PDA

View Full Version : جنگ گروپ اور جیو نیوز کی کھلی بغاوت



سید انور محمود
04-27-2014, 07:51 AM
تاریخ: 27 اپریل، 2014

جنگ گروپ اور جیو نیوز کی کھلی بغاوت
تحریر: سید انور محمود
روزنامہ جنگ میر خلیل الرحمن نے 1940ء میں دہلی سے شروع کیا۔ اس وقت کے حالات کے مطابق یہ اخبار بھی برصغیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کررہا تھا اور مسلم لیگ کی ترجمانی کررہا تھا۔1947ءمیں قیام پاکستان کے بعد کراچی کو دارلحکومت بنایا گیا، دارلحکومت ہونے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کراچی ایک ابھرتا ہوا صنعتی شہر بن گیا۔آبادی میں اضافہ اور کراچی کی ترقی میں اخبارات کے قاریئن میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔ دہلی کے تین مسلم اخباروں روزنامہ ڈان، روزنامہ جنگ اورروزنامہ انجام نے آزادی کے بعد اپنے دفاتر کراچی منتقل کئے۔ روزنامہ ڈان چونکہ انگریزی زبا ن کا اخبار ہے لہذا اُس کا مقابلہ نہ جنگ سے تھا اور نہ ہی انجام سے لیکن جنگ اور انجام میں مقابلہ جاری رہاجس میں انجام کو پڑھنے والے جنگ سے کافی زیادہ تھے۔ لیکن بعد میں دیکھتے ہی دیکھتے روزنامہ جنگ ترقی کرتا چلاگیا اور روزنامہ انجام کافی اتار چڑھاوُ کے بعد آخرکار بند ہوگیا۔ روزنامہ جنگ کی ترقی کے پیچھے دراصل میر خلیل الرحمن کی قابلیت نہیں بلکہ کاروباری سازشیں تھیں، جن کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے "روزنامہ انجام" جیسے اخبار کو اپنی سازشوں کےذریعے بند کرادیا۔

قیام پاکستان سے قبل "روزنامہ انجام" کو مسلم لیگ کا آرگن ہونے کا اعزاز تو حاصل نہیں تھا لیکن انجام شہرت میں سب سے آگے تھا۔ انہیں دنوں میر خلیل الرحمان نے سید محمد تقی صاحب کی زیرادارت "روزنامہ جنگ" کا آغاز کیا مگر قیام پاکستان تک روزنامہ جنگ دہلی میں مقبول نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی مدیران اخبار کی نیتوں سے پردہ اٹھا تھا۔ سنسنی خیزی اور عوام کے جذبات سے کھیلنا اور اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے روزنامہ جنگ روزنامہ انجام جیسے بھاری قدیم اخبار کا وقار نہیں گرا سکا تھا۔ جرم وسزا کی خبریں نمایاں کرنا، نیم برہنہ عورتوں کی تصویروں کی نمائش کرکے ظاہر ہے روزنامہ جنگ کسی سیاسی یا تہذیبی تربیت کا فریضہ انجام نہیں دے رہا تھا۔ روزنامہ جنگ نے ایک اور گھٹیا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ جن کے ہاں"روز نامہ انجام" باقاعدگی سے آتا تھا وہاں صبح سویرے ہاکر جو اخبار پھینک جاتا وہ "روزنامہ جنگ" ہوتا، ہاکر سے اتنی صبح ملنا کوئی آسان نہیں تھا مہینے کے آخر میں حساب کرتے وقت جب پوچھا جاتا تو ہاکر کا جواب ہوتا کہ "انجام" ہم کو ملتا ہی نہیں، نیوز ایجنسی جا کر معلوم ہوا کہ "انجام" وقت پرنہیں پہنچ پاتا۔ا یسی بدنظمی کا شکار"انجام" نہیں ہو سکتا تھا، مگرہاکر، نیوز ایجنسی اور حکام کے ساتھ ملی بھگت کرکے ایسا کیا گیا، اسکے علاوہ جنگ نے اپنی ذاتی نیوز ایجنسیاں بھی قائم کر لی تھیں۔ بازار سے "انجام" کے بنڈل کے بنڈل خرید کر نذر آتش کر دیے جاتے۔ عثمان آزاد کو الگ بدنام کرنے کی مہم چل نکلی تھی، اور پھر ایک سازش کرکے انجام کو فروخت کروادیا گیا۔ اسکے بعد انجام کبھی شایع ہوا اور کبھی بند اور پھر آخرکار " روزنامہ انجام" اپنے انجام کو پہنچا اور ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بند ہوگیا، شاید آج کی نوجوان نسل کو "روزنامہ انجام" کے بارئے میں معلوم ہی نہ ہو۔ میر خلیل الرحمن کا ہدف تھا کہ "روزنامہ جنگ " کو جنگ گروپ بنانا اورپورئے پاکستان میں "جنگ گروپ" کی اجاراداری قائم کرنا اور اس مقصد میں میر خلیل الرحمن اپنی زندگی میں ہی کامیاب ہوچکے تھے۔ روزنامہ حریت کے فخر ماتری نے ہاکرز کی انفرادی ٹیم کے ذریعے اپنے اخبار کو بروقت پہنچانے کا اہتمام کیا۔ طباعت کے معیار میں بھی "روزنامہ حریت" جنگ سے کہیں بہتر تھا مگرکاروباری سازشی ذہن، کثیر سرمایہ اور سیاسی اثر ونفوذ والے "جنگ" کا مقابلہ وہ نہ کر سکے۔

