PDA

View Full Version : نواز شریف اور عمران خان کی منفی سیاست



سید انور محمود
07-10-2014, 07:50 AM
تاریخ: 10 جولائی 2014

نواز شریف اور عمران خان کی منفی سیاست

تحریر: سید انور محمود
سابق وزیر خارجہ اورسابق اسپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب نے اپنی یادشتوں میں جو بی بی سی کی ویب سائٹ پرموجود ہیں نواز شریف کے اُس دور کا ذکر کیا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ تھے اور نواز شریف وزیراعظم۔ "دونوں کے اختلاف ہوئے اور جب اُن کی چپقلش عروج پر پہنچ گئی تو وزیراعظم نے مجھے قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں آنے کو کہا۔میں پہنچا تو وزیراعظم نے کہا کہ میں اُنکے ساتھ وزیراعظم ہاؤس چلوں۔ راستے میں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر رکھتے ہوئے کہا۔گوہرصاحب مجھے کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ میں ایک رات کے لیے چیف جسٹس کو گرفتار کرکے جیل بھیج سکوں۔ میں نے کہا کہ خدا کے واسطے ایسا سوچیں بھی نہیں ورنہ پورا نظام ہل جائے گا۔اسکے بعد نواز شریف خاموش ہوگئے"۔ دسمبر1997 میں جب سجاد علی شاہ نے نواز شریف کی حکومت سے ٹکر لی تھی اس وقت وکلاء عدلیہ کے ساتھ نہیں تھے۔ نواز شریف حکومت نے جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف عدلیہ میں دراڑیں ڈالیں اور پھر سپریم کورٹ کےکوئٹہ اور پشاور میں بیٹھے ججوں کی طرف سے سجاد علی شاہ کے خلاف پے در پے فیصلے سامنے آئے۔جسٹس سجاد علی شاہ اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان جھگڑا سپریم کورٹ کے دو حصوں میں بٹوارے، ملک کی اعلی ترین عدالت پر سیاسی غنڈوں کے حملے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی برطرفی اور صدر فاروق لغاری کے استعفی پر جاکر ختم ہوا تھا۔ نواز شریف اپنے دوسرئے دور اقتدارمیں چونکہ بھاری اکثریت سے جیتے تھے لہذا وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بارہ اکتوبر 1999 کو نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو اُن کے سری لنکا کے دورے کے دوران برخواست کرکے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارلی ۔ شام تک نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی اور وہ گرفتار ہوگے۔دسمبر 1999 میں حکومت سے ایک دس سالہ معاہدہ کرکے جدہ چلے گے ، اُنکی واپسی نومبر 2007 میں ہوئی۔ 2008 کے الیکشن میں وہ مرکز میں تو اقتدار حاصل نہ کرسکے مگر پنجاب میں اُنکی حکومت بنی، 2013 کے الیکشن میں کامیاب ہوکر وہ تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بننے۔

