PDA

View Full Version : خواتین دین کا کام کیسے کریں



تانیہ
12-17-2010, 09:57 PM
خواتین دین کا کام کیسے کریں
*: علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب مدظلہ العالی

اعلٰی انسان اقدار کو بحال کرنے والی کامیاب اور فیضیاب بخش تحریک جس کا آغاز محسن کائنات حضور محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت نور رساں سے کیا عورت ہر دور کی مخلصانہ کوششوں سے مزین دکھائی دیتی ہیں۔
تحریک حق کو پہلے ہی مرحلہ پر ہی شدائد و کرائب کی آندھیوں میں حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جس طرح مالی اور جانی مدد فراہم کی وہ تاریخ کے طالب علم سے پوشیدہ نہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک کے کہی جا سکتی ہے کہ عورت جب تک “غلبہ اسلام“ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرے گی انقلاب حق کے راستے ہموار نہیں ہو سکیں گے۔
وہ عورت جس کے سینے میں ملت کی زبوں حالی کا گہرا درد ٹیسیں مار رہا ہو اس کے دماغ میں رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی عالمگیر شکستگیاں طوفان اٹھا رہی ہوں یقیناً وہ ہر قیمت پا چاہے گی کہ سفینہ ملت بحر اضطراب سے کسی نہ کسی طرح ساحل آشنا ہو۔ اس راہ میں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے غلام مردوں کی طرح عورت کو بھی جو قربانیاں دینی پڑیں گی وہ اس سے دریغ نہیں کرے گی۔
ان برے حالات میں اپنی گرتی ہوئی اور دم تورتی ہوئی قوم کا آخری سہارا نئی نسل کے نوجوان اور “خواتین“ ہیں اور اگر ہم غلطی نہیں کھاتے تو اسلامی تحریک کا ثمر برا انقلاب بھی دوزخ رکھتا ہے ایک گھر کے اندر جہاں انقلاب کی گھنٹی نوجوان بجا سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا نصف حصہ عورتوں پر مشتمل ہے اور مردانہ معمولات سے لبریز سوسائٹی کی ریڑھ کی ہڈی بھی “عورت“ ہی ہے لیکن ستم یہ ہے کہ اس کی تربیت کے لئے نہ تو ہم نے قومی سطح پر مناسب اور افعال لائحہ عمل ترتیب دیا۔ جس معاشرہ کی 80 فیصد خواتین اسلام کی بنیاد تعلیمات سے عاری ہوں وہاں مصطفوی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) انقلاب، نظام مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام ایسے عالی نور آفرین نظریات کی بالادستی کیسے قائم ہو، قومی زندگی کا یہ وہ گوشہ ہے جسے آباد کرنے اور منور کرنے کی اولین ضرورت ہے۔ اسلام نے “انقلاب“ کے لئے عورت کو جتنی اہمیت دی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن حکیم نے رسول کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والوں کو “امت“ سے تعبیر کیا اور امت “ام“ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ماں ہوتا ہے۔ کیا اس کا صاف معنی یہ نہیں کہ حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام اس وقت تک انقلابی سطح پر موثر نہیں بنایا جا سکتا۔ جب تک کہ قوم کی عورتوں کو پاکیزہ تقدیر بدل اور ملی سوچ کا حامل نہ بنایا جا سکتا۔ جب تک کہ قوم کی عورتوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ انہیں کتنے بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ غیر مسلم مفکرین نے عورت کو بنیادی ذمہ داریوں سے بے آگاہ بنا دیا ہے۔ اباحت، عریانیت، فحاشی، آزاد خیالی، سطحیت اور بے فکری ایک عذاب بن کر خواتین کو چمٹ گئی ہے۔
ایک مغربی مفکر نے کہا تھا کہ ماں جتنی بری ہوتی ہے بیٹا اتنا ہی عظیم ہوتا ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہو نہ ہو تو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے پیدا ہو، ماں عظیم نہ ہوتی تو محمد بن قاسم کیسے بنتے، طارق بن زیاد تاریخ کیسے رقم کرتے، انقلاب کی خشت اول گھر ہوتا ہے اور گھر کی تقدیر عورت کے ہاتھ ہوتی ہے۔ چاہے تو وہ ماحول کو پیرس کی گلی بنا دے اور چاہے تو مدینہ کا ماحول کھینچ کر لائے۔
اے امت! کیا یہ کافی نہیں کہ تیرے شجرہ تربیت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نام آتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی تاریخ آتی ہے،
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا حوالہ ملتا ہے، حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شجاعت ابھرتی ہے۔
کہاں گئی عفت ؟ کہاں گئی عصمت ؟ کہاں گیا ولولہ تعمیر اور کہاں چھوڑا حیا معاف! معاف!
میری بہنوں کہہ دو کہ اب مغرب کا لات و منات نہیں چلے گا الہ ہو گا، خدا ہوگا۔ حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہونگے۔ ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔
اور ان کاموں سے بچو جن سے رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ تو تحریک مصطفوی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی نیک دلاور جانباز کارکنہ ہے۔ تجھے دنیائے کفر کی بے لگام خواتین کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہئیے۔ دین دشمن تحریکوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہئیے۔ بہکے افکار اور الجھی سوچوں کے دھاروں پر نہیں چلنا چاہئیے۔ تیری زندگی کا اپنا منشور ہے۔ تیرا اپنا ایک نظام حیات ہے۔
تیرے پڑھنے کیلئے اپنی ایک کتاب ہے، تیری قیادت کیلئے تیرے اپنے رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہیں، تیری اپنی ایک تہذیب ہے، تمدن کا اپنا ایک بانکپن ہے۔ گھروں کی اونچی اونچی دیواریں تیری قید کی علامت نہیں تیری عظمت کی دلیل ہیں۔ حیا کی چادر قدامت نہیں پاکیزگی کی بڑھان ہے۔ تیری دبی لچی آوازیں بزدلی نہیں عصمتوں کا وقار ہے۔ تیری جھکی جھکی پاک نگاہیں تہذیبی تمدن کی اصلاح ہے۔

