PDA

View Full Version : اے زمیں ۔ 2



حبیب صادق
06-14-2014, 11:10 PM
(۲)

آگہی کی بکھرتی ہوئی دھُند کی
ایک دیوار سی
ہر طرف ہے تنی
اور باہر نکلنے کا رستہ نہیں
کوئی باہر نکلنے کا رستہ نہیں

جیسے جادو میں ہم سب گرفتار ہیں
در پہ زنجیر ہے
کھڑکیوں اور دریچوں میں تالے پڑے ہیں
چھتوں کی طرف کوئی زینہ نہیں !!
لاکھ سورج فلک پر ہویدا ہوئے
چاند نکلے کئی
اک کرن بھی مگر ہاتھ آئی نہیں
شہ لویں جن کی آندھی میں قائم رہیں
اب فقط وہ دئیے ہم کو درکار ہیں
ہم ہیں کیا اور ہماری حقیقت کیا ہے
اس سے قطع نظر
یہ زمیں آسماں اور یہ عصرِ رواں
اپنی دھُن میں مگن محوِ رفتار ہیں
ہاتھ میں کچھ ارادوں کے پُرزے لئے
اپنے اپنے ضمیروں کے قیدی بنے
راستوں میں کھڑے
ہر مسافت کے رستے کی دیوار ہیں

اپنی اقدار کے ۔ اپنے کردار کے
جتنے بھی عکس ہیں
آئینے اُن کی صورت سے بیزار ہیں

اے زمیں ہم نے تیری حفاظت نہ کی
ہم گنہگار ہیں۔۔۔ہم گنہگار ہیں
۔۔۔۔۔۔۔

بےباک
06-15-2014, 07:09 AM
اپنی اقدار کے ۔ اپنے کردار کے
جتنے بھی عکس ہیں
آئینے اُن کی صورت سے بیزار ہیں

اے زمیں ہم نے تیری حفاظت نہ کی
ہم گنہگار ہیں۔۔۔ہم گنہگار ہیں

وطن سےپیار اور درد رکھنے والی شاعری ،

شاندار ، بہت خؤب شکریہ جناب حبیب صادق صاحب

جاذبہ
06-15-2014, 12:10 PM
اے زمیں ہم نے تیری حفاظت نہ کی
ہم گنہگار ہیں۔۔۔ہم گنہگار ہیں
http://i.imgur.com/5gJQPfE.gif