PDA

View Full Version : جھوٹے لوگ سچائی سے نہیں



نگار
07-09-2014, 06:29 AM
میرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے
یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے

وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے ملنے آتا ہے
ہم اس طرح کسی ہرجائی سے نہیں ملتے

پُرانے زخم ہیں کافی ، شمار کرنے کو
سو، اب کِسی بھی شناسائی سے نہیں ملتے

نگار
07-09-2014, 06:30 AM
اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
اپنا سمجھ کے زہر پلا دیجئے مجھے

اٹھے نہ تا کہ آپ کی جانب نظر کوئی
جتنی بھی تہمتیں ہیں لگا دیجئے مجھے

کیوں آپ کی خوشی کو مرا غم کرے اداس
اک تلخ حادثہ ہوں بھلا دیجئے مجھے

صدق و صفا نے مجھ کو کیا ہے بہت خراب
مکر و ریا ضرور سکھا دیجئے مجھے

میں آپ کے قریب ہی ہوتا ہوں ہر گھڑی
موقع کبھی پڑے تو صدا دیجئے مجھے

ہر چیز دستیاب ہے بازار میں عدم
جھوٹی خوشی خرید کے لا دیجئے مجھے

نگار
07-09-2014, 06:30 AM
محبت کی جھوٹی کہانی پہ روئے
بڑی چوٹ کھائی جوانی پہ روئے

نا سوچا نا سمجھا ، نا دیکھا نا بھلا
تیری آرزو نے ، ہمیں مار ڈالا
تیرے پیار کی مہربانی پہ روئے
محبت کی جھوٹی کہانی پہ روئے
بڑی چوٹ کھائی جوانی پہ روئے

خبر کیا تھی ہونٹوں کو سینا پڑیگا
محبت چھپا کر بھی ، جینا پڑیگا
جئے تو مگر زندگانی پہ روئے

محبت کی جھوٹی کہانی پہ روئے
بڑی چوٹ کھائی جوانی پہ روئے . . . !

نگار
07-09-2014, 06:31 AM
دشمن ہو کوئی دوست ہو پرکھا نہیں کرتے
ہم خاک نشیں ظرف کا سودا نہیں کرتے




اک لفظ جو کہہ دیں تو وہی لفظ ہے آخر
کٹ جائے زبان بات کو بدلا نہیں کرتے



کوئی آ کے ہمیں ضرب لگا دے توالگ بات
ہم خود کسی لشکر کو پسپا نہیں کرتے


اک ضبط/ مسافت ہے زمانے کی کڑ ی دھوپ
گھر سے بنا چادر لئے نکلا نہیں کرتے



جس شہر میں جانا نہ ہو لوگوں سے سر راہ
اس شہر کا رستہ کبھی پوچھا نہیں کرتے



اک بار جہاں دل کو لگا لیں تو وہاں پہ
پھر سود و زیاں کیا ہے یہ دیکھا نہیں کرتے



دل ہے تو اسے گرد کا صحرا نہیں کرتے
آنکھوں کو کسی بات پہ دریا نہیں کرتے



بن جائیں تو پھر ان کی پرستش کی مصیبت
پتھر کبھی اس طرح تراشا نہیں کرتے


عقیل کوئی بات ہے خاموش سی لب پہ
کچھ لفظ تو ایسے ہیں جو لکھا نہیں کرتے

نگار
07-09-2014, 06:34 AM
جب ہجر کی آگ جلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
موسم کے رنگ بدلتے ہیں لہرا کر جھونکے آتے ہیں
شاخوں سے بور اڑاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یادوں کی گرم ہواؤں سے آنکھوں کی کلیاں جلتی ہیں
جب آنسو درد بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
بے درد ہوائیں سہ سہ کر سورج کے ڈھلتے سائیوں میں
جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب لوگ جہاں کے قصوں میں دم بھر کا موقعہ ملتے ہی
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں فرصت کی کارستانی ہے
جب لوگ مجھے سمجھاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب کالے بادل گھر آئیں اور بارش زور سے ہوتی ہو
دروازے شور مچاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب آنگن میں خاموشی اپنے ہونٹ پہ انگلی رکھے ہو
سناٹے جب در آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اس کی لپٹے ہوں
تب نغمے سے لہراتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں
تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

نگار
07-09-2014, 06:40 AM
1573
۔

نگار
07-09-2014, 06:43 AM
1574
۔