PDA

View Full Version : دعا



ساجد پرویز آنس
05-29-2014, 10:16 PM
دعا
خدایا سن دعا میری مجھے تُو سرخَرُو کر دے
مرےدل کو چمک دے دےکہ مثلِ خوبرُو کر دے
نیا شوقِ تکلّم دے وہ تُو ذوق ِ تعلّم دے
کہ اس نابود صلصالِ زمن کو جو گرُو کردے
مرےدل کو عطا کر دےکہ اک شوقِ سحرخیزی
اسی ذوقِ تقاضا سے عباد ِ قبلہ رُو کر دے
شناسا کر حقیقت سے بچا لےپھر کدورت سے
زمانے کے غریبوں کو عطا تو آبرُو کر دے
مرے دل کی تمّنا ہے خدایا تو وہ پوری کر
مدینے ہی مجھےلےچل حَرَم کے روبرُو کردے
گُلِ نَو میں اُجاگر کر تمّنا رونَمائی کی
چمن کا ہر شجَر پھر صُورَتِ طُورِ تَرُو کر دے

بےباک
05-30-2014, 07:31 AM
سب سے پہلے اردو منظر پر آپ کو خوش آمدید ،
http://i61.tinypic.com/neci6o.gif
دعا بے حد پسند آئی ہے خاص طور پر یہ ،

زمانے کے غریبوں کو عطا تو آبرُو کر دے
مرے دل کی تمّنا ہے خدایا تو وہ پوری کر
کچھ مشکل الفاظ کے معنی بھی ساتھ لکھ دیں ،

صلصال ۔ ترو ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی ذوقِ تقاضا سے عباد ِ قبلہ رُو کر دے
اس میں عباد جمع ہے ، عبد کی ، اس کی کچھ تشریع کر دیں ، مہربانی ہو گی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
شکریہ ،

ساجد پرویز آنس
05-30-2014, 08:30 PM
سلام عاجزانہ
جناب بے باک صاحب ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہمیں اس محفل میں سب سے پہلے خوش آمدید کہا اور ہم آپ سے اچھے تعاون کی امید کرتے ہیں
ہمیں دلی خوشی ہوئی کہ آپ نے ہماری تحریر پڑھی اور اپنی راۓ کا اظہار کا اظہار کیا
جناب میں نے یہ نظم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
کے وزن پر لکھنے کی کوشش کی ہے اور آپ سے امید رکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ضرور نظر ثانی کریں گے

مرےدل کو عطا کردےاک شوقِ سحر خیزی
اسی ذوق ِ تقاضا سے عباد ِ قبلہ رو کر دے
اس شعر میں شاعر خدا سے دعا کر رہا ہے کہ میرے دل میں کو ایسا شوق ایسا جذبہ پیدا کردے کہ میں صبح جلدی اٹھو اور تیری عبادت کروں
اور پھر اسی شوق اور جذبے سے تمام عباد(عبد کی جمع اوراس کے لفظی معنی بندہ،غلام ) کو قبلہ رو کردے یعنی کہ نمازی بنادے
چمن کا ہر شجر پھر صُورَتِ طُورِ ترو کردے
اس میں شاعر دعا کر رہا ہے کہ دنیا کے ہر درخت کو طور(جہاں حضرت موسی نے خدا کی تجلی دیکھی) کے درخت جیسا کر دے ترو کے لفظی معنی پیڑ،درخت کے ہیں
صلصال کے لفظی معنی کھنکتی ہوئی مٹی کے ہیں وہ مٹی جس سے انسان کو پیدا کیا گیا لہذا صلصال سے مراد انسان ہے
جناب یہ تھے ہمارے ٹوٹ پھوٹے الفاظ جہاں تک ہمارا علم ہے وہ کچھ ہم نے بیان کردیا کیوں کہ ابھی ہم بھی طفل مکتب ہیں
انشااللہ ہم اپنی تحریریں ہم اپنی تحریریں یہاں لگاتے رہیں گے اور آپ سے قوی امید رکھتے ہیں کہ آپ ہماری رہنمائی کریں
ہمیں اپنی دعاوں میں یاد رکھئے
فی امان اللہ

تانیہ
06-03-2014, 10:22 AM
آمین ثم آمین
بہت خوبصورت دعا ہے

رافع
06-03-2014, 10:52 AM
آمین.

جاذبہ
06-03-2014, 08:37 PM
ماشا ء اللہ بہت خوب ساجد پرویز آنس صاحب
آپکی دُعا بہت خوبصورت اور اچھے الفاظ کے ذخیرے سے بُنی ہوئ ہے ۔
آپکا ذوق بلا شبہ قابل تعریف ہے ۔
بہت شکریہ !!!آپ نے ہم جیسے لوگوں کیلئے تھوڑی تشریح کر دی جس سے سمجھنا آسان ہو گیا ۔
آئندہ آپکی تحریروں کا انتظار رہے گا ۔ اُ مید ہے سب ایک سے بڑ ھ کر ایک ہونگی ۔
وسلام

ساجد پرویز آنس
06-06-2014, 05:52 PM
سلام عاجزانہ
جاذبہ جی ہمیں یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ہماری تحریر کو سراہا اس کے لئے ہم آپ کے شکر گزار ہیں اور ہمیں قوی امید ہے کہ آئندہ بھی آپ ہماری تحریروں پہ اپنی راۓ کا اظہار کریں
ہمیں آپ کے بے لاگ تبصرے کا انتظار رہے گا دعا ہے کہ خدا آپ کو صدا سلامت رکھے
اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھئے
فی امان اللہ

