اب نہ فرصت ہے نہ احساس ہے غم سے اپنے
ورنہ ہم روز ہی ملتے تھے صنم سے اپنے

دل نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں
لاکھ گمراہ ہوئے نقش۔ قدم سے اپنے

جی چکے جو ہم یہی شوق کی رسوائی...