PDA

View Full Version : شیخ سعدی کی حکایت



جاذبہ
08-18-2014, 01:07 PM
شیخ سعدی کی حکایت
علماء میں سے ایک ، ایک شہزادے کی تربیت کرتا تھا ۔ اسے بے پروا ہی سے مارتا اور بے پناہ ظلم کیا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ بیٹے نے نڈھال ہو کر اپنے باپ سے شکایت کی اور اپنے دکھتے جسم سے لباس ہٹا دیا ۔ باپ کے دل کو بہت تکلیف ہوئی ۔
اس نے استاد کو بلایا اور کہا !
تم عام رعایا کے بیٹوں سے اس قدر سرزنش اور ظلم کا سلوک روا نہیں رکھتے جس قدر میرے بیٹے سے رکھتے ہو ؛ اس کی کیا وجہ ہے ؟
اس نے کہا !
وجہ یہ ہے کہ سنجیدہ بات اور اچھا عمل کرنا سب مخلوق کےلئےعام طور پر اور بادشاہوں کےلئے خاص طور پر ضروری ہے ۔ اسلئےکہ جو قول و فعل ان ( بادشاہوں ) سے سرزد ہوتا ہے یقینا لوگ اسے اپنا لیتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے قول و فعل کو اس قدر اہمیت حاصل نہیں ہوتی ۔
٭ اگر کوئی غریب آدمی ایک سو ناپسندیدہ باتیں کرے تو اس کے ساتھی سو میں سے ایک بھی نہیں جانتے ۔
٭ اور اگر کوئی بادشاہ ایک مذاق کرے تو اسے ایک خطے سے دوسرے خطے میں پہنچا دیتے ہیں ۔
پس واجب ٹھہرا کہ شہزادے کے استاد کو بادشاہوں کے بیٹوں کی اخلاقی شائستگی کےلئے، کہ خداوند تعالی ان کی نیک تربیت میں پرورش کرے ، عوام کی نسبت زیادہ کوشش کرنی چاہیئے ۔
٭ وہ جس کو اس کے بچپن میں تربیت نہ کریں ، بڑے ہو کر بھلائی اس سے جاتی رہتی ہے ۔
٭ گیلی لکڑی ( چھڑی ) کو جیسے چاہو موڑو ، خشک لکڑی آگ کے سوا کہیں سیدھی نہیں ہوتی ۔
بادشاہ کو عالم کی حسن تدبیر اور جواب کی ادائیگی پسند آئی، اسے نعمت اور خلعت عطا کی اور اس کا رتبہ اور عہدہ بڑھا دیا

شاہنواز
08-18-2014, 06:32 PM
دانائی کے آگے پوری دنیا جھک جاتی ہے ۔سمجھنے کے باوجو د نہ سمجھے تو وہ دانا نہیں نادا ں ہوتا ہے ۔

بےباک
08-18-2014, 06:33 PM
جزاک اللہ ،
اس کہانی سے جو سبق کشید کیا ،

٭ وہ جس کو اس کے بچپن میں تربیت نہ کریں ، بڑے ہو کر بھلائی اس سے جاتی رہتی ہے ۔
٭ گیلی لکڑی ( چھڑی ) کو جیسے چاہو موڑو ، خشک لکڑی آگ کے سوا کہیں سیدھی نہیں ہوتی ۔

ماشاءاللہ ،،،،،،،، آپ اچھی چیزیں سب سے شئیر کرتی ہیں ، اس پر آپ کا خاص شکریہ ،