PDA

View Full Version : اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو



حبیب صادق
06-09-2014, 10:30 PM
اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو

بھنورے سے مِلتی جُلتی ہے میں نے کہا یہ خُو

پُوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو

دیکھا ہے کیا فلک پہ وہ تنہا اُداس چاند؟
آیا جواب ، اُس کو کسی کی ہے جُستجو !

ہوتی ہے کیوں یہ اَشکوں کی برسات رات بھر
آیا جواب ، آنکھوں کا ہوتا ہے یُوں وضو

پُوچھا گیا نصیب کے سُورج کا کیا بنا ؟
میں نے کہا وہ سو گیا ، ایسا بنا عدو

پُوچھا ، نمی سے ، دھُند سی آنکھوں میں کس لئے ؟
آیا جواب ، ہجر کی ان میں ہوئی نمو

پُوچھا ، بچھڑتے پل کی کوئی اَن کہی ہے یاد ؟
تارِ نفس پہ لکھی ہے اب تک وہ گفتگو

پوچھا ، سنو وصال کی چٹخی ہے کیوں زباں؟
میں نے کہا ، فراق کا صحرا تھا رُو برو
***

جاذبہ
06-10-2014, 12:16 PM
:tumb::tumb:

بےباک
06-10-2014, 04:38 PM
دیکھا ہے کیا فلک پہ وہ تنہا اُداس چاند؟

آیا جواب ، اُس کو کسی کی ہے جُستجو !


ہوتی ہے کیوں یہ اَشکوں کی برسات رات بھر

آیا جواب ، آنکھوں کا ہوتا ہے یُوں وضو

بہت ہی خوب اور شاندار شاعری ، آپ کے دوق انتخاب کی داد دینی ہو گی