بچوں میں رہنا تیرا بچپنا نہیں ملت کی رگ تقدیر میں خون حیات ہے۔
تو سلجھے تو دنیا جنت بداماں تو الجھے تو عقبی نار بد اماں

اسلام کی تاریخ میں بلا شبہ عورتوں کے نیک جذبوں، پاکیزہ امنگوں، ستھری سیرتوں اور عفت مآب کرداروں نے انقلاب برپا کیا۔ وہ عورت تھی جس نے فرعون کے گھر صداقت و حریت کا نعرہ آتشیں لگایا اور قرآن حکیم نے قابل رشک انداز میں اس کا ذکر کیا۔ میری بہنوں! تم میں سے بہت سی خوش بخت خواتین ایسی ہیں جن کے نام ان کے والدین نے بڑی عقیدت سے عائشہ اور فاطمہ رکھے ہیں۔ تو ہمیں تلاش ہے ان ماؤں کی

جن کے لہجوں میں قرآن کا غنا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے ماتھوں میں سجدے تڑپ رہے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کی آوازوں میں حق و حقیقت کی بجلیاں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے ہاتھوں پت ملت سازی کیلئے دعاؤں کا رعشہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کی رات سوز عبادت میں گزرتی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے دن گھر کو تشکیل ملت کا گہوارہ بنانے میں بسر ہو ۔ ۔ ۔ !!

ہمیں ضرورت ہے ایسی بہنوں کی جن کی زبانیں باقرآں ہوں اور جو اپنے ویروں کو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے دین کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی تلقین کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!

مولا عزوجل! ماں میری نسل فدا ہو جائے جو مجھے پھر سے صلاح الدین ایوبی دے، طارق بن زیاد دے، محمد بن قاسم سے ہاں اور پھر مجھے میری تاریخ دوبارہ مل جائے، میری عزت بحال ہو جائے، ملت اسلامیہ باعروج ہو جائے اور کفر کے کانچ کا محل گر جائیں۔

ہمیں شناخت چاہئیے۔

یہ سڑک پر کون جا رہا ہے حیاء کی چادر پھاڑ کر۔ غیرت کا جنازہ نکال کر۔ ناز و عفت کا آبگینہ توڑ کر۔ شرم کا جامہ اتار کر۔ خاوند سے بگڑ کر۔ بھائی سے الجھ کر۔ باپ سے ٹھن کر۔ ماں کو سادگی کا طعنہ دے کر خالق جلالہ کو بھول کر۔ مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر۔ سربازار، اتنی بے باکی، اتنی بے کشی، اور دیدہ دلیری الحفظ والامان۔ میرے اللہ جل جلالہ !
آگ لگ جائے اس قانون کو جس نے مونث کو مذکر بنا دیا اور مذکر کو مونث بنا دیا دانشکدے سے بدتمیزی کے طوفان اٹھنے لگے۔ خیر شر ہونے لگا اور شر کا نام خیر ڈالا جانے لگا۔ عورت اور مرد مخلوط ہوئے تو شیطان کی زبان نے کلچرڈ ہونے کا لقب گھڑا۔
لوگوں! پرانے ہو جاؤ اتنے پرانے کہ دور مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پھر لوٹ آئے۔ تمھاری بچیاں، بہنیں اور بہوئیں باحیا ہو جائیں اور باخدا !!
میں تو سوچتا ہوں کہ کہیں ایسے تو نہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے محبوب کو “ایھا المزمل“ چادر والے نبی کہہ کر اس لئے پکارا ہو کہ کسی کی بیٹی کہیں اتباع کی آڑ میں چادر نہ اتار پھینکے۔
اگر حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا حسن بھی “مزمل“ میں پنہاں ہے تو بنات ملت کا حسن چادر، چاردیواری اور پردہ حجاب ہی میں مضمر ہے۔ اقبال اسی نکتہ کو بڑے حسیں اسلوب میں ادا فرماتے ہیں۔

جہاں تابی زنور حق بیا موز !
کہ اوبا صد تجلی در حجاب است !

