PDA

View Full Version : ویٹیکن سٹی میں پہلی اذان



جاذبہ
09-03-2014, 10:10 AM
http://urdudigest.pk/wp-content/uploads/2014/08/Vatikun-300x336.png

کچھ عرصہ قبل کیتھولک عیسائیوں کے پوپ فرانسس نے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کیا تھا۔ وہیں انھوں نے فلسطینی صدر، محمود عباس اور اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو ویٹیکن سٹی آنے کی دعوت دی۔ مدعا یہ تھا کہ وہ علاقے میں قیام امن کی خاطر دعائیہ تقریب میں شرکت کریں سکیں۔

چناںچہ ۹ جون کو پوپ فرانس شمعون پیریز اور محمود عباس ویٹیکن سٹی میں منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے۔
اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ ویٹیکن سٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہاں کی فضائوں میں اذان کی صدا گونجی۔ نیز قرآنی آیات بھی پڑھی گئیں۔ دراصل محمودعباس اور شمعون پیریز دونوں اپنی مذہبی دعائوں کی وساطت سے خطے میںامن و محبت کے طلب گار ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی اور ظلم کے باعث امن عنقا ہے۔ جیسے ہی وہ راہ راست پر آئی، فلسطین خودبخود خطۂِ امن بن جائے گا۔ بہرحال امن کی خواہش ہی نے کتھولک عیسائیوں کے گڑھ، ویٹیکن سٹی میں صدائے اذان بلند کرا دی۔امید ہے کہ یہ مبارک موقع فلسطینیوں کے لیے خوش خبری لائے گا۔ حماس اور الفتح کے مابین معاہدہ دوستی ہو ہی چکا۔ اب فلسطینیوں کی متحد قوت اسرائیل کو شکست دے سکتی ہے۔
ملاوی میں اشاعت اسلام
جنوب مشرقی افریقہ میں واقع ملک ملاوی میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ آباد ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۳۵ فیصد مسلمان بقیہ عیسائی ہیں۔ ملاوی ایک غریب ملک ہے اور یہاں طویل عرصہ آمریت کا دور دورہ رہا۔ تاہم ۱۹۹۳ء میں جمہوریت متعارف ہوئی، تو یہ تبدیلی مسلمانوں کے لیے مبارک ثابت ہوئی۔
سولھویں صدی میں عرب اور صومالی مسلمان تاجر اسلام کا پیغام لے کر ملاوی پہنچے۔ ان کی تبلیغ سے کئی مقامی باشندے مسلمان ہو گئے۔ لیکن جب برطانیہ نے اسے نوآبادی بنالیا، تو سرکاری سرپرستی میں پادری وسیع پیمانے پر عیسائیت پھیلانے میں کامیاب رہے۔
تاہم اب جمہوریت کے باعث ملاوی میں اسلام بہ سرعت پھیل رہا ہے۔ اس ضمن میں مملکت کے مشہور عالم دین ڈاکٹر عمران شریف بتاتے ہیں:’’ ۱۹۹۳ء سے قبل آمریت کے باعث مسلمان مختلف پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ لیکن جمہوریت آئی، تو ہمیں موقع ملا کہ ملک میں مدارس، طبی مراکز اور اسکول قائم کر سکیں۔ چناںچہ اب مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی درجہ پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہے۔‘‘
ازروئے جمہوریت اب عیسائی ہوں یا مسلمان، سب شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ تاہم جمہوریت پنپنے سے معاشرے میں کچھ خرابیوں نے بھی جنم لیا۔ مثلاً خواتین کی محفلوں کا رواج ہو گیا۔ بہرحال مسلمان گھرانوں کی بہو بیٹیاں اپنا پردہ اور وقار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