ہندوستان اور پاکستان کے ابتدائی زمانے میں لمحہ لمحہ بدلتے ہوئے سیاسی تناظر، کشمیر کے مسئلے، نئی سرحدوں اور دریاؤں کی تقسیم کے نہایت اہم معاملات کے ساتھ بین الاقومی سطح پر ایک خاص انداز کی گروہ بندیوں میں " روزنامہ جنگ" نے تمام اخبارات کے مقابلے پر سب سے زیادہ سیاسی استحصال کیا اور اپنے عوام میں کبھی وہ شعور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جو ایک حقیقی صحافت کا فرض ہوتا ہے۔ چڑھتے سورج کے ساتھ موضوعات بدل دینا جنگ کی صحافت کا ایک بدترین کارنامہ رہا ہے۔ بحران کی صورت میں ٹھہراؤ پیدا کرنے کی بجائے اپنی اشاعت کو بڑھانا اور حقائق سے پردہ نہ اٹھانا جنگ کی پالیسی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں غلام محمد جیسے افراد اقتدار میں آئے، فوج کو مداخلت کا موقع فراہم ہو یا ملک ٹوٹ جائے۔ پاکستانی معاشرے کی تباہی میں جتنا کردار جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ان کی محافظ نوکر شاہی اور اقتدار پسند فوج کا رہا ہے اتنا ہی کردار روزنامہ جنگ کا بھی ہے۔ ملک کی تباہی میں جنگ گروپ کی ترقی کا سامان وافر تھا، جنگ گروپ کے اثاثے لاکھوں سے کروڑوں میں ہو گئے تھے جو اب اربوں میں ہونگے۔جنگ گروپ نے محض اپنی ذاتی مفاد کیلئے ہر اُس قدر کو پامال کیا جو ایک نوتعمیر معاشرے کی بنیاد مضبوط کر سکتی تھی۔ روزنامہ جنگ کے بانی میر خلیل الرحمان نےایک موقعہ پر کہاتھا "یہ کسی پارٹی کا نمائندہ اخبار نہیں ہے جو اپنے نصب العین کیلئے نقصان اٹھانا برداشت کر لے"۔ بھٹو دور میں جب مخالف صحافیوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی تھی تو ہڑتالیوں کی حالت زار دیکھ کر میر خلیل الرحمان نے کہا تھا، "بیشک آپ مشنری لوگ ہیں۔ آپ کا اخبار کاغذ کے پرزے پر بھی بک جائے گا۔ روزنامہ جنگ پر اگر کوئی ایسی افتاد پڑے تو اس کو دوسرے دن پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا"۔ انہوں نے بارہا کہا کہ جنگ ایک کمرشل اخبار ہے۔ اس سے آپ "زمیندار" یا "کامریڈ" والی کسی قربانی اور ایثار کی توقع نہ رکھئیے۔ ان بیانات میں کسی قسم کی شرمندگی کے بغیر جو نیم فخریہ انداز اخبار کے کمرشل ہونے پر موجود ہے اُسی نے جنگ کو ابتداءسے پاکستان کی سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی تباہی میں 'قابل فخر‘ کردار انجام دینے کے قابل بنا دیا تھا۔

