PDA

View Full Version : سیاسی اخلاقیا ت کا بحران



سقراط
12-21-2010, 01:21 AM
ڈاکٹر خلیل احمد

سیاست اور اخلاقیات ایک چیز نہیں سیاست نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی ضابطہ اخلاق ۔ یہ اقتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا فن اور علم ہے یہ مشترکہ کاز کیلئے اتحاد قائم کرنے اور توڑنے کا سسٹم ہے۔

(نفیسہ شاہ ایم این اے پی پی پی )

گزشتہ دنوں میں پاکستان میں سیاست ، سیاستدان، سیاسی پارٹیاں اور ان کے حامی ہراس چیز کی ضد بن گئے ہیں جسے اخلاقیات کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر جسطرح یہ سچائی پاکستان پیپلز پارٹی کی موجود حکومت کے ذریعے آشکار ہو رہی ہے وہ خطرناک حد تک ڈرا دینے والا ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ دنیا جو ہمیں ملی ہے اس میں اخلاقیات کا کوئی وجود نہیں یہ ہم ہیں جو اسے اخلاقی لحاظ سے با معنی بنانے کی کوشش کرتے ہیں مادی اور نباتاتی دنیا پوری طرح اخلاقیات کے فہم سے دور ہے۔ حیوانی دنیا میں بعض ایسے واضح اور غیر واضح اشارے ملتے ہیں جن سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس دنیا کے بعض افعال کے پیچھے کو اخلاقی تحریک کار فر ما ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا، دوسری نوع کے افراد کا خیال کرنا، ایک دوسرے کیساتھ خوراک میں حصہ بٹانا ، اپنے ساتھی کو حملہ آوروں سے بچانا جانوروں کے کردار کا حصہ ہیں مگر یہ ساری باتیں انکی جبلت کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنی نوع کا تحفظ دینا ہے۔ جب ہم ارتقاء کی سیڑھی پر اوپر انسان تک پہنچتے ہیں تو اخلاقی اضطراب ہماری زندگی میں داخل ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔ ہم انسان اصول ، اقداراور معیارات بناتے ،انکو نکھارتے اور سنوارتے ہیں اور تمام تر رکاوٹوں اور خطرات کے با وجود ان اصولوں ، ضابطوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کو قابل تعریف گردانتے ہیں۔ ان سب کا مقصد نوع کا تحفظ نہیں اس کی بجائے ان سب کا بنیادی محرک اخلاقی ہوتا ہے۔ کیا جو ہم کر رہے ہیں صیح ہے یا غلط ۔ یہ ہماری جبلت میں موجود محرکات سے بڑھ کر ہے اور بہت سی چیزوں کے علاوہ یہ ہماری "جہد بقاء"کو اعتدال پر لاتا ہے اور اسے انسانی رنگ دیتا ہے اور اسے بعض دوسری وجوہات کی بناء پر گالیاں بھی دی گئی ہیں اور اسکا دفاع بھی کیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں دوسر ے جانوروں پر ایک احساس برتری دیتا ہے بلکہ ہماری زندگی کو انسانیت ، شائستگی ، امتیازی اور دیانت کا روپ بھی دیتا ہے۔ہم محض جانوروں کی طرح زندگی نہیں گزارتے جو صرف اپنی جبلتوں کے محکوم ہو تے ہیں بلکہ ہم ان اصولو ں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جن کوہم درست سمجھتے ہیں اور جو ہمارے معاشرے کی اخلاقی بنیادیں فراہم کرتے ہیں ۔ ان سب باتوں کو ایک سادہ سے جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ وہ کون سے حالات ہیں جن میں مقاصد ذرائع کا جواز فراہم کرتے ہیں استشائی صورتیں تو ہمیں کنفیوز کر سکتی ہیں مگر اخلاقی حوالے سے بات کریں تو اسے کوئی بھی حالات نہیں ہوتے جن میں مقا صد کا حصول کیلئے اختیار کئے جانے والے ذرائع کو متعین کرتے ہوں اور انکا جواز فراہم کرتے ہوں ۔ یہ اخلاقی آئیڈیل ہے اب تھوڑا سا عملیت پسند ہو جائیں ہم سب کو زندہ رہنے اور خوش رہنے کیلئے بے شمار ضرورتیں پورا کر نا ہوتی ہیں یقینا ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے درکا اشیاء کمیاب ہوتی ہیں اور پہلے دن ہی سے انسانیت کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ ہمارے پاس عمل کیلئے جنگل کا قانون ہے اور اپنی جبلتیں ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ اور تجربہ حاصل ہونے کے بعد ہم اس اتفاق رائے ،اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وسائل کی اس کمیابی کے پیش نظر ہمیں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے کچھ اور ضابطوں کی بھی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیں وہ ضابطے فراہم کرتی ہے جن کوہم یونیورسل (آفاقی عا لمگیر)کہتے ہیں یہ ضابطے اس طرح کے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو یا ہمیشہ سچ بولو، چوری نہ کرو، دوسرں کو تکلیف مت دو/ قتل نہ کرو۔ دیانتداری سے کام لو، انصاف سے کام لو۔ان میں سے کچھ ضابطے مثلاً چوری ، قتل انسانی معاشرے کے لیے اس قدر نا گزیر تھے کہ انکو قانون کا درجہ دے دیا گیا اور ان کی خلاف ورزی پر سزا مقرر کر دی گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون اخلاقیات کی ہی ایک شکل ہے اور اسے کسی بھی صورت میں اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ قانون اخلاقی اصولوں کو مضبوط بناتا ہے اور اسے کبھی بھی اخلاقی اصولوں کو کمزور نہیں کرنا چاہیے اور نہ انکی نفی کرنا چاہیے ۔

