PDA

View Full Version : سی آئی اے کے سربراہ کی پاکستان سے واپسی ،



بےباک
12-19-2010, 11:46 AM
http://www.dailyaaj.com.pk/admin/images/PC18_12_10_28.jpg
http://www.epakistannews.com/wp-content/uploads/2010/09/gilani-panetta-608.jpg
اسلام آباد۔ امریکہ نے سی آئی اے کے سربراہ جوناتھن بینکس کو پاکستان سے واپس بلا لیا ، امریکی حکام کا موقف ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف کی جان کو خطرہ تھا . دوسری جانب سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کو مقدمے کا سامنا تھا، زیرسماعت مقدمے میں سی آئی اے چیف اورامریکی وزیردفاع کے نام بھی شامل ہیں،انہیں گزشتہ ماہ واپس بلایا گیا تھا۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے پاکستان میں بے گناہ افراد کے ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کے خلاف اسلام آباد کے سیکرٹریٹ تھانے شکایت درج کروائی تھی تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے کیلئے مہلت طلب کی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق خفیہ ایجنسی کی ترجمان جینیفر ینگ بلڈ نے کسی قسم کے تبصرہ دینے سے انکار کردیا میڈیا نے سٹیشن چیف کا نام اور تصویر شائع نہیں کی۔

ادھرامریکی انٹیلی جنس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اعلی ترین اہلکار کو ان کی زندگی کو لاحق خطرات کی بنا پر واپس بلا لیا گیا ہے۔ برطانوی ریڈیو کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ سی آئی اے کے اعلی اہلکار کو واپس بلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان میں ان کو دہشت گردی کے اس قدر سخت قسم کے خطرات تھے کہ کوئی قدم نہ اٹھانا خلاف عقل ہوتا۔اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں سی آئی اے کا مشن اور ایجنسی کی دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ بلا تخفیف جاری رہے گی۔

سی آئی اے کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے،واضح رہے کہ اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج کا نام اس وقت سامنے آیا تھا جب گزشتہ ماہ انتیس نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی نے ڈرون حملوں پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رہائشی کریم خان نے ڈرون حملے میں اپنے عزیزوں کی ہلاکت پر امریکہ کے خلاف پچاس کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعوی کیا تھا۔کریم خان کے مطابق انھوں نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پنیٹا اور اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔رواں ماہ دسمبر میں کریم خان نے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں سی آئی اے کے اسلام آباد میں انچارج جوناتھن بینکس کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ جوناتھن بینکس پورے ملک خاص طور پر شمالی وزیرستان میں ایک جاسوسی کا خفیہ آپریشن چلا رہے ہیں۔

درخواست گزار نے جوناتھن کا نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں ڈالنے کی استدعا کی تھی،پولیس نے درخواست قانونی رائے کیلئے متعلقہ شعبے کو بھیج دی تھی۔ امریکی ریڈیو کے مطابق سی آئی اے کے ایک ترجمان جارج لٹل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقدمے کی تفصیلات کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے اسٹیشن چیفز کو بڑے خطرات کا سامنا ہوتا ہے اور ادارے کے لئے ان کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہوتی ہے خاص طور پر جب انہیں فوری خطرہ لاحق ہو۔
...................
قارئین کو یہ خبر بھی یاد رکھنی چاہیے :
امریکی عدالت نے آئی ایس آئی کے موجودہ اور سابق سربراہ کو طلب کرلیا

آئی ایس آئی پر لشکر طیبہ کی مدد کا الزام، پاکستانی سفارتخانے کا تبصرے سے انکار، مقدمہ نجی شکایت ہے، امریکی عہدیدار