بےباک
06-06-2014, 10:32 PM
زمانے کے غریبوں کو عطا تو آبرُو کر دے
مرے دل کی تمّنا ہے خدایا تو وہ پوری کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا شعر ہے اور اچھی طلب بھی
آپ سے ایک بات کہنی ہے ، اس شعر میں " تو" کچھ اضافی لگتا ہے ، باقی میں شاعر تو نہیں ۔ غلط بھی ہو سکتا ہے
"تو "کے بغیر دیکھئے


زمانے کے غریبوں کو عطا آبرُو کر دے
مرے دل کی تمّنا ہے خدایا وہ پوری کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب سے ضرور نوازئیے گا

ساجد پرویز آنس
06-07-2014, 11:37 AM
سلام عاجزانہ
جناب بے باک صاحب ہمیں جان کر بہت خوشی ہوئی کہ کوئی تو ہے اس محفل میں جو شعر کو پرکھنے کی کوشش کر رہا ہے
لیکن شاید آپ غلطی کر رہے ہیں شعر کی پہچان کرنے میں ہمیں امید ہے کہ آپ بات کا برا نہیں منائیں گے
سب سے پہلی بات کہ غزل یا نظم کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں اس نظم میں مطلع ہے
خدایا سن دعا میری مجھے تو سرخرو کردے
مرےدل کو چمک دےدےکہ مثل خوبرو کردے
اب اس شعر میں ہم قافیہ الفاظ "سرخرو" اور "خوبرو" استعمال ہوے ہیں جبکہ "کردے" بطور ردیف استعمال ہوا
اب اسی قافیہ اور ردیف کو مد نطر رکھتے ہوئے اس شعر کو پڑھتے ہیں جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے
زمانے کے غریبوں کو عطا تو آبرو کردے
مرے دل کی تمنا ہے خدایا تو وہ پوری کر
جناب ہم آپ کے اور باقی ارباب محفل کے علم میں اضافے کیلئے یہ بات لکھ رہے ہیں کہ شاید کسی کا بھلا ویسے ہم بھی ابھی طفل مکتب ہے
کسی غزل کے مطلع کے بعد جو اشعار آتے ہیں ان کے دوسرے مصرے میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں
جبکہ آپ غلطی سے شعر بنا کر پیش کر رہے ہیں دراصل وہ دو اشعار کا ایک ایک مصرع ہے
دوسری بات یہ کہ قوافی اور ردیف "آبرو کردے" شعر کے پہلے مصرع میں آرہے ہیں
جوکہ میرے خیال سے شعری اصول کے خلاف ہے
اصل اشعار یوں ہیں
شناسا کر حقیقت سے بچا لےپھر کدورت سے
زمانے کے غریبوں عطا تو آبرو کردے
جبکہ دوسرا شعر یوں ہے
مرے دل کی تمنا ہے خدایا تو وہ پوری کر
مدینے ہی مجھے لے چل حرم کے روبرو کردے

مجھے نہیں معلوم کہ میں آپ کو یہ بات سمجھانے میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں
خیر کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے اور انسان غلطی کرکے ہی سیکھتا ہے بس کسی کام کو سیکھنے کے لئے دل میں لگن ہونی چاہیے اور کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جوکہ سوجھ بوجھ ہونے کے باوجود بھی ہو جاتی ہیں کیوں کہ انسان خطا کا پتلا ہے کسی بھی وقت غلطی کر سکتا ہے
ایک اور بات اس بزم میں نے نوٹ کی ہے شکریہ ادا کرنے کا طریقہ کہ خالی اس آپشن پے کلک کرو اور شکریہ ادا ہو گیا میرے خیال سے تو یہ طریقہ بالکل غلط ہے اسے ختم کردینا چاہیے اس سے کسی میں لکھنے کا رحجان ہی پیدا نہیں ہو گا
اگر انسان کسی تحریر کی تعریف یا تنقید میں آج ایک لفظ لکھتا ہے تو کل دو لفظ لکھے گا پھر آہستہ آہستہ اس میں لکھنے کی یا محفل میں تحریر پر بحث کرنے سکت پیدا ہو گی لیکن اگر شکریہ ادا کرنے کا سسٹم رہا تو کیسے کوئی لکھ پاۓ گا
اب اس امید کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ تمام ارباب محفل میری تحروں اور باقی احباب کی تحروں پہ کھل کر اپنی راۓ کا اظہار کریں گے چاہے وہ تعریف ہو یا تنقید.... خالی واہ جی واہ بہت خوب....لکھنے سے یا شکریہ ادا کرنے سے کچھ حاصل نہیں تنقید کرو گے تحریر کو جانچنے یا پھرکھنے کی کوشش کرو گےتنقید کرو گے تو کچھ سیکھنے کو ملے اور شاعر یا لکھاری کیلئے تعریف کے ساتھ ساتھ تنقید بھی ضروری ہے کیوں کہ وہ تنقید کے ذریعے ہی اپنی تحریروں کی اصلاح کرتا ہے
دعا ہے کہ خدا آپ کو زور قلم عطا کرے
اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا
فی امان اللہ