گو فطری طور پر کوئی بھی ان اصو لوں کی سچائی کو نہیں جھٹلاتا مگر عملاً کبھی چھوٹے اور کبھی بڑے پیمانے پر ان اصولوں سے ہمیشہ رو گردانی کی گئی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے انسانی تہذیب کے سنہری ادوار وہ تھے جب ان اصولوں کی نفی کا رجحان زوال پذیر تھا انسانی معاشرے اسی طرح بکھر کر تاریخ کی گرد کا حصہ بنتے رہے۔ مگر نفع یا نقصان عام لوگوں کے حصے میں آیا جو زمانے کی گرمی سردی دونوں کو برداشت کرتے رہے اصل میں عام لوگ ہی تھے جو فائدے میں رہے یا نقصان میں ۔ ان اصولوں سے رو گردانی کی نوعیت بھی انسانی معاشرے کے وجود کیلئے بڑی اہم ہے یہ کسی قوم کی روح کے زوال ، اس کی پستی اور تباہی کی رفتار کا تعین کرتی ہے ذاتی اور انفرادی سطح پر ہم سب طرح طرح کی ترغیبات کا شکار ہو سکتے ہیں جو ہمیں اس اصولوں سے رو گردانی پر مجبور کر سکتی ہیں یا رو گردانی کی طرف مائل کر سکتی ہیں لیکن اگر کوئی ان اصولوں کو کمٹ منٹ کیساتھ پامال کرتا ہے تو یہ واقعی بڑی سنجیدہ بات ہے اور یہ معمول کی رو گردانی نہیں اس پر توجہ دی جانی چاہیے اس پر بحث ہونی چاہیے اور اسے جھٹلانا چاہیے اور جس قدر ہو سکے مستعدی کے ساتھ ایسے شخص کو جبری حراست میں لے لینا چاہیے قوم یا معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو بچانا اہم ہے ۔ اس آرٹیکل کا مقصد آج پاکستانی قوم اور معاشرے کو درپیش اسی بحران کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔ اپنی ساٹھ سالہ تاریخ میں ہم نے افراد ، برادریوں ، سیاسی اور مذہبی پارٹیوں اور حکومتی اہلکاروں کے ہاتھوں ان اصولوں کو مختلف طریقوں سے پامال ہو تے دیکھا ہے مگر اس حوالے سے موجودہ دور منفرد حیثیت کا حا مل ہے ایک سیاسی جماعت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی ۔ اوپر سے لیکر نیچے تک اس کی ساری قیادت، اس کے ایم این ایز اس کے ایم پی ایز اس کے ممبران اور اس کے حامیوں نے سب نےغالباً بغیر کسی استشناء کے سب نے ان اصولوں کو کمٹ منٹ کیساتھ پامال کرنے کووطیرہ بنا لیا ہے کیا وہ لوگ جو باا لوا سطہ یا بلا واسطہ طور پر کسی نہ کسی طرح پیپلز پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں سب کے سب اخلاق یافتہ لوگ ہیں وہ اس سے بڑھ کر ہیں وہ سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے بد کردار ہیں ۔ یہ سب لوگ دانستہ جان بوجھ کر ارادتاً کچھ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کچھ سیاسی ذرائع کو جائز سمجھنے کے عمل کا دفاع کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ اخلاقی اصولوں کی قیمت پر ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف اخلاقی طور پر بدکردار لوگ ہیں بلکہ وہ سیاسی طور پر بھی بدکردار ہیں اس میں شک نہیں کہ انہوں نے سیاست کو اوپر سے نیچے تک ایک غیر اخلاقی کھیل بنا دیا ہے ۔ دراصل زرداری کا میڈیا اور قوم کے سامنے 2نومبر2007کو نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کیساتھ عدلیہ کی بحالی کا معاہدہ کرنا اور پھر کہنا کہ یہ تو ایک سیاسی بیان تھا۔ اس طرح اس کا لکھے ہوئے لفظوں پاکستان مسلم لیگ (ن) وکلاء اور پوری قوم کو دھوکہ دینا ان قدر بے غیرتی بھرا عمل تھا کہ انہیں کھلے عام اسے ماننا پڑا صدارتی الیکشن والے فیصلہ کن اور (یعنی 6ستمبر) سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک ایم این اے اورپی پی کی راہنما مس نفیسہ شاہ نے ایک قومی انگریزی روزنامے میں ایک مضمون لکھا وہ لکھتی ہیں "سیاست اور اخلاقیات دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں سیاست نہ تو مذہب اور نہ ہی اخلاقی ضابطہ یہ ا قتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا علم اور فن ہے یہ مشترکہ کاز کیلئے اتحاد بنانے اور توڑنے کا سسٹم ہے۔ "

