اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا
مَیں جیسا بے خبر آیا تھا، بے خبر جاتا

ابھی کہیں نہ کہیں صدق بھی ہے، عدل بھی ہے
میں ورنہ خیر کے اثبات سے مُکر جاتا

فضائے تیرہ سے مانوس تھی نگاہ میری
فلک سے...