البتہ جمہوری حکومتیں آنے سے مسلمانانِ ملاوی کو یہ سنہرا موقع بھی ملا کہ وہ سیاست میں حصہ لے سکیں۔ چناںچہ اب وہ ایک سیاسی جماعت، مسلم فورم فار ڈیموکریسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ متحد ہو کر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔
مذکورہ بالا اسلامی جماعت کے سربراہ شیخ حاجی جعفری کوانگا ہیں۔ وہ بتاتے ہیں: ’’ملاوی میں بعض انتہا پسند عیسائی تنظیموں کی سعی ہے کہ اسلام اور دہشت گردی کولازم و ملزوم قرار دیا جائے۔ ہم بھرپور طریقے سے ان کی کوششوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘‘
مشکلا ت کے باوجود یہ خبر خوش آئند ہے کہ ملاوی میں اسلام کی اشاعت تیزی سے جاری ہے۔ آج سے بیس سال قبل باشندگان ملاوی میں ۲۵فیصد لوگ مسلمان تھے۔ اب ان کی تعداد ۳۵فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اگر بڑھوتری کی یہی رفتار رہی، تو امید ہے اگلے چار پانچ عشروں میں ملاوی مسلم اکثریت کا حامل ملک بن جائے گا۔
مذہبی لوگ مخیر ہوتے ہیں
پچھلے ماہ مشہور برطانوی خبررساں ایجنسی بی بی سی نے برطانیہ میں ایک انوکھا سروے کرایا۔ سروے میں چار ہزار مرد و زن سے پوچھا گیا کہ وہ ہر مہینے کتنی رقم فلاحی و خیراتی سرگرمیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ آخر میں یہ دریافت کیا گیا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
سروے کے مطابق ایک ہزار مرد و زن نے خود کو لامذہب قرار دیا… اور انکشاف ہوا کہ وہی فلاحی سرگرمیوں پر سب سے کم رقم خرچ کرتے ہیں۔ دوسری طرف مذہب پر ایمان رکھنے والے مخیر اورانسان دوست پائے گئے۔
اس سروے میں عیسائی، یہودی، مسلمان، ہندو اور سکھ غرض سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والے شریک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے، مذہب انسان کو خیر کے کام کرنے پر ابھارتا، نیکیوں کی طرف بلاتا اور اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اسی لیے مذہبی لوگ فلاح و بہبود کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
سروے کے نتائج سے یہ پتا نہیں چلتا کہ کون سا مذہبی گروہ فلاحی کام سب سے زیادہ کرتا ہے۔ تاہم پچھلے سال برطانیہ کی ایک ویب سائٹ، فار چیریٹیز جسٹ گیونگ (For charities- Just Giving) کے سروے سے انکشاف ہوا تھا کہ انگلستان میں سب سے زیادہ مسلمان فلاحی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے اور رقم خرچ کرتے ہیں۔
عثمانی خلیفہ کی آئرشوں کو امداد
یہ ۱۸۴۵ء کی بات ہے، آئرلینڈ شدید قحط کا نشانہ بن گیا۔ یہ قحط پھر اگلے چار برس تک جاری رہا۔ اس دوران دس لاکھ آئرش بھوک کے باعث دم توڑ گئے۔ جب کہ دس تا پندرہ لاکھ آئرش امریکا، کینیڈا اور فرانس جا بسے۔ ظاہر ہے جب ایک جگہ کھانے کو کچھ نہ ملے، تو انسان وہاں سے ہجرت کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
اس زمانے میں سلطان عبدالمجید ترک عثمانی سلطنت کے حکمران تھے۔ آپ خدا ترس، عوام دوست اور رحم دل بادشاہ کی حیثیت سے تاریخ میں مشہور ہوئے۔ جب انھیں آئرشوں کی حالت زار کا علم ہوا، تو شاہ نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سلطان عبدالمجید نے ملکہ وکٹوریہ سے رابطہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ آئرش عوام کی امداد کے واسطے ’’۱۰ہزار پونڈ‘‘ عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ آج کے زمانے کی رو سے یہ رقم تقریباً نصف ارب روپے بنتی ہے۔
