برگ و بر ہیں دیکھ رکھے، گل ستاں دیکھا ہوا
چاند، سورج، کہکشائیں، آسماں دیکھا ہوا
دیکھا ہے جب سے تمہیں، لگتا ہے کچھ دیکھا نہیں
زُعم تھا مجھ کو کہ ہے سارا، جہاں دیکھا ہوا
تم مجھے حیران بھی کر سکتے...