PDA

View Full Version : امریکی صدر اوبامہ، دال قیمہ اوردہشتگردی



سید انور محمود
01-25-2015, 07:28 PM
تاریخ: 25 جنوری ، 2015


1695
امریکی صدر اوبامہ، دال قیمہ اوردہشتگردی
تحریر: سید انور محمود
کیا وجہ ہے کہ امریکی صدر براک اوبامہ بھارت کے سفر کے دوران پاکستان نہیں آینگے، اصل میں وہ تو آنا چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان جاوں اورجاکر دال اور قیمہ کھاکر آوں، لیکن اُنکی بیگم پاکستان سے بہت ناراض ہیں کیونکہ اکتوبر 2013ء میں اپنے دورہ امریکہ میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی امریکی صدر براک اوبامہ سے ملاقات ویسے تو کئی حوالوں سے اہم تھی مگر اس ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں دونوں سربراہان کی پریس سے گفتگو میں کافی دلچسپ باتیں موجود تھیں۔ امریکی صدر اوبامہ نے اپنی ساری بات زبانی کہہ ڈالی جبکہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ایک کاغذ پر اپنے نوٹس لکھ کر لائے تھے اور انہیں پڑھ کر ہی بات کرتے رہے اور ایک مقام پر کاغذ پلٹتے پلٹتے وہ مسز اوبامہ کو مسٹر اوبامہ کہہ گئے مگر جلد ہی انہوں نے اپنی غلطی درست کی، اور صدر اوبامہ کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو اور مسز اوبامہ کو پاکستان میں خوش آمدید کہنے کا منتظر ہوں، قیمہ اور دال آپ کے منتظررہیں گے۔ مگر لگتا ہے کہ ابھی تک مسز اوبامہ پاکستان سے ناراض ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بھارت جاتے ہوئے یا واپس امریکہ جاتے ہوئے چند گھنٹوں کےلیے بھی پاکستان آنے کو تیار نہیں۔ خیر چلیں اس مذاق کی بات کو چھوڑ دیں تب بھی امریکہ کا پاکستان کے ساتھ گذشتہ سڑسٹھ سال سے یہ ہی رویہ رہا ہے کہ جب پاکستان کی ضرورت پڑی پاکستان کو ایک اچھا دوست کہہ دیا، مقصد پورا ہوا تو فورا ہم کون اور تم کون کا فارمولا لگادیا۔

امریکہ نے ہندوستان کے خلاف کبھی بھی کھل کر پاکستان کی سفارتی حمایت نہیں کی۔ پاکستان کے حکمرانوں سے امریکہ نے ہمیشہ ایک مغرور آقا جیسا سلوک ہی روا رکھا۔ امریکی حکمرانوں کے مسلسل ہتک آمیز رویے کے باعث پاکستان نے چین سے تعلقات بڑھانے شروع کئے لیکن پاکستان پر امریکہ کا سیاسی اور معاشی اثرو رسوخ غالب رہا۔ ایوب خان سے لیکر آج نواز شریف تک ماسوائے ذوالفقار علی بھٹو کے کسی پاکستانی حکمران کی اتنی ہمت نہیں کہ امریکی پالیسی سے اختلاف کرسکیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے۔ بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ضیاء الحق کی زیر نگرانی شروع کئے گئے ’’آپریشن فئیر پلے‘‘ کو سی آئی اے کی آشیر آباد حاصل تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانے کےلیے ضیاء الحق سے کام لیا گیا اور پھر تھوڑئے عرصے بعد ہی سوویت یونین کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد امریکہ نے اس خطے میں بڑے پیمانے پر مداخلت کا آغاز کیا اور سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا خفیہ آپریشن شروع کیا گیا۔ آج امریکہ جس دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس خطے کو برباد کر رہا ہے وہ اس کی اپنی کاشت کی ہوئی فصل ہے ۔ ضیاء الحق کے دور میں امریکن سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے ملکردہشتگردوں کی تربیت اور مالی امداد کی اور روس کےخلاف ڈالر جہاد برپا کرنے کا عمل جولائی 1979ء میں شروع کیا گیا۔

