PDA

View Full Version : اسرائیلی جارحیت اور مسلم دنیا کا کردار



سید انور محمود
07-22-2014, 06:42 AM
تاریخ: 22 جولائی 2014


اسرائیلی جارحیت اور مسلم دنیا کا کردار

تحریر: سید انور محمود


اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کی تازہ لہر میں سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ابھی نہتے اور مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے،مسلم دنیاکویورپ اورامریکی کنٹرول میں رکھنے کےلیے ایک ملک اسرائیل کی شکل میں مشرق وسطی میں وجود میں آیا۔ بظاہر یہ چھوٹا سا ملک ایک ملک نہیں بلکہ یہ یورپ اور امریکہ کی ایک ناجائزتجاوز ہے، اسلیے ہی یورپ اور خصوصا امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملہ امریکہ پر حملہ تصور ہو گا اور اسرائیل کی سلامتی امریکہ کی سلامتی کے مترادف ہے, دراصل یہ امریکی ضمانت ہے جو اسرائیل کی حیات ہے اور مسلم دنیا اور خاصکر فلسطینیوں کواپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کا کھلا لائسنس ہے۔ اس سے پہلے بھی اسرائیل کافی مرتبہ جارحیت کا مرتکب ہوا ہے۔ لبنان میں صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں پر زبردست تباہ کن حملے ہوئے۔ جنین مہاجر کیمپ کا واقعہ ہوا اور 2009ء میں غزہ کی پٹی پر زبردست ہوائی اور زمینی حملے ہوئے۔ 2010ء فریڈم یا لبرٹی فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج نے بے شرمی سے حملہ کیا۔ ریاستی دہشتگردی کے اس سارے گھٹاٹوپ اندھیرے میں اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عرب پیس کا روڈ میپ گم ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے کئی علاقوں میں بمباری کی گئی ہے۔ بربریت کا حال یہ ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ سٹی کے اشرف القدر ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں ہسپتال کے عملے سمیت درجنوں فلسطینی شہید جبکہ 10 زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب دنیا بھر کے ممالک میں جن میں غیر مسلم کی اکثریت ہےاسرائیل کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں مگر بدقسمتی سے کسی بھی ملک کی جانب سے اور خاصکر مسلم ممالک کی جانب سے فلسطینیوں پر جاری مظالم روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ شجاعیہ میں بدترین بمباری اور سینکڑوں شہادتوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس تو طلب کر لیا لیکن دونوں فریقین سے صرف جنگ بندی کا مطالبہ ہی کیا ہے۔

عرب دنیا اور بیشتر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری کی غزہ پر صہیونی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں مکمل خاموشی کو قانونی جواز بناتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر فوجی حملے کے لیے بین الاقوامی جواز حاصل ہوگیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو تل ابیب میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''اسرائیل کو غزہ سے آنے والے راکٹوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں اس کو بہت مضبوط بین الاقوامی حمایت حاصل ہے''۔ نیتن یاہو نے نہتے فلسطینیوں پر اس ننگی جارحیت کو جائز قرار دینے کے لیے دعوی کیا کہ "اسرائیل نے 15 جولائی کو مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا تھا لیکن حماس نے اس کو مسترد کردیا تھا۔اس لیے اس کے بعد اسرائیل کو اہل غزہ کے خلاف فوجی کارروائی کا جائز حق حاصل ہوگیا ہے"۔ بقول اسرائیلی وزیراعظم کہ "اس فوجی آپریشن کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔اسرائیل ایک جمہوری ریاست کی حیثیت سے اپنے دفاع کے لیے جائز آلات و ذرائع استعمال کررہا ہے اور انھی لوگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے جو ہم پر راکٹ برسارہے ہیں اور یہ امتیاز بہت سے عالمی لیڈروں پر واضح ہے"۔ اب جھوٹ کا سہارا لینے والے نیتن یاہو یا ان کے ہم نوا مغربی لیڈر ہی بتاسکتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور گولیوں کا نشانہ بننے والے بچوں ،بوڑھوں اور خواتین نے کہاں راکٹ فائر کیے تھے۔امریکی صدر براک اوباما نے کہنے کی حد تک غزہ میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن انھوں نے اسرائیلی فوج کو جارحیت سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنے کے بجائے حماس کو غزہ میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی کوششوں سے انکار کردیا ہے اور اس طرح اسرائیل کو مزید اقدامات کی دعوت دی ہے۔

