PDA

View Full Version : جانم میں جلد لوٹ آؤنگا



نگار
07-13-2014, 02:56 AM
ڈاکٹر نگہت نسیم

اٍس تاریک بداماں شب میں ماہ تاباں بھی سویا جاتا ھے
فغاں کے اٍس سفر میں کہی میرا صبر بھی کھویا جاتا ھے
گم کردہ راہ کا مسافر چاند
گذیدہ شب کے خاموش ستارے
حزن میں ڈوبے ھوئے پھول سارے
فرقتٍ زدہ شب ھے اور میں ھوں
خزاں کے زنداں میں قید پتہ بھی ٹوٹے تو سنائی دے
دست ٍ قضا میں اب یہ دل بھی دھڑکے تو دہائی دے
تم جو میری حیات میں شمار ھو
ورق ورق پڑھوں تو عمر درکار ھو
جانتی ھوں تم سے دور ھوں
ایک وقت میں محصور ھوں
یہ وقت بھی عجب ھے جانان
زمینوں کی گردشوں میں رھتا ھے
رشکٍ ارم خیاباں خیاباں چلتا ھے
منتشر خیال کو ایک تخیل میں باندھے جاتا ھے
یاد رفتگاں کوایک مناجات دل کی لکھے جاتا ھے
اور
یہ خیال ھی مسرور اور شاداب کر دیتا ھے
میرے گماں کو یقین سے سیراب کر دیتا ھے
میرے ھاتھ میں کبھی تمھارا ھاتھ تھا
یوں جیسے فردوسٍ بریں میرا مقام تھا
جب
میری آنکھوں پہ تمھاری پلکوں کا گھنا سایہ تھا
یوں جیسےھرطرف قندیلوں کا حسین رقص تھا
اور
تمھارے ھونٹوں نے میرے بدن پہ پیار اپنا جب لکھا تھا
یوں جیسے قوس و قزح نے ھر رنگ میں وصال لکھا تھا
پھر
بےقراری میں تم نے پیار سے تڑپ کر جان پکارا تھا
یوں جیسے ایک آتشی سحر میرے اندر اترگیا تھا
اور جب
ٹھنڈی میٹھی سرگوشیوں میں یہ کہا تھا
“ جانم میں جلد لوٹ آؤنگا “
یوں لگا جیسےکسی مندر میں
“ یرومی تھیوس“ نے آگ کی مشعل پھر کسی ھاتھ پہ رکھ دی ھو
اور یہ کہا ھو
“ ادراک کی اٍس آگ میں اب تم جل جاؤ “
یہ کیسا روگ ھے جانان
یہ کیسا ادراک ھے جاناں
تمھارے در آنے سے میری روح کے در کُھلتے تھے
تمھاری حدت سے میرے شب و روز سُلگتے تھے
نفس نفس بند صبا بھی مہکتی جاتی تھی
بند قبا سی ھر تمنا بھی کُھلتی جاتی تھی
اور
تمھارے ھی اندر کہی میں بکھرنے لگتی تھی
ڈوبتے ڈوبتے بھی بانہوں میں ابھرنے لگتی تھی
میرے ساحر
آج بھی تمھاری آوازوں کے چراغ جلتے ھیں
تمھارے ھونٹ میرے ماتھے پر دھکتے ھیں
اور میں
اپنے ھاتھ میں تمھارے وعدے کی مشعل تھامے
جب بھی پلٹ کر دیکھتی ھوں
تو
تمھاری راہ میں میرے انتظار کے سینکڑوں چراغ جلتے ھیں
اور
ھر چراغ میں تمھارے وصل کےسینکٹروں خواب مچلتے ھیں