افغانستان سے سوویت یونین فوجوں کی واپسی اور خاص طور پر 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس خطے میں امریکہ کی دلچسپی کم ہوگئی تھی۔ امریکیوں نے اس طرف توجہ دینا ہی چھوڑ دی تھی اور نام نہادمجاہدین کی امداد بھی بندہوگئی تھی۔ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کا سابق ایجنٹ اسامہ بن لادن افغانستان میں موجود تھا۔ اُس وقت افغانستان میں ملا عمر کی طالبانی حکومت تھی جسکو امریکہ کی رضا مندی سےصرف تین ممالک نے تسلیم کیا ہواتھا یعنی پاکستان، متحدہ عرب عمارات اور سعودی عرب۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ جس نےکہا تھا کہ 9/11 کے واقعہ میں 17 سعودی عرب اور 2 متحدہ عرب عمارت کے باشندئے شامل ہیں سیدھا دوڑا افغانستان کیوں چلا آیا۔ اسکی وجہ اسامہ بن لادن تھا، یہ وہی ارب پتی سعودی اسامہ بن لادن تھا جو امریکہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر سوویت یونین کے خلاف نام نہاد جہاد کرچکا تھا ، لیکن بقول امریکہ اسامہ اور اسکے ساتھی 9/11 کی دہشت گردی کے ماسٹر ماینڈ تھے اور امریکہ اپنے پالتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ واپس افغانستان پہنچ گیا، اور اپنے پرانے نمک خواروں سے وہی توقعہ کرلی کہ وہ پرانی تنخواہ پر ہی کام کرینگے، ایسا نہ ہوسکا۔ امریکہ کے ڈالر کھانے والے مجاہد اب دہشتگرد درندئے بن چکے ہیں، اب ان درندئےوں کو سی آئی اے کے علاوہ برطانیہ کی ایم آئی سکس، اسرائیل کی موساد اور انڈیا کی ایجنسی را استمال کررہے ہیں۔ گذشتہ تیرہ سال سے امریکہ نے صرف ایک سبق یاد کیا ہوا کہ‘پاکستان ڈو مور’ جس کا مطلب سیدھا سیدھا یہ ہوتا ہے کہ پاکستان امریکی مفادات کی مزید نگرانی کرئے، اس ‘ڈو مور’ کے بدلے میں امریکہ ہماری امداد کرتا ہے، اور ہمارئے میڈیا پر یہ ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم، صحت، کے علاوہ ہر اُس کام میں جس میں عام آدمی کو کچھ فاہدہ ہو سب امریکی امداد کی مرہون منت ہے جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس پرسکون ملک میں جہاں اب سکون کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا ہے، دہشتگردی کی وجہ سے 56 ہزار سے زائد پاکستانی بےگناہ شہید ہوچکے ہیں، معاشی طور پر ابتک پاکستان 103 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھاچکا ہے، اور امریکہ کو پھر بھی شکوہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔

بھارت یاترا پرجانے والے امریکی صدر براک اوبامہ نے ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت امریکہ تعلقات کے نئے دور اور پاکستان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔اس بات چیت میں انہوں نے بھارت کو امریکہ کا حقیقی گلوبل پارٹنر قرار دیتے ہوئے اگرچہ یہ تسلیم کیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے لیکن ساتھ ساتھ پاکستان سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ صدر اوبامہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوسکتے کہ دہشتگردی کے خلاف پچھلے کئی ماہ سے پوری پاکستانی قوم کی حمایت سے کسی امتیاز کے بغیر تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف پاکستانی فوج فیصلہ کن آپریشن کررہی ہے۔ جماعت الدعوہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی اقدامات عمل میں لائے جاچکے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی ان تمام کوششوں کے باوجود ’’ڈو مور‘‘ والی امریکی رٹ ختم نہیں ہورہی ہے۔

