PDA

View Full Version : کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟



حبیب صادق
06-13-2014, 10:25 PM
کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟

نہیں ، جب دل سلگتا ہے تو اٹھتا ہے دھواں اس کا

بھلا کیوں پھول کی پہچان بنتی ہے مہک اسکی ؟
سنو ، سورج کی کرنوں سے ہی ملتا ہے نشاں اس کا

کہو، کیا راہِ الفت میں دل و جاں وار سکتے ہو ؟
سنو ، دل کی زمیں اس کی نظر کا آسماں اس کا

بھلا کب دنی پڑتی ہے وضاحت سامنے سب کے ؟
پتہ جب پوچھتی ہیں آ کے ہم سے دوریاں اس کا

خطا دونوں کی تھی لیکن سزا کیوں ایک نے پائی؟
سنو تنہا تھا دل اپنا مگر سارا جہاں اس کا

سنو ، اس بےوفا کی یاد تو آتی نہیں ہو گی ؟
سنو ، دل رک سا جاتا ہے جو آتا ہے دھیاں اس کا

سنو، وہ ہر جگہ جا کر تمہیں بدنام کرتا ہے !
کہا، یہ جاں سلامت ہے ، رہے جاری بیاں اس کا

بچھڑ کر کیا کبھی سوچا اسے ملنے کے بارے میں ؟
سنو، دھرتی کے ہم باسی ، فلک پر ہے مکاں اس کا

بےباک
06-14-2014, 08:09 AM
سنو، وہ ہر جگہ جا کر تمہیں بدنام کرتا ہے !
کہا، یہ جاں سلامت ہے ، رہے جاری بیاں اس کا

بچھڑ کر کیا کبھی سوچا اسے ملنے کے بارے میں ؟
سنو، دھرتی کے ہم باسی ، فلک پر ہے مکاں اس کا
بہت ہی اعلی، شاعری دل کو چھوتی ہے

نگار
06-14-2014, 02:09 PM
بھلا کیوں پھول کی پہچان بنتی ہے مہک اسکی ؟
سنو ، سورج کی کرنوں سے ہی ملتا ہے نشاں اس کا

خوبصورت شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت شکریہ

حبیب صادق
06-14-2014, 07:25 PM
بہت ہی اعلی، شاعری دل کو چھوتی ہے

پسند کا بہت بہت شکریہ

حبیب صادق
06-14-2014, 07:25 PM
بھلا کیوں پھول کی پہچان بنتی ہے مہک اسکی ؟
سنو ، سورج کی کرنوں سے ہی ملتا ہے نشاں اس کا

خوبصورت شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت شکریہ

پسند کا بہت بہت شکریہ