نیویارک (سمیع ابراہیم) بروکلین میں امریکی عدالت نے آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل احمد شجاع پاشا سمیت ادارے کے دیگر سینئر عہدیداروں اور کالعدم گروپ لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کے خلاف طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیں۔ ان کے خلاف 2 امریکی شہریوں (victims) نے مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 26/11 کے حملوں کےلئے دہشت گردوں کی معاونت کی تھی اور انہیں سامان فراہم کیا تھا۔ آئی ایس آئی کے عہدیداروں اور لشکر طیبہ کے کارکنوں کے خلاف 26 صفحات پر مشتمل یہ مقدمہ ربی گیوریل نوحا ہولٹز برگ اور ان کی اہلیہ ریوکا کے رشتہ داروں کی جانب سے 19 نومبر کو نیویارک کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ ربی اور ان کی اہلیہ ممبئی حملوں میں دہشت گردوں کے حملوں میں مارے گئے تھے۔ تاہم، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ ایک نجی شکایت ہے اور اسے امریکی حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک آزاد ملک ہے اور ہر کسی کے پاس عدالت جانے کا حق ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ امریکی حکومت ایک نجی شکایت کے سلسلے میں کوئی حمایت کرے گی۔ پاکستانی سفارت خانے نے معاملے پر تبصرے سے انکار کردیا تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ پاکستانی سفارت خانے کو امریکی عدالت کی جانب سے طلبی کا کوئی نوٹس موصول ہوا ہے یا نہیں۔ ربی اور ان کی اہلیہ کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں ہونے والا دہشت گرد حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور یہ کام کالعدم لشکر طیبہ کے کارکنوں نے انجام دیا جبکہ آئی ایس آئی نے منصوبہ بندی، ساز و سامان کی فراہمی، کنٹرول اور کو آرڈینیشن میں لشکر طیبہ کی مدد کی۔ جاری کئے گئے سمن میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور سابق سربراہ جنرل ندیم تاج کو طلب کیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے دیگر عہدیدارو ں میں میجر اقبال اور میجر سمیر علی کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی،
........... ادلے کا بدلہ ....
پاکستان کے سابق وزیر قانون اور بین الاقوامی قانون کے ماہر ایس ایم ظفر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ امریکی قانون کے مطابق امریکی شہریوں کو دیوانی نوعیت کے ایسے دعوے دائر کرنے کا اختیار تو ہے لیکن ایسی قانونی کارروائی کی نتیجہ خیز کامیابی کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ ان کے مطابق اس دعوے میں ٹھوس شواہد کی بجائے محض اخباری الزامات کا اعادہ کر کے ہرجانہ طلب کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اگر شواہد کی عدم موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے یہ دعوی منظور بھی کر لیا جائے تب بھی اسکی قانونی حیثیت متنازعہ رہے گی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ لیبیا کے طیارے پر حملے اور اسکے ہرجانے والے مقدمے سے بہت مختلف ہے۔
ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے لئے زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ وہ اس مقدمے کا جواب داخل کر کے اپنا نام اس مقدمے سے خارج کروا لیں تاہم انہیں اس عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ہرجانے کے اس دعوے کے پیچھے کوئی لابی پاکستان کو بدنام کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، ان کے خیال میں امریکی حکومت اس عدالتی کارروائی کی حمایت سے گریز کرے گی۔

پاکستان کالج آف لاء کے پرنسپل ہمایوں احسان کا کہنا ہے کہ اگر ڈرون حملوں میں مارے جانے والے معصوم لوگوں اور امریکی حکومتوں کے ایماء پر غائب کر دئے جانے والے پاکستانی شہریوں کے رشتہ داروں نے بھی امریکیوں کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کرنا شروع کر دئے تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جائے گا کہ بات کہاں جا کر ختم ہو گی۔ ان کے مطابق بظاہر یہ درخواست پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش لگتی ہے ۔ پاکستان کے آئینی ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقدمہ ہے جس میں واقعہ ممبئی(بھارت) میں ہوا، عدالتی کارروائی امریکہ میں ہو رہی ہے اور ہرجانہ پاکستان کے شہریوں سے طلب کیا جا رہا ہے۔ بار بار کوشش کرنے کے باوجود آئی ایس پی آر اور لشکر طیبہ کے رہنماؤں کا موقف نہیں مل سکا۔

بےباک
12-19-2010, 04:08 PM
’خفیہ اداروں میں دراڑ پڑ سکتی ہے‘
(بی بی سی . لندن)
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ترجمان نے اس تاثر کی نفی کی کہ آئی ایس آئی نے پاکستان میں مقیم سی آئی اے کے اعلیٰ ترین اہلکار کی شناخت بے نقاب کرنے میں مدد کی تھی۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار کی زندگی کو لاحق خطرات کی بناء پر واپس بلا لیا گیا ہے۔

