اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب

صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب


زینت ازل کی ہے تو ہے رونق ابد کی تو

دونوں میں جلوہ ریز ہے تیرا ہی رنگ و آب