PDA

View Full Version : پاکستانی چینلز پر پابندی اور جرمانہ



بےباک
06-21-2014, 10:12 AM
’جیو انٹرٹینمنٹ ایک ماہ، اے آر وائی نیوز 15 دن کے لیے بند‘ (http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140620_ary_geo_licence_suspended_rk.shtml)بی بی سیپاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کا لائسنس 15 روز جبکہ جیو انٹرٹینمنٹ کا لائسنس 30 روز کے لیے معطل کرنے کے علاوہ دونوں چینلوں پر ایک، ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
یہ پابندی جیو انٹرٹینمنٹ پر توہین مذہب پر مبنی پروگرام اور اے آر وائی پر عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر لگائی گئی ہے۔

پیمرا کی طرف سے جمعے کی رات کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلے پیمرا کے 79ویں اجلاس میں کیے گئے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کے تمام قوانین کا جائزہ لینے کے بعد جیو انٹرٹینمنٹ اور اے آر وائی نیوز کی جانب سے خلاف روزیوں کا نوٹس لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اے آر وائی کی جانب سے قوانین کی پامالی پر پیمرا نے متفقہ طور پر اے آئی وائی کا لائسنس 15 دن کے لیے معطل کرنے اور اس پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
ادارے نے چینل کے پروگرام ’کھرا سچ‘ اور اس کے میزبان مبشر لقمان پر بھی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پابندی کتنے عرصے کے لیے ہوگی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں عدلیہ کی تضحیک کی مذموم مہم مسلسل جاری تھی۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف پروگرام پر مبشر لقمان کو پروگرام کرنے سے تاحکم ثانی روک دیا تھا تاہم ان کی اپیل پر سپریم کورٹ نے یہ پابندی ہٹا دی تھی۔
اس پروگرام میں عدلیہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کو تنقید کانشانہ بنایا گیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اے آر وائی کے اسلام آباد میں بیورو چیف صابر شاکر کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ پیمرا کے اس فیصلے کو چیلنج کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ جس پروگرام کو بنیاد بنا کر پیمرا نے اے آر وائی کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کیا ہے اس پروگرام پر سپریم کورٹ انھیں پہلے ہی ریلیف دے چکی ہے۔
صابر شاکر نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس پروگرام پر توہینِ عدالت نہیں لگائی تو پھر پیمرا کیسے اس پروگرام کو عدلیہ کی تضحیک کے زمرے میں لا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق اتھارٹی نے اے آر وائی کے علاوہ جیو گروپ کے انٹرٹینمنٹ چینل کا لائسنس بھی 30 دن کے لیے معطل کرنے اور اس پر بھی ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ چینل کے پروگرام ’اٹھو جاگو پاکستان‘ اور اس کی میزبان شائستہ لودھی سمیت تمام ٹیم پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
پیمرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پروگرام کی متنازع قسط کو کسی بھی دوسرے چینل پر نشر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
یاد رہے کہ جیو انٹرٹینمنٹ کے 14 مئی کو نشر ہونے والے اس مارننگ شو میں اداکارہ وینا ملک اور ان کے شوہرکی شادی سے متعلق ایک پروگرام کے دوران ایک قوالی پیش کی گئی جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اس بات پر شدید اعتراض کیا گیا کہ برگزیدہ ہستیوں سے منسوب قوالی کو جس طرح شادی سے متعلق پروگرام میں پیش کیا گیا وہ انتہائی غیر مناسب تھا۔
اس کے بعد 18 مئی کو جیو ٹی وی چینل کے مالک جنگ گروپ نے اس تنازعے پر معافی مانگی تھی اور اپنے اخبارات میں ’ہم معذرت خواہ ہیں‘ کے نام سے معافی نامہ شائع کیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے حملے کے بعد نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیراسلام کو تنقید کا نشانہ بنانے جیو نیوز کا لائسنس پندرہ روز کے لیے معطل کر دیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ اُنھیں ایک کروڑ روپے جُرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