پاکستان کی خفیہ ایحنسی آئی ایس آئی کے ترجمان کموڈور (ریٹائرڈ) ظفر اقبال نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ ’ہم سختی سے اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے نے سی آئی اے کے اہلکار کی شاخت ظاہر کرنے میں مدد کی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی بے بنیاد اور غیر مصدقہ اطلاعات کے نتیجے میں دونوں اداروں ( آئی ایس آئی اور سی آئی اے) کے درمیان امکانی طور پر دراڑ پڑ سکتی ہے۔

سی آئی اے نے ابھی تک اس بارے میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اعلیٰ ترین اہلکار کو ان کی زندگی کو لاحق خطرات کی بنا پر واپس بلا لیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستان میں تعینات اپنے اعلیٰ ترین اہلکار کی زندگی کو لاحق مخصوص خطرات کے بارے میں معلوم ہونے پر انھیں واپس بلا لیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ ’سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار کو واپس بلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان میں ان کو دہشت گردی کے اس قدر سخت قسم کے خطرات تھے کہ کوئی قدم نہ اٹھانا خلاف عقل ہوتا۔‘

اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’پاکستان میں سی آئی اے کا مشن اور ایجنسی کی دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ بلا تخفیف جاری رہے گی۔‘

سی آئی اے کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ کلِک اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج کا نام اس وقت سامنے آیا تھا جب گزشتہ ماہ انتیس نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس کے دوران قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی نے ڈرون حملوں پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کریم خان نے ڈرون حملے میں اپنے عزیزوں کی ہلاکت پر امریکہ کے خلاف پچاس کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔

کریم خان کے مطابق انھوں نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پنیٹا اور اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

رواں ماہ دسمبر میں کریم خان نے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں سی آئی اے کے اسلام آباد میں انچارج جوناتھن بینکس کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔

درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ جوناتھن بینکس پورے ملک خاص طور پر شمالی وزیرستان میں ایک جاسوسی کا خفیہ آپریشن چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار نے جوناتھن کا نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں ڈالنے کی استدعا کی تھی۔

پولیس نے درخواست قانونی رائے کے لیے متعلقہ شعبے کو بھیج دی تھی۔

دوسری طرف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی جاسوسی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں مبینہ طور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے یا سینٹرل انیٹنیلجنس ایجنسی کے سربراہ کا نام افشا کیے جانے کے پیچھے مشتبہ طور پر پاکستانی جاسوسی ادارے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔

اخبار نے امریکی جاسوسی اداروں کے حکام کےحوالےسے یہ بھی قیاس کیا ہے کہ ممکنہ طور پاکستان میں امریکی سی آئي کے کے عملداروں کے خلاف فوجداری فریاد نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں آئی ایس آئی کیخلاف دائر مقدمے کے بدلے میں کی گئی۔

نیویارک میں مشہور وکیل جم کرائنڈلر نے بی بی سی اردو کے حسن مجتبیٰ سے اپنی بات چیت میں اسکی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بروکیلن کی وفاقی عدالت میں نیویارک سے تعلق رکھنے والے ممبئي میں نومبر انیس سو آٹھ میں ممبئی میں دہشتگردانہ حملوں میں ہلاک ہونیوالے یہودی ریبائي سمیت ہلاک ہونیوالے چار افراد کے اہلیان خانہ کیطرف سے دائر مقدمے میں پاکستان کے جاسوسی ادارے ائی ایس آئی اور اسکے موجودہ سربراہ جنرل شجاع پاشا کو فریق بنایا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئي میں دہشتگردی کا واقعہ جس میں امریکی شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئي تھیں خود اپنے خلاف گواہی آپ ہے اور اس ضمن میں وہ دوران مقدمہ شواہد پیش کریں گے کہ پاکستان کا جاسوسی ادارہ آئی آیس آئی اس میں مبینہ طور ملوث تنظیم لشکر طیبہ کو مٹریل سپورٹ یا مادی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

بشکریہ بی بی سی

علی عمران
12-20-2010, 02:24 PM
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ.......... بلا تبصرہ.........;)