لیکن ملکہ وکٹوریہ نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا… کیونکہ اس نے آئرش عوام کی مدد کے لیے صرف ۲ہزار پونڈ بھجوائے تھے۔ سو وہ چاہتی تھی کہ سلطان ترکی اس سے کم رقم عطیہ کریں۔
چناںچہ سلطان عبدالمجید نے ایک ہزارپونڈ بھجوا دیے۔ مگر انھوں نے خفیہ طور پر ایک انوکھا کام بھی کر دکھایا۔ انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کو مطلع کیے بغیر تین بحری جہاز آئرلینڈ بھجوا دیے۔ یہ جہاز گندم اور مکئی سے بھرے ہوئے تھے۔
خوراک سے لدے یہ جہاز ۱۰تا ۱۴ مئی ۱۸۴۷ء کو آئرش بندرگاہ، دروغیدا (Drogheda) پہنچے۔ وہاں مقیم بھوک سے تڑپتے آئرش یہ غذائی تحفہ پا کر قدرتاً بہت خوش ہوئے۔ اس غیبی امداد سے ان کے جینے کا سامان پیدا ہو گیا۔
ایک مسلم حکمران کی طرف سے عیسائی ملک کو تحفہ خوراک دینا رحم دلی کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ واقعہ نمایاں کیا جائے تاکہ انتہا پسند عیسائی رہنما جان سکیں، ماضی میں مسلمان حکمران بڑے روادار اور دکھی انسانیت کے ہمدرد تھے۔
۲۰۱۲ء میں آخر بلدیہ دروغیدا نے سلطان عبدالمجید کی امداد کو خراچ تحسین پیش کرتے ہوئے ویسٹ کورٹ ہوٹل میں ایک یادگاری تختی نصب کر دی۔ ڈیڑھ صدی قبل یہ ہوٹل ’’سٹی ہال‘‘ تھا۔ ترک ملاحوں نے وہیں قیام و طعام کیا تھا۔
جاپانی یونیورسٹیوں میں حلال کھانا
یہ خبر خوش آئند ہے کہ پچھلے چار برس کے دوران ٹوکیو یونیورسٹی سمیت کئی جاپانی یونیورسٹیوں نے اپنے ہوسٹلوں اور کیفے ٹیریا میں حلال کھانا متعارف کرا دیا ہے۔ چناںچہ جاپانی یوینورسٹیوں میں مقیم ہزارہا مسلمان طلبہ و طالبات اب بلا کھٹکے من پسند حلال کھانا کھا سکتے ہیں۔
دراصل جاپانی حکومت چاہتی ہے کہ ۲۰۲۰ء تک مقامی یونیورسٹی میں تین لاکھ غیر ملکی طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہوں۔ اس وقت ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ چونکہ بہت سے طالبان علم، مسلم ممالک مثلاً ملائشیا، انڈونیشیا، مشرق وسطی وغیرہ سے آتے ہیں، لہٰذا ان کی سہولت کی خاطر یونیورسٹیوں میں حلال کھانے متعارف کرا دیے گئے۔
یاد رہے، جاپان میں اسلام بہ سرعت پھیل رہا ہے، حالانکہ وہ وہاں صرف ایک سو سال قبل ہی پہنچا۔ فی الوقت ملک میں سوا لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں اکثریت جاپانی مسلمانوں کی ہے۔ جاپانی زبان میں قرآن پاک کے عمدہ ترجمے بھی ہو چکے۔ حقیقتاً انہی تراجم قرآن پاک کے ذریعے جاپان میں اشاعت اسلام بڑھ چڑھ کر ہوئی۔
برطانوی بلدیاتی انتخابات اور مسلمان
ماہ مئی میں برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان میں برطانوی مسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ برطانیہ کی سیاست میں مسلمان رفتہ رفتہ سیاسی قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب سیاسی و حکومتی معاملات میں مسلمانوں کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