کرکٹ پاکستان کاوہ واحدکھیل ہے جس میں پوری قوم دلچسپی لیتی ہے، 1992 کا ورلڈ کپ پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا لہذا عمران خان قوم کے ہیرو بن گئے ، یہ بات اور ہے ورلڈ کپ لیتے وقت قوم کے اس ہیرو نے اُس وقت بننے والےشوکت خانم ہسپتال کا ذکر تو ضرور کیا مگر پاکستان کے بارئے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ 25 اپریل، 1996 کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر تو کوئی کامیابی نہ ملی لیکن وزیراعظم بننے کی تمنا ضرورت سے زیادہ تھی، ابھی پارٹی نے کوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں کی تھی کہ 1996 میں بے نظیر حکومت کے خاتمے پر صدر لغاری کے کندھوں پر بیٹھ کر وزیراعظم بننے کی کوشش مگر کامیاب نہ ہوئے تو فاروق لغاری کے خلاف خوب برسے۔ 1999 میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو مشرف کے ساتھ ہوگے مگر اُس نے بھی وزیراعظم نہ بنایا تو پھر اُسکے خلاف بھی ہوگے۔ 2008 کے الیکشن کا بایئکاٹ کیا پھر 2013 کے الیکشن میں حصہ لیا، سونامی اور انقلاب کے نعرئے لگائے تو نوجوان ساتھ ہوئے لیکن زیادہ ترکی حمایت سوشل میڈیا پر تھی اور ہے، لہذا وزیراعظم بننے کی تمنا اب بھی پوری نہ ہوسکی۔ الیکشن میں ان کی جماعت کو توقع سے کم کامیابی ملی لیکن کے پی کے میں تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع مل گیا۔ وزیراعلی کے انتخاب کا موقع آیا تو نوجوان قیادت کو آگے لانے کا وعدہ بھول گئے۔ ایک سال سے کےپی کے میں حکومت کررہے ہیں مگر بڑئے بڑئے دعوئے کرنے کے باوجود کوئی انقلابی تبدیلی نہ لاسکے۔نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا اور الیکشن کے بعد طالبان کی حمایت میں اسقدر آگے چلے گئے کہ طالبان خان کا لقب حاصل کیا۔ جس حامد میر کے ساتھ جیو پر روزانہ بیٹھ کر اپنی بات کیا کرتے تھے، اُس جیو پر اچانک الزامات کی بارش کردی اور فوج کے ہمدرد بن بیٹھے۔ افواج پاکستان کےطالبان دہشت گردوں کےخلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد اُسکی بھی حمایت کردی اور یو ٹرن لینے کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ گیارہ مئی سے جلسے کررہے ہیں اور ہر جلسے میں الیکشن میں دھاندلی کا مختلف لوگوں پرالزام لگاتے ہیں۔ آجکل سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو نشانے پر لیا ہوا ہے۔ عمران خان نے رمضان سے پہلے اپنے آخری جلسہ بہاولپور میں الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور چار مطالبات کردیئے جبکہ ان چاروں مطالبات میں سے ایک بھی عوامی مسائل پر نہیں ہے۔ بقول عمران خان کہ "اب چار حلقے کھولنے کا وقت بھی گزر چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو 14 اگست کو اسلام آباد میں لانگ مارچ ہو گا اور دس لاکھ لوگ اکھٹے کروں گا"۔ دیکھیے کہیں طاہرالقادری والی گنتی نہ گننے لگیں۔

بہاولپور کے جلسہ سے پہلے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے ریکوڈک اور گوادر میں اہم پراجیکٹس کی نگرانی کے لیے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کو بورڈ آف انوسٹمنٹ بلوچستان کے وائس چیئر مین کے عہدے پر تقرری کی ، جس کی یقینا منظوری نواز شریف نے دی ہوگی، اس تقرری کے خلاف اپنے جلسے میں عمران خان نے سابق چیف جسٹس اور ارسلان افتخارپرالزامات کی بوچھاڑ کردی،دوسری طرف باقی اپوزیشن نے بھی اس تقرر کی سخت مخالفت کی تو ارسلان افتخار نے اس تقرر سے علیدگی کا اعلان کردیا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ ارسلان افتخار کا تقرر غلط تھا۔ ہمارئے ہاں ہر رات ٹی وی چینل پر سیاسی مکالمے کا جو بازار لگتا ہےایسے ہی ایک بازار میں ارسلان افتخار اور تحریک انصاف کے نوجوان رکن اسمبلی مرادسعید موجود تھے، ارسلان افتخار نے عمران خان کے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا سخت جواب دیتے ہوئے عمران خان کی نجی زندگی کے حوالے سے اخلاقی کرپشن کے الزامات لگائے اور ان کیخلاف لاس اینجلس کی ایک عدالت کا فیصلہ بھی دکھایا۔ عمران خان پر لگائے گئے سنگین اخلاقی الزامات پر تحریک انصاف کے نوجوان رکن قومی اسمبلی مراد سعید بہت غصے میں آگے اور انہوں نے ارسلان افتخار کو برا بھلا کہا اورمعافی مانگنے کو کہا، اس درمیان میں مراد سعید نے ارسلان کو دھکے بھی دیئے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مراد سعید نواز شریف کی ذات پر برستے رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار عمران خان کی نجی زندگی پر حملے کررہے ہیں جبکہ مراد سعید بھی نواز شریف کی ذاتی زندگی کو ٹٹول رہے ہیں، اس سلسلے میں ارسلان اور مراد سعید دونوں ہی الیکشن کمیشن جاپہنچے ہیں۔

