PDA

View Full Version : دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے



نگار
07-10-2014, 12:41 AM
عشق میں ہم نے یہ کمائی کی
دل دیا غم سے آشنائی کی

دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے
کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے

گو ٹھکانے نہیں ہیں ہوش و حواص
اتنا کہنے کو ہے بلایا پاس

دورِ آلام سے نا مراد چلے
دل میں لے کے تمہاری یاد چلے

پھر ہم اٹھنے لگے بٹھا لو تم
پھر بگڑ جائیں ہم منا لو تم

حشر تک ہو گی پھر یہ بات کہاں
تم کہاں ہم کہاں یہ رات کہاں

دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے
کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے

1576

saba
07-10-2014, 09:47 AM
کیا بات ہے نگار صاحب سر درد کے ساتھ ساتھ دل میں بھی درد ہے کیا،اتنی دکھی شاعری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہااہاہا ہاہا۔ نائس

نگار
07-10-2014, 04:51 PM
یہ دکھ تو شاعر کو ہوگا جناب میں کیوں دکھی ہونا
دُکھی ہوں میرے دشمن
ھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھ اھاھاھاھاھاھااھاھاھاھا
عجیب و غریب کمنٹس دینے کا بہت شکریہ
ھاھاھا