اسی امریکی رویے کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے تعالقات میں بہتری نہیں ہورہی ہے۔ بھارتی کانگریس جماعت کے رکن پارلیمنٹ مانی شنکر آئیرکا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے، پاکستانی ہر روز 26/11 کی صورتحال سے دوچار ہیں، پاکستانی گھر سے نکلتے ہوئے خوفزدہ ہیں کہ وہ زندہ واپس آئیں گے یا نہیں۔ انہوں نے ممبئی حملوں کا پاکستان میں دہشتگرد واقعات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 26 نومبر جیسا ایک واقعہ دیکھا جبکہ پاکستانی روزانہ ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں۔ 24، 25 یا 26 سال کی کوئی بھی تاریخ پاکستانیوں کی زندگی کیلئے رسک ہے، پاکستانی مارکیٹ یا مسجد جاتے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ نہیں جانتے کہ وہ زندہ واپس آئیں گے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان دہشتگردی کا ذریعہ ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہی دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ مانی شنکر آئیر نے امریکا پر الزام لگایا کہ پاک بھارت تعلقات خراب کرنے میں اس کا ہاتھ ہے اور وہی دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

امریکی صدربراک اوبامہ نے بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک لمحے کےلیے بھی نہیں سوچا کہ وہ بھارتی حکمرانوں کو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی طرف توجہ دلاتے، وہ بھارت کے غیر منصفانہ رویے اور کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر آئے دن اشتعال انگیز کارروائیاں کرکے پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری فیصلہ کن آپریشن کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے پر اظہار کرتے۔ جنوبی ایشیائی امور کے بعض امریکی ماہرین بھارت کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ان کا مشورہ ہے بھارت کو خطے کی بالادست طاقت بناکر پاکستان کو برابری کے مرتبے سے نیچے لانے کی حکمت عملی اگر کہیں زیر غور ہے تو یہ حقیقت پسندی کے سراسر منافی ہے۔ ابھی کچھ روز قبل ہی امریکی پاکستان کو یقین دلارہے تھے کہ امریکہ بھارت تعلقات پاکستان کے مفادات کی قیمت پر استوار نہیں کیے جارہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوش حالی کے لیے تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداروں کے مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔

کوئی ایک ماہ پیشتر امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کو ٹیلی فون کر کے انھیں اپنے مجوزہ دورۂ بھارت کے بارے میں بتایا، اس موقعہ پر وزیراعظم نواز شریف نے صدر اوبامہ کو پاکستان کے دورئے کی دعوت دی، مگر افسوس جواب میں صدر اوبامہ نے یہ یقین دہانی کروائی کے جیسے ہی ملک میں صورت حال معمول پر آئے گی وہ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔ امریکہ کا ’گیارہ ستمبر‘ ہو، بھارت کا ’چھبیس نومبر‘ہویا پاکستان کا’ سولہ دسمبر ‘ ہو تمام واقعات ہی افسوسناک ہیں، اور ہم پاکستانی ان واقعات کی بھرپور طریقے سے مذمت کرتے ہیں لیکن سانحہ پشاور ایک ایسا واقعہ ہے جس کا سوچکر ہر صاحب اولاد کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ امریکی صدر کو کم از کم اُن معصوم 132بچوں کی شہادت کاخیال رکھتے ہوئے اُن بچوں کی تعزیت کےلیے چند گھنٹوں کےلیے پاکستان آنا چاہیے تھا۔ افسوس نہ تو سیاست کے سینے میں دل ہوتا اور نہ ہی اس وقت امریکہ کو پاکستان سے کوئی فائدہ اٹھانا ہے، دورہ بھارت سے امریکہ کو ایک بڑی تجارتی منڈی ملنے کا امکان ہے، علاقے کی سیاست میں اثروروسوخ بڑھے گا، کم از کم ہمارئے سیاستدانوں کو اس سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر اوبامہ نے ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران علاقے میں دہشتگردی پر قابو پانے، امن اور استحکام کو بڑھانےاور خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ لیکن ایک بات امریکی صدر کو لازمی معلوم ہوگی کہ اس خطے میں دہشتگردی کا ذمہ دارخود امریکہ ہے۔