پاکستان جو اسوقت مشکل ترین حالات کی زد میں ہے ، ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے، جسکی وجہ سے قومی اتحاد کی سخت ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارئے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن جو مرکز اور پنجاب میں اور پاکستان تحریک انصاف جو صوبہ کےپی کے میں حکومت میں ہیں ایک دوسرئے کےپارٹی سربراہوں کی ذاتی کردار کشی میں لگی ہوئی ہیں۔ لگتا ہے ابھی تک ہمارئے سیاستدان اپنی پرانی ڈگر پر ہی چل رہے ہیں، نواز شریف اور عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ اُنکی منفی سیاست سے ملک کو نقصان ہورہا ہے فاہدہ نہیں۔آخر میں سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے بھی ایک بات کہنی ہے کہ اب وہ اپنے عہدئے سے ریٹائر ہوچکے ہیں لہذا اپنے بیٹے کوکسی ڈھنگ کے کام پر لگایں ، یہ جوارسلان افتخار نواز شریف کےگلو بٹ بننے ہوئے ہیں یہ کام زیادہ عرصے چلنے والا نہیں۔

نگار
07-10-2014, 05:47 PM
پاکستان جو اسوقت مشکل ترین حالات کی زد میں ہے ، ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے، جسکی وجہ سے قومی اتحاد کی سخت ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارئے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن جو مرکز اور پنجاب میں اور پاکستان تحریک انصاف جو صوبہ کےپی کے میں حکومت میں ہیں ایک دوسرئے کےپارٹی سربراہوں کی ذاتی کردار کشی میں لگی ہوئی ہیں۔

ان کا تو شروع سے کام ہی یہی ہے جناب ، پہلے ووٹس مانگنے کے لیے عوام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے
یہ کرینگے وہ کرینگے ، لیکن جب پاور میں آ جائے تو پھر چلینز پہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں
وہ بھی عوام کے غم سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے
بہترین تحریر شیئر کرنے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

بےباک
07-14-2014, 03:31 PM
پاکستان جو اسوقت مشکل ترین حالات کی زد میں ہے ، ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے، جسکی وجہ سے قومی اتحاد کی سخت ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارئے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن جو مرکز اور پنجاب میں اور پاکستان تحریک انصاف جو صوبہ کےپی کے میں حکومت میں ہیں ایک دوسرئے کےپارٹی سربراہوں کی ذاتی کردار کشی میں لگی ہوئی ہیں۔ لگتا ہے ابھی تک ہمارئے سیاستدان اپنی پرانی ڈگر پر ہی چل رہے ہیں، نواز شریف اور عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ اُنکی منفی سیاست سے ملک کو نقصان ہورہا ہے فاہدہ نہیں۔آخر میں سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے بھی ایک بات کہنی ہے کہ اب وہ اپنے عہدئے سے ریٹائر ہوچکے ہیں لہذا اپنے بیٹے کوکسی ڈھنگ کے کام پر لگایں ، یہ جوارسلان افتخار نواز شریف کےگلو بٹ بننے ہوئے ہیں یہ کام زیادہ عرصے چلنے والا نہیں۔
جزاک اللہ ، بے حد اچھی تحریر پیش کی ،
ہاہاہاہا ، جناب سید انور محمود صاحب ،،،،،،،،آپ بھی کن لوگوں کو مخاطب ہیں ، یہ درد ان ہی کا دیا ہوا ہے ان سے ہی علاج کی توقع کیسے رکھیں ،