PDA

View Full Version : آصف زرداری کا خالص کاروباری سیاسی بیان



سید انور محمود
07-17-2014, 04:50 AM
تاریخ: 17 جولائی 2014

آصف زرداری کا خالص کاروباری سیاسی بیان

تحریر: سید انور محمود

پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ پانچ سال کی حکومت کے عرصے میں مسلم لیگ نون بہت ہی دریا دلی کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی اورپیپلز پارٹی بہت ہی دریا دلی کے ساتھ کرپشن کے سمندر میں غوطے لگاتی رہی جو ایک ریکارڈ ہے، اب فرینڈلی اپوزیشن کا کردار پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کی حکومت میں کررہی ہے، عمران خان اور طاہر القادری کے سارئے باونسر گذشتہ ایک سال سے مسلم لیگ نون کی حکومت پیپلز پارٹی کی مدد سے ناکام بناتی رہی ہے۔ گذشتہ سال صدارت کے منصب سے فارغ ہوتے وقت سابق صدر آصف زرداری کو وزیراعظم نواز شریف نے ایوان وزیراعظم میں ایک الوادعی ظہرانہ دیا۔ ظہرانے میں نوازشریف نےاور آصف زرداری نے جوتقاریر کیں وہ"تو مجھے حاجی کہہ میں تجھے حاجی کہوں" کے مصادق تھیں۔ مثلا وزیراعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں بہت ساری باتوں کے علاوہ کہا تھا کہ"صدر زرداری کوباوقار طریقے سے رخصت کرکے تاریخ رقم کی ہے، میرا اور آصف زرداری کا ایک جیسا ایجنڈا ہے"، جبکہ آصف زرداری نے کہا تھاکہ "مفاہمت وقت اور ملک کی ضرورت ہے، مفاہمت سے ہی چیلنجز کا سامنا کرسکتے ہیں، یہ وقت سیاست کا نہیں، پانچ سال تک تعاون کریں گے، سیاست پانچ سال بعد کریں گے"۔ اُس وقت ایک سوال یہ اٹھا تھا کہ ایک جیسا ایجنڈا رکھنےوالے نواز شریف اور آصف زرداری ایک دوسرئے کو کب تک حاجی کہتے رہیں گے؟

آصف زرداری جنہوں نے کہا تھا کہ کہ " نواز حکومت سے پانچ سال تک تعاون کریں گے"، اپنے اس بیان سے ایک سال سے بھی کم عرصے میں منحرف ہوگے اورمنگل پندرہ جولائی 2014ء کو سابق صدر نے حکومت اور وزیراعظم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ”عوام نے نواز شریف کو وزیراعظم منتخب کیا ہے وہ شہنشاہ نہ بنیں، وفاقی حکومت دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، ساتھ ہی آصف زرداری نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف چار حلقوں میں دوبارہ گنتی سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کرانے میں کوئی حرج نہیں،ہم نے صرف جمہوریت کی بقاءکیلئے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا تھا"۔ عمران خان جنہوں نے صرف دو دن پہلے ہی پیپلز پارٹی کے خلاف بیان دیا تھا ، وہ آصف زرداری کے اس بیان پر کافی خوش ہیں کیونکہ اُنکے لیے تو آصف زرداری کا یہ بیان اُنکی سیاست کےلیے ایک ٹانک کا کام کرئے گا۔ ہوسکتا ہے اگلے ایک دو روز میں آصف زرداری اپنے کسی بیان میں طاہرالقادری کے انقلاب کی بھی حمایت کردیں۔ لازمی ہے کہ آصف زرداری کے بیان سے نواز شریف حکومت جو خود ساختہ مسائل کا شکار ہے اور خوف زدہ انداز میں کاروبار حکومت چلارہی ہے مزید دباوُ کا شکار ہوجائے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے پیپلز پارٹی جو اب تک تحریک انصاف کی سیاسی مخالف رہی ہے اچانک آصف زرداری کو اُس کے مطالبے سے ہمدردی کیوں ہوگئی، جواب سیدھا سیدھا ہے کہ یہ اپنی لوٹ مار کو جاری رکھنے کےلیے سیاسی بلیک میلنگ ہے اور کچھ نہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی کے کالے کرتوت چلتے رہیں تو آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی باقی قیادت مسلم لیگ نون کی حکومت کے حامی ہیں ورنہ نہیں۔