میر خلیل الرحمن کے بعد اب اُن کے چھوٹے بیٹے میر شکیل الرحمن اخبار کے مالک، چیف ایگزیکٹو اور ایڈیٹرانچیف ہیں۔ آج روزنامہ جنگ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، کوئٹہ اور ملتان کے علاوہ برطانیہ کے شہر لندن سے بھی شائع ہوتا ہے۔ جنگ گروپ نے11فروری 1991سے لاہور ،راولپنڈی اور کراچی سے بیک وقت انگریزی اخبار"دی نیوز"جاری کیا۔جنگ گروپ نے 2002ء میں جیو ٹی وی چینل کے نام سے پاکستان میں اپنی نشریات کا آغاز کیا بعد میں اس چینل میں توسیع ہوئی اور اس کے مزید چینل کھلے جو اب جیو نیوز، جیو سپر، جیو ٹی وی اور جیو کہانی کے نام سے چل رہے ہیں۔ جیو نیوز پر چلنے والے کافی پروگرام باہر کے ممالک سے فنڈیڈ ہیں، ان میں سے کچھ پروگراموں پر پاکستان کے دفاعی اداروں کو بہت عرصےسے اعتراض ہے، جس میں "امن کی آشا" سرفہرست ہے، چونکہ نواز شریف صاحب کو بھی ہندوستان سے دوستی اور تجارت کرنے کا بہت شوق ہے لہذا جیو نیوز اور نواز شریف کے مفادات ایک جیسے ہوگے ہیں، جبکہ جنگ گروپ اور جیو کا اصول یہ رہا ہے کہ"اپنا فائدہ کس میں ہے" اُسکو دیکھو، اور "جس کی لاٹھی اُس کی بھینس" کا شور مچاتے رہو۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھ کر جنگ گروپ اور جیو نیوز فوج کے خلاف خاصکر آئی ایس آئی کے خلاف اپنی مہم چلاتے ہیں، حامد میر مسلسل کئی ماہ سے آئی ایس آئی کے خلاف محاذ کھولے ہوئےتھا، وہ اپنے پروگرام میں کسی بھی بہانے فوج کو ضرور برا بھلا کہتا تھا، اپنے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اُن لوگوں کو بلارہا تھا جو فوج کے خلاف ہوتے۔

جیو نیوز کے ایک اور پروگرام "جرگہ" کے اینکر سلیم صحافی نے تو فوج کے خلاف ایک بہت بڑا کارنامہ اسطرح انجام دیا کہ سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن سے یہ کہلوادیا کہ طالبان دہشت گردوں میں سے اگر کوئی امریکی ڈرون حملوں میں مرےتو وہ شہید مگر پاک فوج کا کوئی جوان یا عام شہری اگر مرےتو وہ شہید نہیں۔ جنگ گروپ میں موجود طالبان کا حامی اور پاک فوج کا مخالف انصار عباسی کا کام یہ ہے کہ روزانہ دو تین مضمون لکھے جن میں کچھ طالبان کی حمایت میں ہوں اور کچھ فوج کی مخالفت میں ، جو جنگ اور دی نیوز میں خبر کے طور پر شایع ہوں اور جیو نیوز پر خبر کی طرح نشر ہوں، یہ ایک کھلی صحافتی بے ایمانی ہے۔ نواز شریف کےلیے شاید یہ مشکل ہے کہ وہ ذاتی طور پر جنرل پرویز مشرف سے بدلا نہ لیں ، لہذا اُنکا دوست اورسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اُنکو آرٹیکل چھ کی لالی پاپ دئے گیا ہے، مگر فوج کو انکا یہ لالی پاپ چوسنا پسند نہیں ، دوسرئے نواز شریف کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بانسری بجانے پر بھی فوج کو اعتراض ہے۔ اس موقعہ پر جیو نیوز کا نواز شریف کی حمایت کرنا اور نواز شریف حکومت کا جیو نیوز کی حمایت کرنا ہر پاکستانی کی سمجھ میں آرہا ہے۔

