PDA

View Full Version : سونف‘ بدہضمی کا شافی علاج ۔حکیم محمد عبداﷲ



بےباک
10-11-2014, 05:08 PM
سونف‘ بدہضمی کا شافی علاج ۔۔۔۔ Fennel Seeds
http://4.bp.blogspot.com/-FlMkV02H-JY/Ut1KaIDBX7I/AAAAAAAAA3U/3VMuxC2KnAU/s1600/download+%25284%2529.jpg
کھانے کے بعد ابا جان کو بدہضمی ہوئی تو طاہرہ سوچنے لگی کہ ان کی تکلیف کا مداوا کیسے کروں! اچانک ابا جان نے اس کے ذریعے تھوڑی سی سونف منگوائی، پھانکی اور کچھ ہی دیر بعد وہ بھلے چنگے ہوگئے۔ جی ہاں سونف جیسی معمولی چیز اپنے اندر بڑے غذائی کمالات چھپائے ہوئے ہے۔
سونف کا زردی مائل سبز پودا پورے برصغیر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ سونف کا کیمیائی تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کے ایک سو گرام میں 6.3 فیصد رطوبت، 9.5 فیصد پروٹین، 10 فیصد چکنائی، 13.4 فیصد معدنی اجزا، 18.5 فیصد ریشہ اور 42.3 فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتیاتی اجزا میں کیلشیم، فاسفورس، فولاد، سوڈیم، پوٹاشیم، تھایامین، ریبوفلاوین، نایاسین اور وٹامن سی شامل ہیں۔ اس کی غذائی صلاحیت 370 کیلوریز ہے۔
شفا بخش قوت اور طبی استعمال: پودے کے پتّے ہاضم، اشتہا انگیز اور محرک ہوتے ہیں۔ سونف کی مختلف اقسام ہیں چنانچہ اس میں پائے جانے والے تیل کے خواص بھی مختلف ہوتے ہیں۔ برصغیر میں پائی جانے والی سونف میں اینی تھول اور فین کون کی مقدار وافر ہوتی ہے۔ اس کا ذائقہ خوشگوار ہوتا ہے۔ پودے کے پتّے رطوبتیں بڑھاتے ہیں، چنانچہ ان کے استعمال سے پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
سونف میٹھی، مسہل، مقوی باہ اور خون کا اخراج روکنے میں مؤثر ہے۔ اس کا استعمال معدے کی گیس خارج کرتا، بلغمی مواد کے اخراج کو بڑھاتا اور سانس کی نالیوں کو صاف کرتا ہے۔ سونف کے خشک بیجوں سے کشید کیا ہوا تیل خوشبودار، ہاضم، مفرح اور اینٹھن دور کرنے والا ہے۔ اسے اصلاحِ معدہ کے لیے تیار کی جانے والی مختلف ادویہ میں ضرور شامل کیا جاتا ہے۔
نظام ہضم: سونف کا استعمال نظام ہضم کے لیے بہت مفید ہے۔ چھوٹے بچوں کو کاربوہائیڈریٹ ہضم کرنے کے لیے تھوڑی مقدار میںدینا بہتر ہے۔ ایک چمچ سونف ایک سو ملی لٹر پانی میں ابال کر (نصف گھنٹہ تک جوش دے کر) ٹھنڈا کرکے پینا بدہضمی میں بھی سودمند ہے۔ کھانا کھانے کے بعد تھوڑی سی سونف چبانا سانس کی بو، بدہضمی، قبض اور قے سے نجات دلاتا ہے۔ سونف کو شکر کے ساتھ کھانا زیادہ مفید ہے۔
دماغ کی کمزوری: اسے دور کرنے کے لیے سونف بہت مفید چیز ہے جس سے کئی طرح کے نسخہ جات بنائے جاتے ہیں۔ چند ایک درج ذیل ہیں:
سونف مقوی دماغ: سونف چھ ماشہ اور مصری چھ ماشہ۔ دونوں کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ اس میں سات بادام تھوڑا کوٹ کر ملا دیں۔ رات کو سونے لگیں تو یہ دوا گرم دودھ کے ہمراہ استعمال کریں اور اس کے بعد پانی ہرگز نہ پئیں۔ اتنی مقدار روزانہ استعمال کرتے رہیں۔ چالس دن میں دماغ اتنا طاقتور ہوجاتا ہے کہ کمزور نظر والے کو عینک کی حاجت نہیں رہتی۔
مقوی دماغ سردائی: اگر دماغ میں گرمی ہو، اس کی وجہ سے آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جاتا ہو، نیز دماغ کمزور ہو تو یہ تمام عوارض دور کرنے کے لیے عجیب و غریب اور مفید چیز ہے۔ حسب ذیل طریقہ سے روزانہ صبح و شام استعمال کریں:
سونف 6 ماشہ، بادام 7 عدد، الائچی خورد 3 عدد۔ انہیں پیس لیں اور آدھ سیر پانی میں مناسب مصری ملا کر کپڑے سے چھان کر پلائیں۔ گویا یہ دوا کی دوا اور سردائی کی سردائی ہے۔
غنودگی یعنی نیند کی زیادتی: اگر ہر وقت طبیعت سست رہتی ہو اور نیند ہی کی طرف مائل رہے، تو اس حالت کو بھگانے کے لیے بھی سونف لاجواب ہے۔ سونف 6 ماشہ کو آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پائو رہ جائے تو اتارکر اس میں نمک دو ماشہ ملا کر صبح و شام پلائیے۔ بہت مفید ہے۔
مقوی بصر خوراکی نسخہ: سونف بند نظر کھولتی ہے اور نظر تیز کرتی ہے۔ اس سے عینک بھی اتر سکتی ہے۔ تین نسخے درج ذیل ہیں:
1۔ سونف کو نرم چوٹ سے کوٹ لیں تاکہ اس کا چھلکا اتر جائے۔ رات کو اس میں 2 تولہ اور نازک طبع لوگ ایک تولہ سالم پانی یا دودھ کے ساتھ لیں۔ اِن شاء اللہ نظر چیل کی مانند تیز ہوجائے گی۔
2۔ سونف باریک پیس کر اس میں ہم وزن شکر ملا دیں۔ رات کو ایک تولہ یہ مرکب گائے کے دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
3۔ بادام 7 عدد، سونف ایک تولہ اور مصری دو تولہ سیدھی چوٹ سے کوٹ کر رات کو نیم گرم دودھ سے کھلائیں۔ مریض کو ہدایت کردیں کہ وہ اس کے بعد پانی ہرگز نہ پیے۔ اِن شاء اللہ چالیس روز میں نظر تیز ہوجائے گی، حتیٰ کہ بعض اشخاص کو عینک کی حاجت نہیں رہے گی۔
منہ کی بدبو: منہ میں بدبو آنا ایک بدنما عیب ہے۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صاحبِ عقل اور خوش شکل ہوتے ہیں، مگر لوگ اُن کے پاس بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے، کیوں کہ ان کے منہ سے بدبو آتی ہے۔ اگر وہ سونف منہ میں چباتے رہیں تو بدبو دور ہوتی ہے اور سانس خوشبودار ہوجاتی ہے۔
کھانسی: سونف ایک تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب پائو بھر پانی باقی رہے تو اس میں ایک تولہ شہد ملا کر صبح و شام پلائیں۔ ہر قسم کی کھانسی میں مفید ہے۔ اگر شہد نہ مل سکے تو نمک ایک ماشہ شامل کرکے بھی پلایا جا سکتا ہے۔