کیا خوب کہا اور کیا خوب اعتراف کیا ہے۔شاباش کہ اس نے سچ بولا اور کم از کم اس بارے میں پیپلز پارٹی جھوٹ نہیں بول رہی ۔ مگر کون جانے کسی اور فیصلہ کن روز پی پی کی قیادت کی طرف سے کوئی اور آرٹیکل شائع ہو جو ایک بار پھر وضاحت کرے کہ مس نفیسہ شاہ کا اعتراف محض ایک سیاسی بیان تھا۔ مانا جناب کہ سیاست اور اخلاقیات الگ الگ چیزیں ہیں پرانے وقتوں میں ، بوتان کے ایک جزیرے کریٹے میں ایک کرٹین رہا کرتا تھا اس کا نام ایپی منڈیز تھا اور اس کا دعوٰی تھا کہ کریٹ کے رہنے والے تمام انسان جھوٹے ہیں اورچونکہ وہ خود بھی ایک کرٹین تھا لہذاوہ اس بات کو نہ جھٹلا سکا کہ وہ خود بھی جھوٹا ہے اس کا انجام کیا ہوا یہ بات اہم نہیں مگر اس نے ہمیں ایک پیراڈرکس دی جسے جھوٹے کی پیراڈاکس کہتے ہیں یہ پیراڈاکس چیزوں کو پرکھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہر چیز کو الٹ پلٹ دیا ہے یا ہر چیز کو گڈمڈ کر دیا ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انکشاف کیا : ایک ماہ کے اندر آپکو کشمیر کے بارے میں خوشخبری سننے کو ملے گی، تمام کرٹین (یعنی کرٹین کے رہنے والوں )نے اس پر یقین کرلیا اور تمام کرٹین یہ معمہ حاصل کرنے میں مصروف ہو گئے کہ وہ خوشخبری کیا ہو گی ۔ مگر یہاں ہم سے غلطی ہو گئی ہم کرٹین کے رہنے والے نہیں اسی لئے ہم نے اس پر یقین کر لیا اور اس خوشخبری کا اندازہ لگانے ، اس کے متعلق بات کرنے اور اس پر لکھنے میں اتنا وقت ضائع کر دیا ۔میرے خیال میں اب ہمیں پیپلزپارٹی کی کسی بھی بات پر یقین کر تے ہوئے بہت زیادہ محتاط رہنا ہو گا ۔ پیپلز پارٹی لوگوں کیلئے نان ایشو کی سیاست کر رہی ہے جبکہ اسکی اصل سیاست کے مقاصد کچھ اور ہیں ایک بار پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں مس شاہ لکھتی ہیں اور میں اسے دہراتا ہوں کہ سیاست اقتدار تک پہچنے اسے حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا علم اور فن ہے۔ اس سے قبل میں نے اس نکتے پر زور دیا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ بات ہے اور اگر ہم اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے میکاولی اور چانکیہ کی جانب نہ جائیں تو بھی یہ بات سنجیدہ ہے۔ اگر سیاست اقتدار تک پہچنے اسے حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کا علم اور فن ہے تو پھر میجر جنرل سکندر مرزا، فیلڈمارشل ایوب خاں، جنرل محمد یحییٰ خاں، جنرل ضیاء ا لحق اور پیپلز پارٹی کے محبوب جنرل پرویز مشرف کی کیا غلطی تھی ۔ یقینا ان غاصبوں کی کوئی غلطی نہیں تھی اور مستقبل کے تمام غاصبوں کے لئے خوشخبری ہے کہ آئندہ بھی ان کے ٹیک اورز غلط نہیں ہونگے۔ ان کو دعوت عام ہے کہ وہ عوامی حکومتوں کا تختہ الٹیں اور عشروں بلکہ صدیوں تک اس ملک پرحکمرانی کریں جب تک وہ اقتدار بچانے کیلئے خود کوئی غلطی نہیں کر بیٹھتے۔