ہفتہ 19 اپریل کو اسلام آباد سے کراچی آمد کے فورا بعد شام پانچ بجے کے قریب حامد میر پر جان لیوا حملہ ہوتا ہے اور جیو نیوز اسکے کچھ منٹ بعد ہی اپنا مکرودہ کھیل شروع کرتا ہے، اور کھل کر افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے۔ اس حملے کا ذمیدار آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کو بتاتا ہے اورجنرل ظہیر الاسلام کی تصویر مستقل جیو نیوز پر ایک مجرم کی حیثیت سے دکھائی جاتی رہی۔ پاکستان کی وزارت دفاع کی شکایت کے بعد پیمرا نے جیونیوز کو جاری کئے جانے والے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ کیوں نہ جیو نیوزکو بند کردیاجائے۔ جیونیوز ایک طرف تو اپنی شرمناک حرکت پر معافی مانگ رہا ہے جبکہ دوسری طرف پیمرا پر یہ الزام لگاتا ہے کہ ہم کو نوٹس جواب سنے بغیر جاری کیا گیا ہے۔ جیونیوز کیوں لوگوں کو بیوقوف سمجھ رہا ہے یہ جو چودہ دن میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے یہ کیا ہے۔ وزارت دفاع نے پیمرا حکام کو بھجوائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ جیونیوز کے خلاف ثبوت اور حقائق کو دیکھنے کے بعد فوری طور پر جیو نیوز کا لائسنس منسوخ کردیا جائے۔ یاد رہے کہ اس خط پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دستخط کیے ہیں، مگر اس وقت یہ مرد کا بچہ منظر سے غائب ہے۔

آخر میں حکومتی کمیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ اس بات کو لازمی معلوم کرے کہ ایک میڈیا گروپ کس کے اشاروں پر پاکستان کی سلامتی پر حملہ کررہا تھا، کمیشن اس بات کی بھی تحقیقات کرئے کہ حامد میر پر کس نے حملہ کیا، اُسکے محرکات کیا تھے اور حامد میر مسلسل فوج کے خلاف کس کے اشارئے پر پروگرام کررہے تھے، انصار عباسی کس حیثیت سے آئی ایس آئی کے سربراہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہا تھا۔ حکومتی کمیشن کو چاہیے کہ وہ جنگ گروپ اور جیونیوز کے پاک فوج مخالف طرز عمل پر بھی ضرورتحقیقات کرے اور اپنی رپورٹ کو مقرر وقت پر عوام کےلیے شایع بھی کرئے۔ حکومت سے بھی یہ مطالبہ ہے کہ کمیشن کی تجاویز پرشفاف عمل کرئے۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر حامد میر کےلیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی انکو جلد از جلد صحتیاب کرئے اور وہ دوبارہ اپنے بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گذاریں۔ دوستوں کوشش کی ہے آپ لوگوں کو جنگ گروپ اور جیو نیوز کی کھلی بغاوت کی اصل شکل دکھانے کی، امید ہے آپ بھی سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے کمیشن اور حکومت سے میرےمطالبے کی تائید کریں گے۔