مسلم دنیا کا کردار
مسلم دنیا میں صرف ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان ہیں جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر تنقید کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو نازی جرمنوں سے مشابہ قراردیا ۔ ترکی کے وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کو بھی اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے۔انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر عالم اسلام کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت بند کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ نائب وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی گئی۔ جبکہ سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے فتوی دیا ہے کہ اہلیان غزہ کو زکواة دینا جائز ہے، اللہ غزہ کے مکینوں کی مشکلات دور کرے ۔ الشیخ نے اپنے حالیہ فتوی میں کہا ہے کہ غزہ کے باسیوں کو قتل، بیدخلی اور اپنے مال و متاع کی تباہی کا سامنا ہے، مصیبت کی گھڑی میں یہ لوگ دوسروں سے زیادہ ہماری زکواة کے مستحق ہیں، ان کے زخموں پر مرہم کی کوشش انتہائی مقبول ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم غزہ کے عوام کے ساتھ ہے اور ہم آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ہمیشہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا اور اسرائیلی جارحیت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کا عالمی برادری اور اسلامی ممالک کو بھی نوٹس لینا چاہئے۔

باقی اسلامی دنیا کے حکمران اپنے اپنے سیاسی مفادات میں مصروف ہیں، لیکن متحدہ عرب امارات کی خبر کچھ الگ ہی ہے۔ ایک بھارتی اخبار سیاست کے مطابق اسرائیل کے قومی ٹی وی اسٹیشن (عبرانی میں چینل 2 ) نے اپنی ایک شائع شدہ رپورٹ میں واضح طورپر کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداﷲ بن زید النہیان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اویگڈور لیبرمین سے گزشتہ ماہ کے آخر میں پیرس میں ملاقات کی تھی جہاں مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے موضوع پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اسرائیل کے چینل نے دعوی کیا کہ متحدہ عرب امارات کو غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع تھی ۔ یہی نہیں بلکہ اُسے ’’آپریشن ‘‘ کیلئے درکار فنڈس بھی متحدہ عرب امارات فراہم کرنے تیار تھا بشرطیکہ اسرائیل یہ وعدہ کرے کہ حملوں کے ذریعہ فلسطینی عسکریت پسند تنطیم حماس کا مکمل صفایا کردیا جائے کیونکہ حماس کے اخوان المسلمین سے قریبی روابط ہیں۔ اخبار سیاست کے مطابق یہ اطلاع مقامی عربی اخبار الشرق نے دی ہے جو یقینا چونکا دینے والی ہے۔

اسرائیل کی تازہ ترین جارحیت اور مسلم دنیا کی بے حسی اور شرمناک خاموشی کو اور واضع طور پر سمجھنے کےلیے آیئے مبشر علی زیدی کی 100 لفظوں کی کہانی "ردعمل" پڑھ لیں۔۔۔۔