برطانوی بلدیاتی انتخابات میں ’’۸۹۷‘‘ مسلمان امیدوار شریک ہوئے۔ ان میں سے ’’۳۵۴‘‘ لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے کھڑے ہوئے۔ اس امر سے احساس ہوتا ہے کہ برطانوی مسلمانوں میں لیبر پارٹی سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے بعد ۲۴۶امیدواروں نے کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑا۔
برطانیہ کی نئی سیاسی پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس نے بھی ’’۱۲۳‘‘ مسلم امیدوار کھڑے کیے۔ ۲۴مسلمانوں نے گرین پارٹی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا۔ ۲۰مسلمان بہ حیثیت آزاد امیدوار کھڑے ہوئے۔ حد یہ ہے کہ بظاہر مسلمانوں کی مخالف جماعت، یو کے انڈیپینڈینس پارٹی نے بھی مسلم امیدواروں کو ووٹ دیا۔
بلدیاتی انتخابات ’’۱۶۱‘‘ کونسلوں میں منعقد ہوئے۔ ان میں سے ’’۱۰۰‘‘ کونسلوں میں مسلمان امیدواروں نے بھی انتخاب لڑا۔ ان کونسلوں میں سے ’’۶۲‘‘ فیصد لندن ’’۷فیصد‘‘یارک شائر (بریڈفورڈ)، ہل، لیڈز، روتھرہیم، شیفیلڈ، ویک فیلڈاور ۳ئ۵فیصد ویسٹ مڈلینڈز، برمنگھم، کووینٹری، ڈیوڈلی میں واقع ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۷۹۸مسلم امیدواروں میں ۱۹۴خواتین بھی شامل تھیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مسلمان امیدواروں کی اکثریت الیکشن میں کامیاب ہو چکی۔ امید ہے کہ وہ اپنی مسلم کمیونٹی کی حالت بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔

کچھ عرصہ قبل کیتھولک عیسائیوں کے پوپ فرانسس نے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کیا تھا۔ وہیں انھوں نے فلسطینی صدر، محمود عباس اور اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو ویٹیکن سٹی آنے کی دعوت دی۔ مدعا یہ تھا کہ وہ علاقے میں قیام امن کی خاطر دعائیہ تقریب میں شرکت کریں سکیں۔
چناںچہ ۹ جون کو پوپ فرانس شمعون پیریز اور محمود عباس ویٹیکن سٹی میں منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے۔
اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ ویٹیکن سٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہاں کی فضائوں میں اذان کی صدا گونجی۔ نیز قرآنی آیات بھی پڑھی گئیں۔ دراصل محمودعباس اور شمعون پیریز دونوں اپنی مذہبی دعائوں کی وساطت سے خطے میںامن و محبت کے طلب گار ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی اور ظلم کے باعث امن عنقا ہے۔ جیسے ہی وہ راہ راست پر آئی، فلسطین خودبخود خطۂِ امن بن جائے گا۔ بہرحال امن کی خواہش ہی نے کتھولک عیسائیوں کے گڑھ، ویٹیکن سٹی میں صدائے اذان بلند کرا دی۔امید ہے کہ یہ مبارک موقع فلسطینیوں کے لیے خوش خبری لائے گا۔ حماس اور الفتح کے مابین معاہدہ دوستی ہو ہی چکا۔ اب فلسطینیوں کی متحد قوت اسرائیل کو شکست دے سکتی ہے۔
ملاوی میں اشاعت اسلام
جنوب مشرقی افریقہ میں واقع ملک ملاوی میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ آباد ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۳۵ فیصد مسلمان بقیہ عیسائی ہیں۔ ملاوی ایک غریب ملک ہے اور یہاں طویل عرصہ آمریت کا دور دورہ رہا۔ تاہم ۱۹۹۳ء میں جمہوریت متعارف ہوئی، تو یہ تبدیلی مسلمانوں کے لیے مبارک ثابت ہوئی۔
