ پیغمبر عرب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی ایک نئی امت تیار کریں۔

علامہ کے اس تجزیے کی تائید ایک ہندو دانشور اور کانگریسی رہنما ڈاکٹر شنکر داس مہرہ کے ایک مضمون سے ہوتی ہے جو مہرہ موصوف نے ایک کانگریس نواز اخبار ’’بندے ماترم‘‘ میں لکھا۔ مہرہ صاحب فرماتے ہیں:

’’ہندوستانی قوم پرستوں کو اگر کوئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے تو وہ احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے۔ وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کرسکتی ہے۔۔۔ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام، کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی، اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لیے روایتی مقاماتِ مقدسہ رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی احمدی چاہے عرب، ترکستان، ا یران یا دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھا ہو، وہ روحانی شکتی کے لیے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لیے پنیہ بھومی (سرزمینِ نجات) ہے۔‘‘(۲۲؍ اپریل ۱۹۳۲ء)

اندازہ ہے کہ ڈاکٹر شنکر داس مہرہ نے قادیانی تحریک کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد یہ مضمون لکھا اُن کے علم میں یقیناًقادیان کی توصیف میں مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ شعر ہوگا:

زمینِ قادیاں اب محترم ہے

ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے

نیز ڈاکٹر مہرہ کی نظر سے مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے ا ور جماعت احمدیہ کے دوسرے امام مرزا بشیرالدین محمود کی کتاب ’’حقیقتہ الرویاء‘‘ ضرور گزری ہوگی جس میں انھوں نے لکھا:

’’قادیان تمام بستیوں کی ماں ہے۔۔۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی کاٹا جائے۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے ۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا یا نہیں۔‘‘(ص۴۶)

اُن کے پیش نظر مرزا بشیرالدین محمود کی یہ تحریر بھی ہوگی:

’’جو قادیان نہیں آتا یا کم ازکم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔۔۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں (قادیان میں) مکہ اور مدینہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘(’’منصبِ خلافت‘‘، ص ۳۳)

(۲) مئی ۱۹۳۵ء میں علامہ اقبال کے اس بیان کے شائع ہونے کے بعد جس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ جماعت قرار دیا جائے۔ ایک قادیانی ہفتہ وار ’’سن رائز‘‘(Sun Rise) نے ایک خط شائع کیا، جس میں علامہ کی ایک تقریر کا حوالہ دے کر ان پر تناقضِ خود(Inconsistency) کا الزام لگایا گیا۔ جب ایک پریس کے نمائندے نے علامہ اقبال کی توجہ ’’سن رائز‘‘ کے اس الزام کی طرف مبذول کرائی تو علامہ نے کہا:

’’۔۔۔ذاتی طور پر میں اُس وقت اس تحریک(احمدیت) سے بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔‘‘(’’حرفِ اقبال‘‘ مرتبہ لطیف احمد شیروانی، ص۱۱۲)

وہ واقعہ کسی اور موقع پر بیان کیا جائے گا جب ایک نوجوان قادیانی مبلغ نے علامہ اقبال کی کوٹھی میں ان کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے اور علامہ نے اسے دھکے دے کر کوٹھی سے نکالیا، لیکن جب ایک عام قادیانی سے یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ تر نبوت کے مدعی تھے تو وہ شدید احتجاج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم قرار دیتے تھے اوراگر انھوں نے اپنے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اس کا حوالہ پیش کیا جائے۔ ہم اس سلسلے میں قادیانی لٹریچر سے کافی حوالے پیش کرسکتے ہیں لیکن فی الوقت مندرجہ ذیل حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔

ایک قادیانی شاعر قاضی محمد ظہور اکمل نے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں ایک نظم کہی جو اخبار ’’بدر‘‘ میں ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو شائع ہوئی۔ اس کے دو شعر ہیں:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

یہ اشعار شاعر نے خود مرزا غلام احمد قادیانی کو متعدد قادیانیوں کی موجودگی میں پڑھ کر سنائے۔ مرزا صاحب نے سن کر جزاک اللہ کہا اور خوشخط لکھی ہوئی اس نظم کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ ۱۹۴۴ء میں اس نظم کے ایک شعر پر بعض لوگوں کے اعتراض کاجواب دیتے ہوئے قاضی اکمل نے ’’الفضل‘‘میں لکھا:

’’وہ اس نظم کا ایک حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہ کیا ، حالانکہ مولوی محمد علی (امیر جماعت احمدیہ لاہور) اور ان کے رفقاء موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے۔ باوثوق کہا جاسکتا ہے کہ سن رہے تھے۔ اگر وہ اس سے بوجوہ مرورِ زمانہ انکار کردیں تو یہ نظم’’بدر‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس وقت ’’بدر‘‘ کی پوزیشن وہی تھی بلکہ کچھ بڑھ کر جو اس عہد میں ’’الفضل‘‘ کی ہے۔ مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر’’بدر‘‘ سے ان لوگوں کے محبانہ اور بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر ناراضگی یا ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاک اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کرکے اپنی کمزوری ایمان اور قلتِ عرفان کا ثبوت دیتا۔‘‘(’’الفضل‘‘، ۲۲؍ ا گست ۱۹۴۴ء)

قاضی اکمل مزید لکھتے ہیں:

’’یہ شعر خطبۂ الہامیہ پڑھ کر حضرت مسیح موعود کے زمانے میں کہا گیا اور ان کو سنا بھی دیا گیا اور چھاپا بھی گیا۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۲۲؍ اگست ۱۹۴۴ء)

ہوسکتا ہے کہ عام قارئین مرزا غلام احمد قادیانی کے خطبہ ا لہامیہ سے واقف نہ ہوں اس لیے مطبوعہ خطبے کا متعلقہ حصہ درج کیا جاتا ہے ۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’اور جان لو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے، ایسا ہی مسیح موعود کی بروزیصورت اختیار کرکے چھٹے ہزار سال کے آخر میں مبعوث ہوئے۔‘‘

مرزا صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں کہ بعثتِ ثانیہ بعثتِ اولیٰ سے کہیں زیادہ طاقتور، کامل اورروشن ہے:

’’بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار سال کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت اُن سالوں کے قویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے۔‘‘ (’’روحانی خزائن‘‘جلد ۱۶، ص۲۷۰،۲۷۱،۲۷۲)

ایک قادیانی اہل قلم محمد نذیر لائل پوری اپنی کتاب میں قاضی اکمل کا یہ شعر:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

درج کرکے لکھتے ہیں:

’’چونکہ اس شعر سے فی الواقع غلط فہمی ہوسکتی ہے۔ اس لیے میں نے یہ شعر حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ(مرزا بشیرالدین محمود) کی خدمت میں پیش کیا۔ اس پرحضرت خلیفۃ المسیح نے اس شعر کی نسبت تحریر فرمایا: ’’الفاظ ناپسندیدہ اور بے ادبی کے ہیں۔‘‘(احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک، حصہ دوم، ص۲۰۸)

نیز قاضی اکمل کا جو مجموعۂ کلام شائع ہوا اس میں انھوں نے اس شعر کو نکال دیا۔ لیکن قادیانیوں کا موقف ہے کہ ایسا مصلحتاً اور مجبوراً کیا گیا۔ ورنہ جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے۔

صاحبزادہ بشیراحمد لکھتے ہیں:

’’اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم)کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے۔ چونکہ مسیح موعود، نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے آپ کا انکار کفرنہ ہو۔‘‘(کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلی جنز، قادیان، ص۱۴۶،نمبر۳، جلد ۱۴)

مرزا بشیرالدین محمود کے ایک قریبی عزیز ڈاکٹر شاہ نواز خان(جو خود بھی قادیانی تھے) نے ایک قادیانی جریدے میں لکھا:

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔۔۔ اس زمانے میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے۔ نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا۔ ورنہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کو موقع ملا اور ذہنی طاقتوں کی نشوونما ہوگئی۔‘‘(ریویو آف ریلی جنز، قادیان مئی ۱۹۲۹ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ تر نبوت کے دعوے کے سلسلے میں سب سے اہم حوالہ قاضی محمد ظہور اکمل کے وہ اشعار ہیں جو اس سے قبل درج کیے جاچکے ہیں۔ یہ اشعار اخبار’’بدر‘‘ قادیان (جلد نمبر۲، شمارہ نمبر۴۳) ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو شائع ہوئے۔ قاضی محمد ظہور اکمل نے اخبار ’’الفضل‘‘ (قادیان، جلد نمبر ۳۲، شمارہ نمبر ۱۹۶) مؤرخہ ۲۲؍ اگست ۱۹۴۴ء کولکھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان اشعار کی تحسین کی۔ ہماری اطلاع کے مطابق’’بدر‘‘ اور ’’الفضل‘‘ کے مذکورہشمارے خلافت لائبریری ربوہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے کتب خانے میں موجود ہیں۔ اخبار’’بدر‘‘ (۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء) کے جس صفحے پر اکمل کے اشعار شائع ہوئے تھے اس کا عکس اس مضمون کے آخر میں دیا جارہا ہے۔

مندرجہ بالا حوالے علامہ اقبال کے اس موقف کو Substantiateکرنے کے لیے کافی ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ تر نبوت کے مدعی تھے۔

تانیہ
12-20-2010, 09:42 PM
تھینکس فار شیئرنگ