PDA

View Full Version : جنگل مجھ سے بات تو کر



حبیب صادق
06-16-2014, 12:46 AM
جنگل مجھ سے بات تو کر

دیکھ کہاں سے آیا ہوں !
سناٹا ہے چاروں جانب اور ہوا کی سرگوشی میں
ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ جملے
رات گئے تک ہونے والی بارش کے قطروں کی صورت
پتہ پتہ ٹپک رہے ہیں

تین برس اور سولہ دن پہلے کی گُزری شام کوئی
یہیں کہیں پر رُکی ہوئی ہے
اور اک گہرے سایوں والے پیڑ پہ اب بھی
ہم دونوں کے نام کھدے ہیں
(اور اک دل ہے جس میں کوئی تیر ترازو تب سے ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