سولھویں صدی میں عرب اور صومالی مسلمان تاجر اسلام کا پیغام لے کر ملاوی پہنچے۔ ان کی تبلیغ سے کئی مقامی باشندے مسلمان ہو گئے۔ لیکن جب برطانیہ نے اسے نوآبادی بنالیا، تو سرکاری سرپرستی میں پادری وسیع پیمانے پر عیسائیت پھیلانے میں کامیاب رہے۔
تاہم اب جمہوریت کے باعث ملاوی میں اسلام بہ سرعت پھیل رہا ہے۔ اس ضمن میں مملکت کے مشہور عالم دین ڈاکٹر عمران شریف بتاتے ہیں:’’ ۱۹۹۳ء سے قبل آمریت کے باعث مسلمان مختلف پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ لیکن جمہوریت آئی، تو ہمیں موقع ملا کہ ملک میں مدارس، طبی مراکز اور اسکول قائم کر سکیں۔ چناںچہ اب مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی درجہ پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہے۔‘‘
ازروئے جمہوریت اب عیسائی ہوں یا مسلمان، سب شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ تاہم جمہوریت پنپنے سے معاشرے میں کچھ خرابیوں نے بھی جنم لیا۔ مثلاً خواتین کی محفلوں کا رواج ہو گیا۔ بہرحال مسلمان گھرانوں کی بہو بیٹیاں اپنا پردہ اور وقار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
البتہ جمہوری حکومتیں آنے سے مسلمانانِ ملاوی کو یہ سنہرا موقع بھی ملا کہ وہ سیاست میں حصہ لے سکیں۔ چناںچہ اب وہ ایک سیاسی جماعت، مسلم فورم فار ڈیموکریسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ متحد ہو کر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔
مذکورہ بالا اسلامی جماعت کے سربراہ شیخ حاجی جعفری کوانگا ہیں۔ وہ بتاتے ہیں: ’’ملاوی میں بعض انتہا پسند عیسائی تنظیموں کی سعی ہے کہ اسلام اور دہشت گردی کولازم و ملزوم قرار دیا جائے۔ ہم بھرپور طریقے سے ان کی کوششوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘‘
مشکلا ت کے باوجود یہ خبر خوش آئند ہے کہ ملاوی میں اسلام کی اشاعت تیزی سے جاری ہے۔ آج سے بیس سال قبل باشندگان ملاوی میں ۲۵فیصد لوگ مسلمان تھے۔ اب ان کی تعداد ۳۵فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اگر بڑھوتری کی یہی رفتار رہی، تو امید ہے اگلے چار پانچ عشروں میں ملاوی مسلم اکثریت کا حامل ملک بن جائے گا۔
مذہبی لوگ مخیر ہوتے ہیں
پچھلے ماہ مشہور برطانوی خبررساں ایجنسی بی بی سی نے برطانیہ میں ایک انوکھا سروے کرایا۔ سروے میں چار ہزار مرد و زن سے پوچھا گیا کہ وہ ہر مہینے کتنی رقم فلاحی و خیراتی سرگرمیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ آخر میں یہ دریافت کیا گیا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
سروے کے مطابق ایک ہزار مرد و زن نے خود کو لامذہب قرار دیا… اور انکشاف ہوا کہ وہی فلاحی سرگرمیوں پر سب سے کم رقم خرچ کرتے ہیں۔ دوسری طرف مذہب پر ایمان رکھنے والے مخیر اورانسان دوست پائے گئے۔