صوبہ سندھ میں قائم علی شاہ کے گذشتہ پانچ سالہ دور میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ سے پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان اس شہر میں عام بات تھی اور اب بھی ہے۔ سرکاری اور فوجی املاک پر حملے، فرقہ وارانہ نفرت ، بے روز گاری اور مہنگائی اس حکومت کے تحفے تھے جو اب بھی جاری ہیں ۔ کراچی کے ان حالات کی ذمیدار پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی تو چھوڑیں اُنہوں نے تو لاڑکانہ، نواب شاہ یا خیرپور میں بھی عوامی بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا۔کراچی چونکہ پاکستان کا معاشی حب ہے لہذا کسی بھی مرکزی حکومت کےلیے یہ ممکن نہیں کہ اُسکو نظرانداز کرسکے، یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے جس ٹیم کا انتخاب نواز شریف نے کیا ہے اُس کا کپتان وزیراعلی قائم علی شاہ کو بنادیا ہے۔ افسوس قائم علی شاہ جو خود ایک نااہل اور کرپٹ وزیراعلی ہیں اُن سے یہ امید کرنی کے وہ صوبے اورخاصکر کراچی کے حالات کو درست کرسکیں گے غلط ہوگا۔ پیپلز پارٹی جو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر حکمرانی کرتی رہی ہے، صرف ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو چھوڑ کرباقی پیپلز پارٹی کی تمام حکومتیں لوٹ مار میں ملوث رہی ہیں، اسکی تمام کی تمام قیادت کرپٹ ہے۔ تھوڑئے عرصے پہلے ہی سندھ کلچرل فیسٹول کے نام پر بلاول کے دوستوں کی مہمان نوازی کی جارہی تھی اور کڑوڑوں روپے خرچ کیے جارہے تھے، ٹھیک اُس وقت صحرائے تھر کے باشندئے مصنوئی قحط سالی کے باعث خوراک اور صاف پانی کی کمی کی وجہ سے بیمار ہوکر موت کی آغوش میں چلے جانے والےاپنے بچوں کو دفنانے میں مصروف تھے اور جب وزیراعظم نوازشریف نے مٹھی کا دورہ کیا اور ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان تو اُس وقت ہی شبہ ظاہر کیا گیا کہ اس رقم میں خردبرد ہونے کا اندیشہ ہے۔ نواز شریف نےکراچی کےلیے اربوں روپوں کے میگا پروجیکٹس کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ پروجیکٹس جب شروع ہوسکتے ہیں جب کراچی میں امن و امان ہو۔ امن وامان کےلیے ضروری ہے کہ کراچی پولس جسے اے پی سیز، بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمیٹس اور دیگر سیکورٹی آلات کی شدید ضرورت ہے فورا مہیا کیے جایں لیکن وہ بے سروسامانی کے عالم میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی مافیاز کے ساتھ لڑنے پر مجبور ہیں۔ ایسا کیوں ہے اسکی وجہ صرف موجودہ کرپٹ حکمرانوں کی لوٹ مار ہے جسکی تازہ مثال سندھ پولیس کے لئے ایک مشرقی یورپی ملک کے بیوپاری سے8؍ ارب روپے مالیت کی بم پروف بکتر بند گاڑیوں (اے پی سیز) اور دیگر سیکورٹی آلات کی خریداری کے حو الے سے وہ کہانی ہے جس میں ابتک پانچ پولیس افسران شکار ہوچکے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی اعلیٰ پولیس افسر اس قابل اعتراض سودئے میں شریک ہونے پر راضی نہیں ہے۔ حکومت سندھ کی یہ مجبوری ہے کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) لاجسٹک ہیں اور ان کی منظوری کے بغیر اے پی سیز خریدی نہیں جاسکتیں۔

نواز شریف جو پورئے ملک کے وزیراعظم ہیں اُنکو شہنشاہ کا لقب کیو ں ملا اوریہ الزام کیوں لگایا گیا کہ وفاقی حکومت دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے اسکی شاید یہ وجوہات ہوں کہ حالیہ دورہ کراچی میں وزیراعظم نواز شریف نےاپنے بنائے ہوئے کپتان سے یہ پوچھ لیا کہ "شاہ صاحب آئی جی بھی آپ کی مرضی کا لگاتے ہیں، آپ نے پھر موجودہ آئی جی کی خدمات وفاق کے حوالے کردی ہیں، اگر بار بار آئی جی سندھ تبدیل کریں گے تو پھر کراچی آپریشن کے نتائج کیسے حاصل ہوں گے؟"، جدید اسلحہ کی خریداری فوری کی جائے۔ سات ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی مکمل کرنے کی اطلاع پر وزیرا عظم یہ سوال کرئے کہ گذشتہ اجلاس میں بھی ہدایت کی گئی تھی کہ سندھ پولیس میں بھرتی کے عمل کیلئے آرمی کے بھرتی مراکز کی معاونت حاصل کی جائے، کیا ایسا کیا گیا؟۔ یا وزیرا عظم وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہے کہ شاہ صاحب جس طرح سڑکوں پر کچرے کی صفائی کی جاتی ہے اسی طرح کراچی سے بھتہ خوروں کی صفائی کریں، وفاق آپ کے ساتھ ہے ۔ايک سال ميں تيسری بار وزيراعظم کی کراچی آمد کے موقع پر کراچی کی چھ اہم ترين صنعتی تنظيموں نے وزیراعلی کی موجودگی میں ایک دستاويز وزيراعظم کو پيش کی جس ميں اُن سے مطالبہ کيا گيا کہ کراچی کی صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ اس کو مکمل طور پر فوج کے حوالے کيا جائے؟ بس یہ ہی وجوہات تھیں کہ آصف زرداری کو نواز شریف کے خلاف اسقدر سخت بیان دینا پڑا کیونکہ اب صرف صوبائی طور پر ہی کرپشن کرسکتے ہیں اور یہ اختیاربھی کہیں ہاتھ سے نہ چلا جائے۔ عمران خان کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں یہ آصف زرداری کا خالص کاروباری سیاسی بیان ہے جسکو ہمارئے کاروباری وزیراعظم بہت جلد سمجھ لینگے اور اگلی نواز زرداری ملاقات میں وہ پھر ایک دوسرئے کو حاجی کہہ رہے ہونگے۔