بےباک
04-27-2014, 08:14 AM
دہلی کے تین مسلم اخباروں روزنامہ ڈان، روزنامہ جنگ اورروزنامہ انجام نے آزادی کے بعد اپنے دفاتر کراچی منتقل کئے۔ روزنامہ ڈان چونکہ انگریزی زبا ن کا اخبار ہے لہذا اُس کا مقابلہ نہ جنگ سے تھا اور نہ ہی انجام سے لیکن جنگ اور انجام میں مقابلہ جاری رہاجس میں انجام کو پڑھنے والے جنگ سے کافی زیادہ تھے۔ لیکن بعد میں دیکھتے ہی دیکھتے روزنامہ جنگ ترقی کرتا چلاگیا اور روزنامہ انجام کافی اتار چڑھاوُ کے بعد آخرکار بند ہوگیا۔ روزنامہ جنگ کی ترقی کے پیچھے دراصل میر خلیل الرحمن کی قابلیت نہیں بلکہ کاروباری سازشیں تھیں، جن کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے "روزنامہ انجام" جیسے اخبار کو اپنی سازشوں کےذریعے بند کرادیا۔


واقعی یہ باتیں میرے علم میں بالکل نہیں تھیں ،
آپ کی وجہ سے آج معلوم ہوئیں ،

حکومتی کمیشن کو چاہیے کہ وہ جنگ گروپ اور جیونیوز کے پاک فوج مخالف طرز عمل پر بھی ضرورتحقیقات کرے اور اپنی رپورٹ کو مقرر وقت پر عوام کےلیے شایع بھی کرئے۔ حکومت سے بھی یہ مطالبہ ہے کہ کمیشن کی تجاویز پرشفاف عمل کرئے۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر حامد میر کےلیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی انکو جلد از جلد صحتیاب کرئے اور وہ دوبارہ اپنے بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گذاریں۔ دوستوں کوشش کی ہے آپ لوگوں کو جنگ گروپ اور جیو نیوز کی کھلی بغاوت کی اصل شکل دکھانے کی، امید ہے آپ بھی سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے کمیشن اور حکومت سے میرےمطالبے کی تائید کریں گے۔
آپ کی بات معقول ہے ، ایسا ہی ہونا چاہیے ،
جزاک اللہ جناب سید انور محمود صاحب ، آنکھیں کھولنے والا تجزیہ ہے ،

شاہنواز
05-14-2014, 12:40 PM
جی یہ سچ ہے انجام اور جنگ کی یہ جنگ حقیقت پر مبنی ہے جو کہ ہم بھی اسی نیوز گروپ سے وابستہ رہے ہیں اور ابھی تک ان سے ہمارا تعلق قائم ہے اسی وجہ سے اس کی حقیقت سے واقف ہیں کہ انجام کا انجام کیا ہوا اور کیسے ہوا سید محمود صاحب نے حقیقت بیان فرمائی ہے لیکن میں یہاں یہ اضافہ کرتا چلا جاؤں کہ میری ناقص معلومات کے مطابق انجام کی تمام کی تمام کاپیاں جنگ گروپ صبح ہی صبح کے اندھیرے میں خرید لیا کرتا تھا جس کی بناء پر انجام مارکیٹ میں ایجنسیوں اور ہاکروں کے پاس نہیں پہنچ پاتا تھا اگر پہنچ بھی جاتا تو وقت پر نہیں پہنچ پاتا تھا اسی بناء پر انجام اپنے انجام کو پہنچا