ہم عام لوگ لکھے ہوئے بلکہ دوسرے وعدوں پر یقین کرتے ہیں اور وعدے کرنے سے زیادہ ان کا احترام کرنے پر یقین کرتے ہیں میرے دل میں پی پی کی اس ایم این اے کے بارے میں ایک نرم گوشہ ہے کیونکہ انہوں نے اپنا اقبالی بیان تحریر کیا ہے یہ بیک وقت سچائی اور جھوٹ کا اعتراف ہے ہو سکتا ہے کہ پھر بھی معزول ججوں کی بحالی معاہدے جیسی ہو اور ایم این اے کا مطلب کچھ اور ہو اور وہ پوری بات نہ کہہ سکی ہوں پر اندازہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتی تھیں کہ سیاست اس ملک کے قوانین کے تحت اقتدار تک پہچنے اسے حاصل کرنے اوراسے اپنے پاس رکھنے کا علم اورفن ہے مگر اس رعائت کے باوجود پی پی کو اقتدار کیلئے تمام اخلاقی اصولوں کو پامال کر نے کے "جرم "کے الزام سے نہیں بچایا جا سکتا۔

بلکہ اس سے مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے اور پیپلزپارٹی اس دلدل میں اور گہری دھنس جاتی ہے ۔ تصّور کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اقتدار کے ملکی اور غیر ملکی دلالوں سے انڈر ہینڈ ڈیل کیے بغیر اقتدار تک پہنچی ہے اور یہ کہ صدارتی الیکشن شفاف اور منصفانہ تھے مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ اس نے آصف زرداری کو صدر بنایا ہے پاکستانی آئین کو اس کی شہرت اور ساکھ کے حوالے سے تحفظات ہیں تاہم اس نہ ختم ہونے والی بحث سے قطع نظر ،اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے خلوص کا امتحان تھا کہ اگروہ آئین کوملک کا بنیادی قانون سمجھتی تو اسے عدلیہ کی بحالی کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کسی معاہدے پر د ستخط کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور اسے چاہیے تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی خیر سگالی کے طور پر معزول کردہ ججوں کو بحال کردیتی جسے ایک آمر نے غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیراخلاقی طور پر گھر بھجوا دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ بھی چاہیے تھا کہ وہ آئین کو اس کی اصلی حالت میں بحال کر دیتی آمروں نے جسکا حلیہ بگاڑ دیا ہے یا کم از کم سترھویں ترمیم ہی ختم کر دیتی مسٹر زرداری کے پاکستان کا صدر بنتے ہی پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ وہ وزیر ا عظم کے اختیارات بحال کر دیتی جن کو ڈکٹیٹر صدروں نے زبردستی اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

