PDA

View Full Version : سکاٹ لینڈ کا ریفرنڈم اور پاکستانی انتخابات



سید انور محمود
09-20-2014, 08:05 AM
تاریخ: 20ستمبر 2014

سکاٹ لینڈ کا ریفرنڈم اور پاکستانی انتخابات


تحریر: سید انور محمود
سکاٹ لینڈ کی ریاست 1707 تک ایک خود مختار ریاست تھی جسے بعد میں ذاتی پسند کی بناء پر انگلینڈ اور آئرلینڈ سے ملا دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیمز ششم آف سکاٹ لینڈ بیک وقت ان دو ریاستوں کا بادشاہ بھی تھا۔ 17 مئی 1707 کو سکاٹ لینڈ بھی اس الحاق میں شامل ہو گیا اور یہ سب ریاستیں مل کر ایک ملک بن گئیں۔تاہم اس الحاق کے خلاف سکاٹ لینڈ میں عام مظاہرے ہوتے رہے تھے۔ آج بھی سکاٹ لینڈ کا عدالتی اور قانونی نظام اور جرم و سزا انگلینڈ اور ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے الگ ہے۔ 18 ستمبرکو سکاٹ لینڈ کے عوام سے ریفرنڈم میں پوچھا گیا تھا کہ "کیا سکاٹ لینڈ کو ایک آزاد ملک ہونا چاہیے؟" اور ریفرنڈم میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی ہے، اکثریت نے اس سوال کے جواب میں "نہیں" کے حق میں ووٹ دیا۔ آزادی کے حامی فرسٹ منسٹر ایلکس سلمنڈ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ “نہیں” کے حق میں اکثریت نے ووٹ دیئے ہیں اور ان کے بقول سکاٹ لینڈ کے عوام نتائج تسلیم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ رائے شماری "جمہوری عمل کی کامیابی ثابت ہوئی"۔ جبکہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یہ کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ کا حصہ بنے رہنے پر سکاٹ لینڈ کے لیے بہت سی اقتصادی اصلاحات کی جائیں گی۔ لازمی بات ہے کہ اس ریفرنڈم کی تیاری کافی عرصہ سے کی جارہی ہونگیں، لیکن بغیر کسی چھٹی کے ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح نوے فیصد بھی زائد بتائی جارہی ہے، جبکہ اہل ووٹروں کی تعداد 42 لاکھ سے زائد تھی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق کل 32 کونسلز میں سے 26 نے "نہیں" کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اس طرح اس کو 55 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ "ہاں" کے حق میں 45 فیصد پڑے ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی نیشنلسٹ پارٹی "ایس این پی" نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ایس این پی کی رہنما نکولا اسٹرگین نے کہا کہ انہیں اس نتیجے کی امید نہیں تھی اور وہ بہت مایوس ہیں۔ اس ریفرنڈم کے لیے مہم چلانے والی جماعتوں میں ایس این پی پیش پیش تھی۔ ریفرنڈم کے شروع ہونے اورآخری رزلٹ آنے میں شاید ڈیڑھ دن سے بھی کم وقت لگا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے عوام نے ڈیڑھ دن سے بھی کم وقت میں اپنی قسمت کا فیصلہ کرلیا اور ہر ایک نے قطع نظر اسکے کہ وہ بھی ایسا فیصلہ کرنے کے حق میں تھا یا نہیں ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرلیا، یہ کوئی ایسا ریفرنڈم نہیں تھا کہ جس میں ایک سیاسی پارٹی کو کسی مخصوص وقت کےلیے ملک کا اقتدار سونپا گیا ہو اور ذہن میں ہو کہ اگر اس پارٹی نے عوام کےلیے اچھا کام کیا تو ٹھیک ورنہ اگلی مرتبہ اسکی چھٹی۔ یہ زندگی بھر کا بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو طے کرنے کا ریفرنڈم تھاکہ سکاٹ لینڈ کے عوام برطانیہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا برطانیہ سے علیدہ ہوکر اپنے لیے ایک علیدہ ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا اور پورئے برطانیہ کے عوام نے ریفرنڈم میں کیے جانے والے فیصلے کوتسلیم کرلیا اسلیےکہ اُنہیں زرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ اُن کے حق رائے دہی پر کوئی ردوبدل ہوا ہوگا۔

افسوس ایسا پاکستان میں قطعی نہیں ہوتا، پاکستان میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انتخابات ایک ڈھونگ کے طور پر رچائے جاتے ہیں، اقتدار کی ہما کس کے سر پر بیٹھے گی اسکا فیصلہ عوام نہیں کرتےبلکہ کہیں اور ہوتا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں بھی بظاہر عوام نے ووٹ بھی ڈالے لیکن فیصلہ تو پہلے ہی کیا جاچکا تھا کہ نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم بنانا ہے، اور اس فیصلے پر عملدرآمدکرانے میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اُنکے ساتھی پیش پیش تھے، آخر نواز شریف کا نمک بھی تو حلال کرنا تھا۔ پیپلز پارٹی ، ائے این پی، اور جمیت علمائے اسلام ف کو بھی شاید پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا، پیپلز پارٹی تو اپنی باری سے پورا پورا فاہدہ اٹھاچکی تھی اور زرداری ٹولے نے اس عرصے میں دل کھول کر کرپشن کی تھی لہذا اب باری نواز شریف کی تھی،ائے این پی بھی پیپلزپارٹی کی شراکت دار تھی لہذا بہتی گنگا میں اُس نے بھی خوب ہاتھ دھوئے۔ جمیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مسلئہ یہ ہے کہ وزارتوں اور اقتدارسے دوری مولانا کے شرعی نظریئے کے خلاف ہے، لہذا اقتدار میں زرداری ہوں یا نواز شریف مولانا فضل الرحمان کی وزارتیں پکی ہوتی ہیں، موجودہ نواز شریف حکومت میں بھی مولانا اپنے شرعی نظریئے کے مطابق وزارتیں حاصل کرچکے ہیں۔