سید انور محمود
05-14-2014, 01:00 PM
جی یہ سچ ہے انجام اور جنگ کی یہ جنگ حقیقت پر مبنی ہے جو کہ ہم بھی اسی نیوز گروپ سے وابستہ رہے ہیں اور ابھی تک ان سے ہمارا تعلق قائم ہے اسی وجہ سے اس کی حقیقت سے واقف ہیں کہ انجام کا انجام کیا ہوا اور کیسے ہوا سید محمود صاحب نے حقیقت بیان فرمائی ہے لیکن میں یہاں یہ اضافہ کرتا چلا جاؤں کہ میری ناقص معلومات کے مطابق انجام کی تمام کی تمام کاپیاں جنگ گروپ صبح ہی صبح کے اندھیرے میں خرید لیا کرتا تھا جس کی بناء پر انجام مارکیٹ میں ایجنسیوں اور ہاکروں کے پاس نہیں پہنچ پاتا تھا اگر پہنچ بھی جاتا تو وقت پر نہیں پہنچ پاتا تھا اسی بناء پر انجام اپنے انجام کو پہنچا

شکریہ شاہ نواز صاحب
میں نے ایک جگہ لکھا ہے:۔

"روزنامہ جنگ نے ایک اور گھٹیا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ جن کے ہاں"روز نامہ انجام" باقاعدگی سے آتا تھا وہاں صبح سویرے ہاکر جو اخبار پھینک جاتا وہ "روزنامہ جنگ" ہوتا، ہاکر سے اتنی صبح ملنا کوئی آسان نہیں تھا مہینے کے آخر میں حساب کرتے وقت جب پوچھا جاتا تو ہاکر کا جواب ہوتا کہ "انجام" ہم کو ملتا ہی نہیں، نیوز ایجنسی جا کر معلوم ہوا کہ "انجام" وقت پرنہیں پہنچ پاتا۔ا یسی بدنظمی کا شکار"انجام" نہیں ہو سکتا تھا، مگرہاکر، نیوز ایجنسی اور حکام کے ساتھ ملی بھگت کرکے ایسا کیا گیا، اسکے علاوہ جنگ نے اپنی ذاتی نیوز ایجنسیاں بھی قائم کر لی تھیں۔ بازار سے "انجام" کے بنڈل کے بنڈل خرید کر نذر آتش کر دیے جاتے۔ عثمان آزاد کو الگ بدنام کرنے کی مہم چل نکلی تھی، اور پھر ایک سازش کرکے انجام کو فروخت کروادیا گیا۔ اسکے بعد انجام کبھی شایع ہوا اور کبھی بند اور پھر آخرکار " روزنامہ انجام" اپنے انجام کو پہنچا اور ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بند ہوگیا، شاید آج کی نوجوان نسل کو "روزنامہ انجام" کے بارئے میں معلوم ہی نہ ہو"۔
آپنے اس کی تصدیق فرمائی ہے جس پر میں آپکا شکرگذار ہوں۔

شاہنواز
05-14-2014, 01:39 PM
جی جو سچ تھا میں نے بیان فرمادیا کہ ہمارا اوڑنا بچھونا ہی سیاست ہے کہ کون کون سا اخبار کب جاری ہوا اور کیسے اپنے انجام کو پہنچا بہت سے اخبارات نے یہ ڈھونگ رچایا کوئی کامیاب ہوا اور کوئی ناکام کوئی اپنی موت آپ مرگیا لیکن حقیت یہ ہے کہ جنگ اور انجام اپنے انجام کو پہنچا یہی حال نوائے وقت اور جنگ کا ہوا نوائے وقت ابھی تک قائم ہے لیکن جنگ نے اس کو بھی ایک طرح کی شکست سے دوچار کردیا ہے اور کیا مثالیں پیش کروں آپ کے سامنے مشرق آغاز
بہت سے دوسرے اخبارا جیتی جاگتی مثالیں ہیں

سید انور محمود
05-14-2014, 04:33 PM
شکریہ شاہ نواز صاحب
اسکا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل میں معلومات کے سلسلے میں آپ مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
اگر ممکن ہو تو میرا فیس بک جوائن کریں https://www.facebook.com/S.Anwer.Mahmood

شکریہ

شاہنواز
05-20-2014, 12:12 PM
جی جلد ہی کرتا ہوں

بےباک
05-23-2014, 07:58 AM
http://ummat.net/2014/05/23/images/story2.gif