اس سروے میں عیسائی، یہودی، مسلمان، ہندو اور سکھ غرض سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والے شریک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے، مذہب انسان کو خیر کے کام کرنے پر ابھارتا، نیکیوں کی طرف بلاتا اور اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اسی لیے مذہبی لوگ فلاح و بہبود کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
سروے کے نتائج سے یہ پتا نہیں چلتا کہ کون سا مذہبی گروہ فلاحی کام سب سے زیادہ کرتا ہے۔ تاہم پچھلے سال برطانیہ کی ایک ویب سائٹ، فار چیریٹیز جسٹ گیونگ (For charities- Just Giving) کے سروے سے انکشاف ہوا تھا کہ انگلستان میں سب سے زیادہ مسلمان فلاحی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے اور رقم خرچ کرتے ہیں۔
عثمانی خلیفہ کی آئرشوں کو امداد
یہ ۱۸۴۵ء کی بات ہے، آئرلینڈ شدید قحط کا نشانہ بن گیا۔ یہ قحط پھر اگلے چار برس تک جاری رہا۔ اس دوران دس لاکھ آئرش بھوک کے باعث دم توڑ گئے۔ جب کہ دس تا پندرہ لاکھ آئرش امریکا، کینیڈا اور فرانس جا بسے۔ ظاہر ہے جب ایک جگہ کھانے کو کچھ نہ ملے، تو انسان وہاں سے ہجرت کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
اس زمانے میں سلطان عبدالمجید ترک عثمانی سلطنت کے حکمران تھے۔ آپ خدا ترس، عوام دوست اور رحم دل بادشاہ کی حیثیت سے تاریخ میں مشہور ہوئے۔ جب انھیں آئرشوں کی حالت زار کا علم ہوا، تو شاہ نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سلطان عبدالمجید نے ملکہ وکٹوریہ سے رابطہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ آئرش عوام کی امداد کے واسطے ’’۱۰ہزار پونڈ‘‘ عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ آج کے زمانے کی رو سے یہ رقم تقریباً نصف ارب روپے بنتی ہے۔
لیکن ملکہ وکٹوریہ نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا… کیونکہ اس نے آئرش عوام کی مدد کے لیے صرف ۲ہزار پونڈ بھجوائے تھے۔ سو وہ چاہتی تھی کہ سلطان ترکی اس سے کم رقم عطیہ کریں۔
چناںچہ سلطان عبدالمجید نے ایک ہزارپونڈ بھجوا دیے۔ مگر انھوں نے خفیہ طور پر ایک انوکھا کام بھی کر دکھایا۔ انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کو مطلع کیے بغیر تین بحری جہاز آئرلینڈ بھجوا دیے۔ یہ جہاز گندم اور مکئی سے بھرے ہوئے تھے۔
خوراک سے لدے یہ جہاز ۱۰تا ۱۴ مئی ۱۸۴۷ء کو آئرش بندرگاہ، دروغیدا (Drogheda) پہنچے۔ وہاں مقیم بھوک سے تڑپتے آئرش یہ غذائی تحفہ پا کر قدرتاً بہت خوش ہوئے۔ اس غیبی امداد سے ان کے جینے کا سامان پیدا ہو گیا۔
ایک مسلم حکمران کی طرف سے عیسائی ملک کو تحفہ خوراک دینا رحم دلی کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ واقعہ نمایاں کیا جائے تاکہ انتہا پسند عیسائی رہنما جان سکیں، ماضی میں مسلمان حکمران بڑے روادار اور دکھی انسانیت کے ہمدرد تھے۔
۲۰۱۲ء میں آخر بلدیہ دروغیدا نے سلطان عبدالمجید کی امداد کو خراچ تحسین پیش کرتے ہوئے ویسٹ کورٹ ہوٹل میں ایک یادگاری تختی نصب کر دی۔ ڈیڑھ صدی قبل یہ ہوٹل ’’سٹی ہال‘‘ تھا۔ ترک ملاحوں نے وہیں قیام و طعام کیا تھا۔
جاپانی یونیورسٹیوں میں حلال کھانا
یہ خبر خوش آئند ہے کہ پچھلے چار برس کے دوران ٹوکیو یونیورسٹی سمیت کئی جاپانی یونیورسٹیوں نے اپنے ہوسٹلوں اور کیفے ٹیریا میں حلال کھانا متعارف کرا دیا ہے۔ چناںچہ جاپانی یوینورسٹیوں میں مقیم ہزارہا مسلمان طلبہ و طالبات اب بلا کھٹکے من پسند حلال کھانا کھا سکتے ہیں۔