ایک اور بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہمارے اللہ عزوجل نے اپنے حبیب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) سے عورتوں کے متعلق اجنبیوں کے سامنے آراستہ ہو کر پیش ہونے سے منع فرمایا۔ ارشاد باری ہے:
ترجمہ: “اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے۔“ (سورۃ النور)
بلاشبہ مرد جس وقت بھوکاریچھ بن جائے اور عورت اپنی زینت کھول کر متاع بازار بن جائے تو معاشرہ کی پاکیزگی کی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔
قرآن حکیم کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ
ولا یبدین زینتھن
“اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں“۔
بہنوں سنئیے !
کہ عورتوں کو مناسب نہیں کہ وہ اپنی زینت ظاہر کریں۔ دوپٹے، چادریں، لباس اور برقعے پردہ کے لئے ہوتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ انہیں ہی اگر زینت بان دیا جائے تو کیا اللہ عزوجل کو راضی رکھا جا سکتا ہے !
بال کاٹ کر، دوپٹہ گلے میں لٹکا کر، لباس جسم سے چمٹا کر، زیور بدن پر سجا کر، اور پھر گلی گلی چمن چمن، چلنے کے ایسے ایسے انداز ۔ ۔ ۔ نرم گوئی، نرم خوئی، نرم مقالی، نرم خیالی لہجوں کا دھیما پن، نظروں کی لجاجت۔ لے لی مٹھاس اور نرم دم گفتگو۔ ۔ ۔ سنو اور غور سے سنو۔ ترجمہ : “اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار۔“ (سورہ النور)
حسن تو سیرت کا ایک پہلو ہے۔ جمال تو اخلاق کی ایک جہت ہے ہر جگہ پسندیدہ ہے ہر شخص اسے اچھی نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کسی عورت کو اگر مرد سے گفتگو مقصود ہو تو لہجے میں تھوڑا سا تناؤ آ جانا چاہئیے اور قیل وقال میں تھوڑی سختی تاکہ دل جنسی پرستی کے مرض سے بچ جائیں۔ قرآن حکیم کی صریح ہدایت ملاحظہ ہو۔
ترجمہ: “تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے۔ (سورہ الاحزاب)
عورتوں کو سمجھنا چاہئیے، کہ وہ ملت پرور ہیں اور قوم ساز۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ عورت حکمران نہیں ہوتی ملی وقار کی پاسبان ہوتی ہے۔ عورت دہلیز نہیں ہوتی چرخ کا رخشندہ ہوتی ہے۔ عورت جیبی گھڑی نہیں ہوتی ملی ترقی اور عروج کا معیار ہوتی ہے۔ عورت دستی چھڑی نہیں ہوتی بدی کو ختم کرنے کا زبردست اسلحہ ہوتی ہے۔ عورت روزن سے نکلنے والی روشنی نہیں ہوتی آفتابوں اور مہتابوں کو لوری دینے والا آسمان ہوتا ہے۔ عورت ملت سوز بھی ہو سکتی ہے اور ملت ساز بھی۔ عورت نور آفرین بھی ہو سکتی ہے اور نار آگیں بھی۔ عورت رحمت پرور بھی ہو سکتی ہے اور زحمت بداماں بھی۔ عورت لطافت گل بھی بن سکتی ہے اور خلش خار بھی۔

