PDA

View Full Version : مومن کی صفات ، علامہ محمد اقبال



بےباک
12-20-2010, 09:10 PM
تجھ سے ہوا آشکار بندہ مومن کا راز
اس کے دنوں کي تپش ، اس کي شبوں کا گداز
اس کا مقام بلند ، اس کا خيال عظيم
اس کا سرور اس کا شوق ، اس کا نياز اس کا ناز

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفريں ، کارکشا ، کارساز
خاکي و نوري نہاد ، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غني اس کا دل بے نياز

اس کي اميديں قليل ، اس کے مقاصد جليل
اس کي ادا دل فريب ، اس کي نگہ دل نواز
نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو
رزم ہو يا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز
...............
ان تین رباعیوں میں علامہ صاحب نے مرد مومن کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
1)
پہلی رباعی میں مسجد قرطبہ سے مخاطب ہیں کہ تم نے مرد مومن کے شب و روز،اسکے مقام و خیال اسکے ناز و نیاز سے متعلق تمام راز کھول دیے ھیں۔
2)
دوسری رباعی میں فرمایا کہ بندہ مومن خاک اور نور کی امتزاج تخلیق ہوتے ہوئے جب الوہی صفات پیدا کر لیتا ھے تو اسکا دل دو جہاں کی الائشوں سے بے نیاز ھو جاتا ھے اور جو کچھ بھی کرتا ھے ایسے ہی ھے جیسے خود اللہ کریم کر رہے ھوں۔اسکے ھاتھ الوہی اوصاف سے مزین ہو جاتے ھیں۔یعنی کسی کام کی تخیلیق، تنظیم اور تدبیر پر غلبہ رکھنے والے ھاتھ۔
3)
تیسری رباعی میں فرمایا کہ بندہ مومن کی امیدیں کم اور مقصد جلالت والے ھونے کے ساتھ ادا اور نگاہ دل لبھانے والے ھیں۔ وہ بات کرتے وقت نرمی سے کرتا ھے اورعلم و جستجو میں متحرک رھتا ھے۔وہ حالت جنگ میں ھو یا دوستوں کی محفل میں اسکی دل و نگاہ مطہر و پاک ھوتی ھے۔

تانیہ
12-20-2010, 10:39 PM
نائس شیئرنگ...تھینکس

این اے ناصر
03-31-2012, 01:29 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