ے سی آئی اے کی عالمی سرگرمیوں اور شرمناک جاسوسیوں کا راز فاش کر کے پوری دنیا میں ہلچل مچا دیاہے۔اس ویب سائٹ نے امریکہ کی خفیہ فائلوں تک رسائی حاصل کرکے اسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس سے امریکی سربراہوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔لوہالوہے کوکاٹتاہے کہ مصداق امریکہ نے دنیا میں دہشت گردی کا جو جال پھیلایا ہے اور ساری دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنے کا خواب دیکھا ہے وہ بکھرتانظرآرہا ہے اورساری دنیا کی نگاہوںمیں یہ سوپر پاور ننگاہو رہا ہے اوراس کے حلیفوں کے اعتمادکومتزلزل کرنے والاہے۔اس ویب سائٹ نے پہلے توافغانستان اوعراق میں چل رہی امریکہ کی گہری سازشوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا اورممبئی حملہ میں سی آئی اے کے ہاتھ ہونے کی خبر دی۔اس کے ساتھ اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ہی پاکستان اور ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کرارہی ہے۔اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق میمونام کے اس خفیہ دستاویزسے ثابت ہوگیا ہے کہ سی آئی اے پاکستان،ہندوستان اور دیگر ملکوں میں دہشت گردی اور دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہے۔رپورٹ میںمزیدکہا گیا ہے کہ سی آئی اے القاعدہ کوامریکہ پرحملہ کرنے اور دہشت گردوں کو اپنے ساتھ ملانے کا موقع فراہم کرر ہی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونا امریکی شہری ڈیوڈہیڈلی کی گرفتاری اوراس کے بیانات سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ امریکہ دیگرممالک میں دہشت گردی کرارہاہے۔جاری دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ امریکہ نہ صرف متعددممالک بلکہ اقوام متحدہ کی بھی جاسوسی میں ملوث رہاہے۔وکی لیکس کے ذریعہ جاری کئے گئے دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکی لیڈروں اورافسروں کی متعددممالک کے رہنماو¿ںکے تعلق سے کتنی گھناو¿نی سوچ رہی ہے حتیٰ کہ حلیف ممالک کے رہنماو¿ں کے خلاف بھی قابل اعتراض ریمارکس کا انکشاف ہواہے۔ان دستاویزات کے انکشاف سے امریکہ کا جوگھناو¿نا چہرہ سامنے آیا ہے اس سے واشنگٹن سمیت دنیابھر میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔
وکی لیکس کے مطابق امریکہ کا دوسرا گھناو¿ناچہرہ بڑا ہی خطرناک اور پُراسرار ہے اور وہ مسلم ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی گھناو¿نی سازش میں بھی ملوث ہے۔مختلف امریکی سفارتخانوں کے ارسال کر دہ انتہائی خفیہ پیغامات کے عام ہونے سے ایک عجیب وغریب صورت حال پیدا ہوگئی ہے ان میں بعض عرب لیڈروں کے مبینہ پیغامات بھی شامل ہیں جن میں سعودی عرب کے حکمراں شاہ عبداللہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں کئی مرتبہ امریکہ پردباو¿ ڈالا کہ وہ ایران پرحملہ کر دے اور اس کے نیوکلیائی تنصیبات کو تباہ کردے۔دوسرے عرب اتحادی ملکوں نے بھی ایران پرفوجی حملے کے لئے خفیہ تحریک چلائی تھی جس کا مقصدایرانی نیوکلیائی پروگرام کو نشانہ بناناتھا۔شاہ عبداللہ اورامریکی جنرل ڈیوڈپیٹریاس کی ایک ملاقات سے متعلق رپورٹ کے حوالے سے سعودی سفیر برائے امریکہ عادل الزبیر نے مبینہ طور پرکہاتھا کہ شاہ عبداللہ چاہتے ہیں کہ امریکہ سانپ کا سرکچل دے۔صدراحمدی نژاد کا موازنہ ہٹلر سے کیاگیا۔