دراصل جاپانی حکومت چاہتی ہے کہ ۲۰۲۰ء تک مقامی یونیورسٹی میں تین لاکھ غیر ملکی طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہوں۔ اس وقت ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ چونکہ بہت سے طالبان علم، مسلم ممالک مثلاً ملائشیا، انڈونیشیا، مشرق وسطی وغیرہ سے آتے ہیں، لہٰذا ان کی سہولت کی خاطر یونیورسٹیوں میں حلال کھانے متعارف کرا دیے گئے۔
یاد رہے، جاپان میں اسلام بہ سرعت پھیل رہا ہے، حالانکہ وہ وہاں صرف ایک سو سال قبل ہی پہنچا۔ فی الوقت ملک میں سوا لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں اکثریت جاپانی مسلمانوں کی ہے۔ جاپانی زبان میں قرآن پاک کے عمدہ ترجمے بھی ہو چکے۔ حقیقتاً انہی تراجم قرآن پاک کے ذریعے جاپان میں اشاعت اسلام بڑھ چڑھ کر ہوئی۔
برطانوی بلدیاتی انتخابات اور مسلمان
ماہ مئی میں برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان میں برطانوی مسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ برطانیہ کی سیاست میں مسلمان رفتہ رفتہ سیاسی قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب سیاسی و حکومتی معاملات میں مسلمانوں کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
برطانوی بلدیاتی انتخابات میں ’’۸۹۷‘‘ مسلمان امیدوار شریک ہوئے۔ ان میں سے ’’۳۵۴‘‘ لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے کھڑے ہوئے۔ اس امر سے احساس ہوتا ہے کہ برطانوی مسلمانوں میں لیبر پارٹی سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے بعد ۲۴۶امیدواروں نے کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑا۔
برطانیہ کی نئی سیاسی پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس نے بھی ’’۱۲۳‘‘ مسلم امیدوار کھڑے کیے۔ ۲۴مسلمانوں نے گرین پارٹی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا۔ ۲۰مسلمان بہ حیثیت آزاد امیدوار کھڑے ہوئے۔ حد یہ ہے کہ بظاہر مسلمانوں کی مخالف جماعت، یو کے انڈیپینڈینس پارٹی نے بھی مسلم امیدواروں کو ووٹ دیا۔
بلدیاتی انتخابات ’’۱۶۱‘‘ کونسلوں میں منعقد ہوئے۔ ان میں سے ’’۱۰۰‘‘ کونسلوں میں مسلمان امیدواروں نے بھی انتخاب لڑا۔ ان کونسلوں میں سے ’’۶۲‘‘ فیصد لندن ’’۷فیصد‘‘یارک شائر (بریڈفورڈ)، ہل، لیڈز، روتھرہیم، شیفیلڈ، ویک فیلڈاور ۳ئ۵فیصد ویسٹ مڈلینڈز، برمنگھم، کووینٹری، ڈیوڈلی میں واقع ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۷۹۸مسلم امیدواروں میں ۱۹۴خواتین بھی شامل تھیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مسلمان امیدواروں کی اکثریت الیکشن میں کامیاب ہو چکی۔ امید ہے کہ وہ اپنی مسلم کمیونٹی کی حالت بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔

شاہنواز
09-04-2014, 08:02 PM
بہت بہت عمدہ تحقیق ہے اور بہت اچھی معلومات عامہ اسلام کے بارے میں اور دوسرے دیس میں اسلام کی اشاعت کے حساب سے

تانیہ
09-20-2014, 09:01 PM
دلچسپ و معلوماتی شیئرنگ کے لیے شکریہ