معدے کی بیماریاں: سونف معدے کو درست کرنے اور اس کو طاقتور بنانے کے لیے لاجواب چیز ہے۔ اس سے معدہ کی تقریباً تمام بیماریاں دور ہوجاتی ہیں۔ ذیل میں چند ایک نسخہ جات پیش ہیں جو دیکھنے میں معمولی چٹکلوں کی حیثیت رکھتے ہیں مگر فوائد میں بیش بہا ہیں:
1 ۔ سونف کو ذرا سا کوٹ کر رکھیں تاکہ اس کا چھلکا اتر جائے اور اس کے چاول نکل آئیں۔ اس میں سے دو پھانکے پانی سے لیا کریں۔ معدے کی گرانی دور ہوجائے گی۔
2 ۔ سونف 20 تولہ، سیاہ نمک 5 تولہ، دونوں کو باریک پیس کر کپڑ چھان کریں اور ڈبے میں حفاظت سے رکھیں۔ اس میں سے چار پانچ ماشہ دن میں دوبار یعنی صبح و شام پانی سے کھلایا کریں۔ اس سے بدہضمی، بھوک کی کمی، کھٹے ڈکاروں کا آنا وغیرہ سب امراض دور ہوجاتے ہیں۔
3۔ پانچ تولہ سونف کو پندرہ تولہ گلقند میں ملا دیں اور اس میں سے صبح و شام 5-5 تولہ خوب چبا کر کھائیں۔ تمام امراضِ معدہ کے لیے بڑی فائدہ مند دوا ہے۔
بدہضمی: 1۔ سونف ایک ماشہ اور پودینہ ایک ماشہ پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور بوقتِ ضرورت استعمال کریں۔ بدہضمی دور ہوجائے گی۔
2۔ سونف 9 ماشہ، سونٹھ 3 ماشہ اور مصری 1 تولہ۔ ان سب کو باریک پیس کر رکھیں اور دن میں تین بار گرم پانی کے ہمراہ لے لیں۔ بدہضمی دور ہوجائے گی۔
قبض: یہ تمام بیماریوں کی ماں ہے۔ اسے دور کرنے کے لیے سونف عجیب و غریب اور عمدہ چیز ہے جسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
1۔ سونف 10تولہ، شکر سرخ 10 تولہ باریک پیس کر ملا لیں اور سنبھال کر رکھیں۔ خوراک دو تولہ ہمراہ گرم دودھ یا ویسے ہی کھا کر سوجائیں۔
2۔ سونف 5 تولہ اور گلقند 20 تولہ۔ سونف کو باریک پیس کر گلقند میں ملا دیں اور 5 تولہ رات کے وقت گرم دودھ سے یا ویسے ہی کھلا دیں۔ اعلیٰ درجہ کی قبض کشا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس سے عارضی طور پر قبض کشائی ہوتی ہے بلکہ دائمی قبض بھی دور ہوجاتا ہے۔
3۔ سونف کے چاول نکال کر انہیں باریک پیسیں اور ان کو تمام دن مغز گھیکوار یعنی کنوار گندل کے پانی سے کھرل کرکے رتی وزن کی گولیاں بنا لیں۔ رات کے وقت تین سے پانچ گولی گرم دودھ سے دیں۔ فوائد: اس سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔
اسہال یعنی دست: اگر پاخانہ پتلا اور بار بار آئے، اسے اسہال یا دستوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سونف 6 ماشہ کو پائو بھر پانی میں گھوٹ لیں اورکپڑے میں چھان کر دن میں دو سے تین بار قدرے مصری ملا کر پلا دیں۔ دستوں کو روکنے والی سردائی ہے۔
دودھ کی کمی: ان نسخوں کے استعمال سے چند ایام میں دودھ وافر پیدا ہوجاتا ہے:
1۔ سونف 20 تولہ اور کھانڈ 20 تولہ خوب باریک پیس کر سفوف بنائیں اور ہر روز صبح و شام 1 تولہ سے ڈیڑھ تولہ تک ہمراہ گرم دودھ دیا کریں۔