مگر اس طرح کا کوئی کام نہ ہوا اور نہ ہی ایسا ہونے کا امکان ہے۔اس کی بجائے صورتحال یہ ہے کہ سات ماہ گزر جانے کے بعد بھی آج پیپلز پارٹی اپنی پالیسی اور اپنے اقدامات کو درست ثابت کرنےکی سرتوڑ کو شش کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک عام حامی سے لیکراعلیٰ قیادت تک، ایک ان پڑھ جیالے سے لیکر سب سے پڑھے لکھے جیالے تک ، پیپلز پارٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے شخص سے لیکر مخدوم امین فہیم اور رضا ربانی جیسے تجربہ کار سیاستدانوں تک ، میں کوئی ایک بھی آواز ایسی نہیں جو کہے کہ معاہدے سیاسی بیان نہیں ہوتے اور یہ کہ وعدے اور معاہدے توڑنا درست نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ساز اختلاف کا نغمہ نہیں الاپ رہا حتیٰ کہ وہ جیالے بھی جنکی تربیت فلسفے میں ہے، اپنی تربیت کے بادجود گلا پھاڑ کر اپنی قیادت کی غیر آئینی اور غیر اخلاقی پالیسیوں اور اقدامات کا دفاع کر رہے ہیں ۔ ان حالات میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی ایک شعور سے مکمل طور پر عاری ہو چکی ہے پیپلز پارٹی میں موجود کسی بھی شخص میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں وہ اپنی قیادت کو چلنج کر سکے اس کی بجائے یہ سب اپنی قیادت کے ہر قول و فعل کے دفاع کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اس سب کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی کے ساتھ وفاداری نے ان کی اخلاقیات کو ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ بڑی خطرناک بات ہے کیونکہ اس کا نتیجہ سول سٹرائف اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلتا ہے اور نکل آیا ہے۔ فرد کی اپنی پارٹی کے ساتھ وابستگی ،پارٹی کی آئیڈیالوجی کیساتھ وفاداری ، اور اپنی قیادت کی تابع فرمانی ضمنی باتیں ہیں اور انکو انکے جائز مقام پر رکھنا چاہیے اور ان کو عالمگیر اخلاقی قوانین ،ملکی قوانین یا آئین کی جگہ نہیں دی جانی چاہیے اگر کوئی پار ٹی ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو یا ایسے اقدامات کر رہی ہو جو ملکی آئین و قانون کو نقصان پہنچا رہے ہوں یا اس کی پالیسیاں اور اقدامات اخلاقی ضابطوں کے خلاف ہوں تو کیا اس شخص کو ایسی پارٹی کا وفادار رہنا چاہیے؟

پیپلز پارٹی اس سے بڑی آگے بڑھ رہی ہے۔ میں پیپلز پارٹی میں شامل اور اس کی حمائت کرنے والے تمام لوگوں کو شک کا فائدہ دیتاہوں کہ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے غیر آئینی اور غیر اخلاقی پالیسیوں اور اقدامات کی حمائت کرنے سے انکار کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ پار ٹی کے ساتھ ان کی وفاداری ہے انہیں مجبور اور قائل کرتی ہے کہ پارٹی اور اس قیادت کا دفاع کریں۔

اخلاقیات کے خلاف اپنی جنگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی عد لیہ کی آزادی ، قانون کی حکمرانی ، اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ جیسی عالمگیر سچائیوں کے انکار پر بھی تلی ہوئی ہے۔یہ دانستہ آئین کی تضحیک کر رہی ہے تو پھر جمہوریت کیا ہے جسکے لیے پیپلز پارٹی اپنے قیام سے لیکر جدوجہد کر رہی ہے کیا یہ جد وجہد صرف ایک ایسی پارٹی کے اقتدار کیلئے ہے جو پہلے سے طے شدہ اصولوں کے برخلاف ہر چیز کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہے خواہ وہ اخلاقی اصول ہوں ، قانون ہو یا ملکی آئین، وہ سب کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار چاہتی ہے اور پھر ان سب چیزوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے کیا پیپلز پارٹی کیلئے جمہوریت کا مطلب اپنی پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ ہے کیا جو کچھ بھی پیپلز پارٹی اسکی قیادت اور اسکے حامیوں کے ناک کے نیچے ہو رہا ہے وہ ملک کو طوائف اطلوکی کی طرف نہیں لے جا رہا ۔ کیا پیپلز پارٹی سیاسی اخلاقیات سے محروم گونگے بہرے سیاستدان پیدا کرنے میں مصروف ہے جو ذہن اور شعور سے عاری ہیں اور جو پارٹی قیادت کے بے ضمیر غلام ہیں اگر ایسا ہے تو پھر یقینا ہم ایک بہت بڑے سیاسی اور اخلاقی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔


http://i316.photobucket.com/albums/mm331/Sylviana01/th2v01z77.gif

علی عمران
12-24-2010, 12:11 AM
واہ بہت خوب سقراط ایک معلوماتی مضمون ہے................شئیرنگ کے لئے شکریہ