PDA

View Full Version : سانحہ پشاور کے سوگ میں کراچی کے کاروباری مراکزبھی بند



سید انور محمود
12-18-2014, 02:33 AM
سانحہ پشاور کے سوگ میں کراچی کے کاروباری مراکزبھی بند
1667
آج سترہ دسمبر ہے اورپشاور میں دہشتگردی کے واقعے کوآج صرف ایک روز ہوا ہے، ملک بھرمیں تین روز کا سوگ منایا جارہا ہے، صرف پشاور میں ہی نہیں ہر جگہ ہر پاکستانی غمزدہ ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے، آج کسی نے بھی ہڑتال کا نہیں کہا ہے، لیکن پورے پاکستان میں تقریبا کاروبار بند رہا، خاصکر مرکزی بازار تو مکمل شٹ ڈاون رہے، یہ وہ ہی تاجر برادری ہے جو ہڑتال کی کال دینے والے کو کوستے ہیں لیکن آج پشاور سے کراچی تک ہر پاکستانی کی طرح ہر تاجر کی آنکھ اپنے 148 پیاروں کی شہادت پر اشکبار ہے، ان 148 میں ہمارے 132 بچے بھی شامل ہیں، لہذا ٓج یوم سوگ ہے کاروبار بند ہے، دوسرے شعبوں کی طرح اسٹاک مارکیٹ بھی اپنے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے بند کردی گی۔ کراچی میں آج نہ تو ایم کیو ایم بند رکھنے کو کہا اور نہ ہی کسی اور جماعت نے لیکن دہشتگردی کراچی میں ہو یا پشاور میں دکھ تو سب کا ہے۔

پشاور میں دہشت گردی کے بدترین واقعہ میں بچوں کی شہادت نےکراچی کی فضا کو بھی سوگوار کرڈالاہے۔ المناک سانحہ پر شہر کے تمام کاروباری مراکز بند ہیں ۔پشاور میں دہشت گردی کے ہولناک واقعہ نے پوری قوم کو رنج و الم کی تصویر بناڈالا ہے۔ معصوم بچوں کی شہادت کے سوگ میں کراچی کے تمام تجارتی مراکز بند ہیں ۔تاجروں کا کہنا کہ ملکی تاریخ کے اس بد ترین واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ماں باپ کی زندگی بھر کی پونجی لٹ جائے وہاں کاروبار کس طرح ممکن ہے۔ تاجر برادری نے آج جوڑیا بازار ، صرافہ بازار ، جامع کلاتھ ، الیکٹرانک مارکیٹ سمیت شہر کی تمام مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ پشاور سانحہ کے بعد دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم اور پختہ ہوا ہے۔

بےباک
12-18-2014, 02:06 PM
پورا پاکستان اس دکھ میں شامل ہے ، اس لحاظ ہم سب ان مرحومین کے لواحقین کے ساتھ ہیں ، ان کا دکھ اور کرب محسوس کر سکتے ہیں
اللہ تعالی مرحومین کو جنت میں اعلی جگہ عطا ضرور فرمائے گا، وہ شہید ہیں ،
بس یہ دعا کیجئے کہ ان کے والدین کو صبر عطا فرمائے ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،
آمین آمین ۔

شاہنواز
12-18-2014, 03:36 PM
یہ کرب ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے رات کو میرے بچےبھی اس پروگرام کودیکھ رہے تھے اورمعصومانہ سوال کررہے تھے کہ کیا جس اسکول میں ہم پڑھتے ہیں دہشت گردوں کو ہمارے اسکول کا پتہ ہے کیا وہ ہمارےاسکول میں آکر ہمیں بھی ماردیںگے؟ ان سوالات کا جواب میرےپاس نہیں تھا کہ ہر اسکول کا بچہ اپنا ہی بچہ لگتا ہےاور جب بھی راستہ میں کوئ بھی اسککول کا بچہ مجھے بیگ ہاتھ میں لے کر ملتا ہے تو میں اس کو سرزنش کرتا ہوںکہ تئم اس قوم کےمعمار ہو ہو اپنے والدین کو دھکہ دے رہے یہ ٹھیک نہیں ہے