PDA

View Full Version : وہ کم اندیش جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں



نگار
07-08-2014, 03:28 AM
وہ کم اندیش جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں
آگ خود اپنے مکانوں کو لگا دیتے ہیں


پیرہن خاک کا کانٹوں کی رِدا دیتے ہیں
مہرباں آپ مجھے کس کی سزا دیتے ہیں


جب بھی آتا ہے انہیں میری وفاؤں کا خیال
سَنگ باری کا ہدف مجھ کو بنا دیتے ہیں


میری بربادیٔ گلشن کی حکایت سُن کر
آسماں والے بھی اب اَشک بہا دیتے ہیں


جو بھی خوں نَاب ورق تھا مرے افسانے کا
لوگ کیوں اِس کے حوالوں کو چھپا دیتے ہیں


جب بھی جذبات محبت کے ہوئے ہیں بیدار
رہمنا اُن کو بیانوں سے سلا دیتے ہیں


اس میں کچھ شائبہ چشم ِ فسوں کار بھی تھا
جان ایسے تو نہیں اہل ِ وفا دیتے ہیں


جب بھی آتا ہے ترے شہر ِ چراغاں کا خیال
گھر پہ دو ایک دیے ہم بھی جلا دیتے ہیں


چوکسی ہونے لگی رات کے سناٹے میں
اب تو خورشید بھی ہر در پہ صدا دیتے ہیں

تانیہ
07-08-2014, 09:55 AM
واہ
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

saba
07-08-2014, 10:59 AM
جب بھی آتا ہے ترے شہر ِ چراغاں کا خیال
گھر پہ دو ایک دیے ہم بھی جلا دیتے ہیں زبردست

نگار
07-09-2014, 05:46 AM
پسندیدگی پہ شکریہ