PDA

View Full Version : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ شادیاں کیوں کی؟؟؟؟؟



saba
07-07-2014, 12:24 PM
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے گیارہ شادیاںکیوں کی؟

غیرممالک میں کام کرنے والوں کے ساتھ تو خاص طور پر ۔ بہت سے لوگ نبی کریم صلی اللہعلیہ وسلم کی گیارہ شادیوں پر اعتراض کرکے اور عجیب عجیب باتیں کرکے بہت سےمسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور بہت سے مسلمان لاعلمی کی وجہ سے انکی باتوں کاجواب نہیں دے سکتے اس لیے وہ ان کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ ان کے لیے نبیکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ شادیاں کرنے کی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں تاکہوہ لوگوں کی باتوں کا اچھے طریقے سے جواب دے سکیں
(1) پیارے نبی صلیاللہ علیہ وسلم نے عالم شبا ب یعنی 25 سال کی عمر میں ایک سن رسیدہ بیوہ خاتونحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے شا دی کی ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی عمر 40 سال تھیاور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔ 50 سال کیعمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کی ۔ ( اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہوتو وہ عالم شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا )حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہوسلم نے نکاح کئے ۔ آج کسی بھی نوجوان سے پوچھیں کہ وہ ایک چالیس سال کی بیوہ سےشا دی کر ے گا تو ان کا جواب نفی مین ہوگا لیکن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے یہ کیا ہے ، پھر جو گیارہ شادیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہیں سوائے ایک کےباقی سب بیوگان تھیں ۔ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سےزیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیمو ں کا کوئی سہارا نہ رہا ۔ اس مسئلہکو حل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کوبیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگو ں کو ترغیب دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زینب بنت خزیمہرضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکاح کیے ۔ آپ کی دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضیاللہ عنہ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا گھرا نے آباد ہوگئے
(2) عربوں میں دستورتھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلا ف سمجھتے۔ جنا ب ابو سفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاشدید ترین مخالف تھا ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی ۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضیاللہ عنہ شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں ، وہاںان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے اس سے علیحدگی اختیارکی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دل جوئیفرمائی اور با دشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا
(3) حضرت جویریہ رضیاللہ عنہ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہکے درمیان رہتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کاسردار مارا گیا ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کےحصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ کر کے سردار کی بیٹی کا نکاححضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانےآزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔
(4 ) خیبر کی لڑائیمیں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہکے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم صلیاللہ علیہ وسلم سے کرادیا ۔ اسی طر ح میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی وجہ سے نجدکے علا قہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیو ں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور صلی اللہعلیہ وسلم کے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مطالعہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایتنصیب ہو ۔
(5 )حضرت زینب بنت حجشسے نکاح مبتنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہعلیہ وسلم کے متبنی کہلائے تھے ، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش سے ہوا ۔ مناسبت نہہونے پر حضرت زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحکر لیا اور ثابت کر دیا کہ متبنی ہر گز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا ۔
(6) علوم اسلامیہ کاسر چشمہ قرآنِ پا ک اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک ہے ۔ آپ صلیاللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفو ظ کرنے کے لیے مردو ں میں خاص کراصحاب ِ صفہ رضی اللہ عنہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتو ں میں اس کام کے لیے ایکجماعت کی ضرورت تھی۔ ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لیے آپصلی اللہ علیہ وسلم نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کوارشاد فر مایا تھا کہ ہر اس بات کو یاد رکھیں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔
حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہ جوبہت ذہین ، زیرک اور فہیم تھیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نسوانی احکام و مسائلکے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپرضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلےمیں شک ہو تاہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے اس کا علم ہوتا ۔ اسی طرح حضرت امسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالات سے ظاہر ہوا کہازدواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کے گھر عورتو ں کی دینی درسگاہیں تھیں کیوکہ یہ تعلیمقیامت تک کے لیے تھی اور ساری دنیا کے لیے دنیا کے لیے تھی اور ذرائع ابلاغ محدودتھے اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکا ہر کام امت کے لیے رحمت تھا لیکن کچھ بدبخت لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم کی ذات اقدس پر اعتراض کرکے اپنی عاقبت برباد کرتے ہیں ۔ ہمیں اس قسم سےلوگوں کے اعتراضات سے متاثر ہونے سے بچنے کے لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمزیادہ سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں

حبیب صادق
10-21-2014, 11:44 PM
ماشا اللہ
انتہائی اہم معلومات
جزاک اللہ خیراً کثیرا

بيلسان
11-15-2014, 07:49 PM
ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں آمین

جاذبہ
11-17-2014, 07:42 PM
جزاک اللہ خیرا

حسین
12-10-2014, 05:12 PM
حکمت و سیرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خوبصورت مراسلہ
جزاک اللہ
علم و آگہی سے بھرپور اس شراکت کا یہ حق تھا کہ اس کی املاء کو آخری حد تک درست رکھنے کی کوشش کیا جاتی ۔ لفظ اک دوسرے سے مل رہے ہیں ۔

شاہنواز
12-17-2014, 02:54 AM
جزاک اللہ

تانیہ
03-06-2015, 04:11 PM
جزاک اللہ خیرا