ذمہ داری کے اعتبار سے خواتین مردوں پر سبقت رکھتی ہیں۔

*خود سیکھنے کا بوجھ * تعمیر اخلاق کا بوجھ *امور خانہ داری کی مشقت * صلہ رحمی کے لئے ماحول سازی کی فکر *سکھانے اور تربیت دینے کا بار *خانہ کشی کے لئے فکری دماغ سوزیاں وغیرہ *ظاہر ہے یہ وہ کلفتیں ہیں جن سے دل اور دماغ سکون میں نہیں رہتے اس لئے ضرروی ہوتا ہے کہ عورت مرد کی نسبت زیادہ روحانیت کی حامل ہوتا کہ اسے اطمینان قلب ہو سکے۔ اس عظیم مقصد کے لئے ضرروی نہیں، خواتین جنگل جنگل پھرنے لگ جائیں اور روحانیت کے نام پر حیا کی چادر پھاڑ ڈالیں۔ رسالت مآب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں یہ کسی مزار پر بھی نہیں جا سکتیں۔ روحانیت کے لئے قرآن مجید نے کتنا عظیم نسخہ تجویز فرمایا۔
ترجمہ: “اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اللہ عزوجل اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ (سورہ الاحزاب)
قرآن مجید نے کس ولولہ آفریں انداز میں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی صفات حسنہ بیان کی ہیں۔
ترجمہ: بلاشبہ اسلام کا کام کرنے والے مرد اور اسلام کا کام کرنے والی عورتیں ایمان رکھنے والے مرد اور ایمان رکھنے والی عورتیں تابع داری کرنے والے مرد اور تابع داری کرنے والی عورتیں روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں شرمگاہوں کے محافظ مرد اور شرمگاہوں کی محافظ عورتیں کثرت سے اللہ کو یاد رکھنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کو یاد رکھنے والی عورتیں ان سب کے لئے تیار رکھا ہے بخشش کا سامان اور اجر عظیم۔ بنات امت آؤ مل کر عہد کریں !!! کہ ہماری زندگی میں عشق مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی شمع فروزاں رہے گی۔ ہم اپنے سچے جذبوں سے عفت و عصمت کے آبگینے ٹونٹے نہیں دینگے۔ طہارت اور پاکیزگی ہماری میراث ہے اسے ہم ہر صورت میں قائم رکھیں گے۔ ہماری منزل الٰہ ہو گا ۔ ۔ ۔ ہمارے رہبر مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ہونگے۔ ۔ ۔ ہمارا جینا ۔ ۔ ۔ ہمارا مرنا ۔ ۔ ۔ ہماری کوشش ۔ ۔ ۔ ہماری محنت بس اسی لئے ہو گی کہ دین صرف اللہ عزوجل ہی کے لئے ہو جائے۔ آمین
اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی آلہ محمد وبارک وسلم علیہ وعلی اصحابہ اجمعین۔

علی عمران
12-19-2010, 11:11 AM
واہ جی واہ بہت اچھی تحریر ہے.........

آزاد خان
12-19-2010, 04:02 PM
واہ جی واہ بہت اچھی تحریر ہے.........


ماشا اللہ بھت کمال کےفکرے جزب کیے ھیں جو خواتین کے بارے میں میں تحریر ھیں عورت کو اسلام نے بھت عزت بخشی ھے ااور دین کے بھت کام بھی سر انجام دیے ھیں جن کا زکر اپکی تحریر میں آچکاھے لیکن ھمرے معاشرے میں اس کو اھمیت کم دی جاتی ھے یا علم کی کمی ھےاگر ھم اپنے پیغمبر کے اصولوں کو دیکھیں تو ان کا فرمان تھا بیٹی اللہ کی رحمت ھےتو جب آپ اس رحمت کی پرورش اسی خوشی سے کرو گے تو کیوں نا وہ رحمت بنے اس میں اہک باپ کارول سامنے آتا ھے وہ کیسے کل کی عورت کل کی ماں کل کی بیوی یابھن کا روپ لیتی ھےھمارےمعاشرے کو بھت علم کی ضرورت ھے

گلاب خان
12-19-2010, 08:25 PM
ماشااللہ بھت خوب میرے پیارے دوست آزاد خان بھت اچھا جواب لکھا تانیہ بھن خوب تر خوب

کا کا سپاہی
12-26-2010, 04:39 PM
ماشااللہ بھت خوب
http://dailybail.com/storage/thank20you20kids.jpg?__SQUARESPACE_CACHEVERSION=12 44230080337

سرحدی
03-28-2011, 11:03 AM
میری بہنوں! تم میں سے بہت سی خوش بخت خواتین ایسی ہیں جن کے نام ان کے والدین نے بڑی عقیدت سے عائشہ اور فاطمہ رکھے ہیں۔ تو ہمیں تلاش ہے ان ماؤں کی

جن کے لہجوں میں قرآن کا غنا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے ماتھوں میں سجدے تڑپ رہے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کی آوازوں میں حق و حقیقت کی بجلیاں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے ہاتھوں پت ملت سازی کیلئے دعاؤں کا رعشہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کی رات سوز عبادت میں گزرتی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ !!
جن کے دن گھر کو تشکیل ملت کا گہوارہ بنانے میں بسر ہو ۔ ۔ ۔ !!

ہمیں ضرورت ہے ایسی بہنوں کی جن کی زبانیں باقرآں ہوں اور جو اپنے ویروں کو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے دین کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی تلقین کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!

ماشاء اللہ، بہت زبردست مضمون لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔

سیما
05-21-2012, 05:28 PM
ماشاء اللہ، بہت زبردست مضمون لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