PDA

View Full Version : پگلی ، جس پل اُس کا درشن پایا ہو گا



حبیب صادق
06-09-2014, 10:34 PM
بول سکھی ، دل نے کس پل اُکسایا ہو گا ؟
پگلی ، جس پل اُس کا درشن پایا ہو گا


بول سکھی ، کیوں چندہ تُجھ کو تانکے جھانکے؟
پگلی ، اس کو آخر کچھ تو بھایا ہو گا

بول سکھی ، نینوں سے نیند چُرائی کس نے ؟
پگلی ، وصل کا جس نے خواب دکھایا ہو گا

بول سکھی ، وہ رُوٹھا رُوٹھا کیوں لاگے ہے ؟
پگلی ، بیری لوگوں نے سکھلایا ہو گا

بول سکھی ، کیوں منوا جل کر طُور بنا ہے ؟
پگلی ، پیتم نے جلوہ دِکھلایا ہو گا

بول سکھی ، کیوں سُرخ گُلاب کسی نے بھیجا؟
پگلی ، پیت کا سندیسہ بھجوایا ہو گا

بول سکھی ، یہ تَن مَن کس کی بھینٹ چڑھاؤں ؟
پگلی ، جس کے کارن جیون پایا ہو گا

بول سکھی ، کیوں نٹ کھٹ سکھیاں چھڑیں مجھ کو ؟
پگلی ، تو نے بھید انہیں بتلایا ہو گا

بول سکھی ، منڈیر پہ کاگا کیوں بولے ہے ؟
پگلی ، تیرے در پر جوگی آیا ہو گا !

بول سکھی ، وہ بن ٹھن کر کیوں نکلا گھر سے ؟
پگلی ، بیرن سوتن نے بُلوایا ہو گا
***

جاذبہ
06-10-2014, 12:11 PM
واہ واہ !!! بڑا خو بصو رت انداز تکلم بہت کم پڑ ھنے کو ملتی ہے اس طر ح کی شا عری
:treeswing:

بےباک
06-10-2014, 04:36 PM
سادہ انداز میں سادہ شاعری ،مگر گہری اور سچی ،



بول سکھی ، کیوں نٹ کھٹ سکھیاں چھیڑیں مجھ کو ؟

پگلی ، تو نے بھید انہیں بتلایا ہو گا
کیا انداز تکلم ہے ، خوب جناب