آصف زرداری کی صدر کی حیثیت سے رخصتی نواز شریف نے بہت دھوم دھام سے کی تھی، نواز شریف ایک غیرملکی دورئے سے واپس آتے تو چند دن بعد ہی دوسرئے غیرملکی دورئے پر چلے جاتے، پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت بناکر خوش و خرم وقت گذار رہی تھی، بلوچستان میں ڈاکٹر مالک نواز شریف کی مہربانی سے وزیراعلی بنکربلوچستان میں راج کررہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں لیکن حکومت بنانے کےلیے عمران خان کو دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنی پڑی، جبکہ مولانا فضل الرحمان کی یہ پوری کوشش تھی کہ وہ، نواز شریف اور کچھ دوسرئے ملکر صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنالیں لیکن نواز شریف نے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بننے دی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی اور شہباز شریف اُسکے وزیر اعلی۔ اب نواز شریف کا حکومت کرنے کا انداز پہلے سے بہت مختلف تھا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کی اُنکی نظر میں کوئی اہمیت نہیں تھی ، آج جس پارلیمینٹ میں وہ روزانہ گھنٹوں گذار رہے ہیں ، وہاں کے ارکان اور خاصکر سینٹ کے ارکان تو مسلسل ایک سال تک یہ مطالبہ کرتے رہے کہ وہ سینٹ میں تشریف لایں۔ گذشتہ سال جون میں نواز شریف کے وزیراعظم کا عہدہ سنھبالنے کے بعد سے عمران خان نواز شریف سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے لہذا وہ صرف چار حلقوں کو چیک کروایں، لیکن نواز شریف نے عمران خان کے اس مطالبے کو کوئی اہمیت نہیں دی، اور اپنی خاندانی حکومت بنانے میں مشغول رہے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، لیکن اس سال 14 اگست کے بعد عمران خان اور طاہرالقادری نے اسلام آباد میں دھرنے ڈال کر پاکستانی سیاست میں ہلچل مچادی۔

گذشتہ پانچ ہفتے سے اسلام آباد میں دو دھرنوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے، اُنکے مطالبات اب چار حلقوں کو چیک کروانے یا انتخابی اصلاحات سے بہت آگے جاچکے ہیں، وہ اب نواز شریف کی اقتدار سے رخصتی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے خاتمے اور دوبارہ انتخابات تک جاپہنچے ہیں۔اسلام آباد کے باسی پریشان ہیں، اُنکے بچوں کے اسکولوں کو پولیس نے آباد کیا ہوا ہے اور پارلیمینٹ میں بیٹھی جماعتیں اپنا وجود قائم رکھنے کےلیے نواز شریف کی حمایت کررہی ہیں، ویسے نواز شریف کو یاد رہے کہ پارلیمینٹ میں اُنکی حمایت کی گیں تقرریں نہ تو کوئی وعدئے ہیں اور نہ سیاسی معاہدئےجن پر کل قائم رہاجائے۔ طاہرالقادری اور عمران خان اپنے مقاصد میں کتنے کامیاب ہونگے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، لیکن جسطرح اُنہوں نے عام لوگوں کو اور خاصکرنوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ وہ پاکستان کے مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ پاکستان میں 67 برسوں کے دوران جس طرح ظلم، جبر اور استحصال کے نظام کو فروغ دیا گیاہے، اُسکو ختم کرنے کےلیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی جائےجو استحصال سے پاک ہو۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کےلیے یہ کہنا مناسب نہ ہوگاکہ اُن کا ایک مخصوص ایجنڈا ہےاور اُنکے پاس کوئی پروگرام یا کوئی منشور نہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ کا عام لوگوں سے کیا لینا دینا ہے، اس پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے موجود ہی نہیں تو عوام سے ہمدردی کس کو ہوگی، اس میں یا توجاگیردار ہیں یا پھرسرمایہ دار۔ بہتر ہوگا نواز شریف عوام کی یعنی جمہور کی آواز جلد از جلد سن لیں اور آج کے عوامی نعرئے "گو نواز گو" پر دھیان دیں۔ آخر میں نواز شریف اور پاکستان کی موجودہ پارلیمینٹ سے جو اپنے مفادات کےلیے نواز شریف کی حمایت کررہے ہیں صرف ایک سوال۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کو اپنے ریفرنڈم کے نتائج پر زرہ برابر بھی شک نہیں اور ہم پاکستانی عوام کو پاکستانی انتخابات کے نتائج پر زرہ برابر بھی اعتباریا بھروسہ نہیں؟۔