سو (100) لفظوں کی کہانی ۔۔۔۔۔۔ردعمل ۔۔۔۔۔۔مبشر علی زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فلسطینیوں پر ظلم کرنے والا اسرائیل اور اُس کے حواری ہمارے ردِّ عمل سے کانپ اٹھیں گے۔‘‘
ایک لیڈر نے کہا۔
اُس مقام پر پچاس سے زیادہ دوسرے رہنما بھی تھے۔
کوئی کسی ملک کا صدر تھا، کوئی وزیرِ اعظم، کوئی جرنیل، کوئی بادشاہ،
کسی کے پاس درجنوں ایٹم بم تھے، کسی کے پاس سیکڑوں جنگی طیارے، کسی کے پاس لاکھوں سپاہی،
سب ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے،
سب دُکھی تھے، چہرے سُتے ہوئے تھے۔
انھوں نے مکمل اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا،
پھر ایک رہنما نے کمپیوٹر کا بٹن دبایا اور۔ ۔ ۔
انتہائی سخت مذمّتی بیان میڈیا کو ای میل کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
سو (100) لفظوں کی کہانی بشکریہ روز نامہ جنگ

aliimran
07-22-2014, 09:54 PM
انتہائی معذرت کالم میں شاید مسلم دنیا کا لفظ متقضی ترمیم ہے کیونکہ میرے خیال میں دنیا میں اس وقت کم از کم مسلم دنیا نام کا کوئی آسیب تک بھی ہمیں دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ یہ دنیا غیر مسلم دنیا ہے خود مسلم دنیا کے غلط نام میں بھی غیر مسلم دنیا ہی ہے۔ کوئی شیعہ غیر مسلم، کوئی وہابی غیر مسلم کوئی دیوبندی غیر مسلم کوئی بریلوی غیر مسلم۔۔۔۔۔۔ کالمز لکھنے والوں سے گزارش ہے سنجیدہ کالموں میں مزاحیہ عنوانات سے پرہیز کرنا زیادہ مناسب ہے تاکہ پڑھنے والا واقعی میں کچھ سنجیدہ ہو کے سوچ سکے۔۔۔۔

سید انور محمود
07-22-2014, 11:08 PM
علی عمران صاحب، غلطی کی نشاندہی کرنے کا بہت بہت شکریہ، واقعی میں غلطی پر ہوں، اپنے آپ سے پوچھا کہ میں کون ہوں، جواب آیا سنی ہوگے، یا پھر شعیہ
ہوگے، ارے وہابی ہو یا دیوبندی ہوگے۔مسلمان کا ذکر دوردور نہیں تھا، برحال آپکی ہدایت پر آئندہ سے لازمی عمل کرونگا۔ رہنمائی کا شکریہ۔

بےباک
07-23-2014, 02:54 PM
ہم اپنے مجرم خود ہیں ، اس لئے اس پر رونا بےکار ہے ، احساس ِ ضیاع ہی جاتا رہا ہے ،
جب اتحاد ہی نہیں ، جب کہیں اتفاق ہی نہیں تو جنگل میں اس شیر کے مقابلے میں بیلوں والی کہانی کے مصداق حالت ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ شیر حملہ کرنے آیا تو سب بیلوں نے مشترکہ طور پر شیر پر حملہ کر دیا ، اور شیر بھاگ گیا ، ہر بیل اس زعم میں کہ میرے سینگوں سے
ایسا ممکن ہوا ، آخر ہر ایک اسی بحث میں الجھ گیا ، آخر ایک دن پھر شیر نے حملہ کیا تو ہر بیل الگ الگ تھا ، اسکے بعد کی کہانی سب کو معلوم ہے ،
جب خلافت عثمانیہ تھی ، تو اسی وقت سے اسلام دشمن طاقتوں نے طے کر لیا تھا کہ متحدہ عثمانی خلافت کو ختم کرنا ہے تب ہی ہم مسلم طاقت سے نبٹ سکتے ہیں ،ایک منصوبے کے تحت سب کام کئے گئے ، امت مسلمہ سوتی رہی ،
اب ہم امت مسلمہ ہی نہیں رہے ، ہم سب فرد ہیں ،انفرادی زعم اسی بیل جیسا ہے ،حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں عزیز ہیں ،
انا للہ و انا الیہ راجعون ،
جزاک اللہ جناب انور محمود صاحب ، اور شکریہ علی عمران صاحب۔