2۔ ایک تولہ سونف کوآدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ آدھ پائو پانی باقی رہنے پر چھان کر آدھ سیر گائے کے گرم دودھ میں ملا کر اور حسب ِ ضرورت چینی ملا کر صبح و شام پلانے سے بچے والی عورت میں کافی دودھ پیدا ہونے لگتا ہے۔
زخم: زخموں کے علاج میں لاپروائی کرنے سے اکثر بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ سونف کا مرہم زخموں کے بھرنے میں خوب کام آتا ہے۔ طریقہ یہ ہے:
سونف 2 تولہ کوٹ کر دو سیر پانی میں جوش دیں۔ جب سیر پانی باقی بچے تو اسے کسی لوٹے میں ڈال کر سرد ہونے دیں۔ جب معلوم ہو کہ اب نیم گرم رہ گیا ہے، تو اس کی دھار باندھ کر زخم پر ڈالیں اور کسی صاف روئی وغیرہ سے زخم صاف کرتے رہیں۔ تمام پانی ختم ہونے پر روئی کا ٹکڑا اوپر رکھ دیں تاکہ پانی کو جذب کرکے زخم خشک کردے۔ بس اسی طرح روزانہ صاف کرنے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں اور بگڑنے نہیں پاتے۔
ناسور: اگر زخم بہت پرانا ہوگیا ہو اور اس میں سے پیپ وغیرہ جاری ہو، تو وہ ناسور کہلاتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے یہ روغن بناکر استعمال کرائیں۔ اِن شاء اللہ ناسور دور ہوجائے گا: روغنِ سونف ایک تولہ، کافور تین ماشہ، کار بالک ایسڈ 20 قطرے۔ تینوں کو ملا کر آمیزہ بنائیں اور اس میں بتی تر کرکے زخم کے اندر رکھ دیں۔ بتی اندر نہ جا سکے تو کپڑے کی گدی تر کرکے زخم کے اوپر رکھ دیں۔ چند روز میں زخم پوری طرح بھر جاتا ہے۔
گرمی دانے یعنی پت: گرمی اور برسات کے دنوں میں بدن پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں۔ ان میں بعض اوقات ایسا درد ہوتا ہے گویا ان میں سوئی چبھوئی ہو۔ درد دور کرنے کے لیے 4 تولہ سونف کو پانی کے گھڑے میں بھگودیں اور صبح اس سے نہائیں یا روغن سونف آٹھ حصہ، روغن سرسوں کے آٹھ حصے میں ملا کر اس آمیزے کی مالش کریں۔
ذیابیطس: خشک سونف اور خشک آملہ دونوں برابر وزن لے کر باریک پیس کر کپڑے سے چھان لیں اور چھ چھ ماشے صبح و شام تازہ پانی کے ساتھ کھلائیں۔ ذیابیطس دور کرنے کے لیے بہت مفید دوا ہے۔
جوئیں: سونف کا تیل ایک حصہ، تلوں کا تیل چار حصہ، دونوں کو ملا کر سر میں لگانے سے جوئیں دور ہوجاتی ہیں۔
بدبودار پسینہ: سونف کو اکثر چباتے رہنا اور اس کا جوشاندہ استعمال کرنا بدبودار پسینے کو روکتا ہے، یعنی اس سے پسینے کی بدبو دور ہوجاتی ہے۔
پسلی کا درد: سونف خشک ایک تولہ، پیپل دو ماشے۔ دونوں کو کوٹ کر آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ آدھ پائو پانی باقی رہنے پر چھان کر ایک ماشہ سیندھا نمک ملاکر پلانا پسلی کے درد کو دورکرتا ہے۔
حکیم محمد عبداﷲ

شاہنواز
11-18-2014, 10:44 PM
بہت ہی عمدہ حکیمانی نسخہ ہے

تانیہ
11-21-2014, 08:42 PM
مفید شیئرنگ ۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