وکی لیکس نے سعودی شاہ کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ پاکستان کے صدرآصف زرداری کو پاکستان کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ایک دستاویزمیں ابوظہبی کے ولی عہدمحمد بن زائد نے نواز شریف کوخطرناک قرار دیاتھا۔دستاویزات میں معمر قذافی،حامدکرزئی وغیرہ کے تعلق سے بے ہودہ الزامات لگائے گئے ہیں۔روس اوربرطانیہ کی بعض اہم شخصیات پربھی کیچڑاچھالے گئے ہیں۔وکی لیکس ایک جھوٹ،نفرت،پھوٹ،جاسوسی کی ایک نرالی بدنصیبی اورپنڈوراکی پوٹلی(Pandora|s Box)ہے جس کا منہ کھلتے ہی امریکہ کی سوچ اور کردار کا گھناو¿ناروپ دکھائی دیتاہے۔اس کے ذریعہ امریکہ اور مسلم ممالک کے رشتوں کا اندازہ لگایا جاسکتاہے اور اسکا بھی اندازہ ملتا ہے کہ امریکہ کس طرح مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب، ،ایران ،پاکستان ،افغانستان،عراق،لیبیا اورلبنان کو باہم ایک دوسرے کو بدگمان کرکے نفرت تلخی اور اختلاف کی خلیج چوڑی کرنا چاہتاہے۔لاکھوں خفیہ فائلوں کے اجراءسے بہت سارے طلمساتی رازوںسے پردہ اٹھاہے۔ان میں خاص طور پرسعودی عرب اورایران کے تعلقات کوتلخ بنانے کی کوشش شامل ہے۔سعودی عرب پریہ الزام بھی لگایاگیا ہے کہ وہ القاعدہ کی طرح شدت پسند تنظیموں کے سب سے بڑے مالی سرپرست ہیں۔اسی طرح امریکہ سے منسوب ایک پیغام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خلیجی ریاست قطر کے کردار کو خطے میں بدترین قرار دیاگیاہے۔وکی لیکس نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ امریکہ نے 2008میں مختلف ملکوں میں اپنے سفارت کاروں کو ایسی خفیہ معلومات جمع کرنے کی ہدایت جاری کیں جن سے سفارتی اورجاسوسی فرائض میں فرق غیر واضح ہو کر رہ گیا۔امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے دستاویز کے مطابق سفارت کاروں کو اقوام متحدہ اور دیگر ملکوں میں اہم شخصیات کے کریڈٹ اوربزنس کارڈز کی تفصیلات جمع کرنے،ان کے اوقات کار اور دوسری ضروری معلومات جمع کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔دوسرے لفظوں میں امریکی سفارتخانے جاسوسی کے اڈے بھی ہیں اورملکی قانون اور بین الاقوامی ضابطہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
وکی لیکس کی طرف سے جاری کی جانے والی دستاویزات کا مقصد کیا ہو سکتا ہے اس کے تعلق سے تبصرے اور تاثرات کا انتظار ہے۔جن کے حوالے سے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میںکتنی صداقت ہے اس سلسلے میں پہلا تاثرایران کے صدراحمدی نژاد کا سامنے آیاہے۔ انہوں نے ان دستاویزات کوشرانگیز قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اس کا مقصد ایران اور اسکے پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرناہے لیکن اس قسم کی لچردستاویزات سے تہران اور ریاض یا دوسرے عرب ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات پرکوئی اثرپڑنے والا نہیںہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خفیہ معلومات ہم نہیں سمجھتے کہ خودبخود افشاءہو گئیںبلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قصداً شائع کرائی گئی ہیں۔احمدی نژاد نے کہا کہ وکی لیکس میں شائع ہونے والے تمام سفارتی پیغامات دراصل ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کی معلومات ایران عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات پراثرانداز نہیں ہوگی۔اس سلسلے میں سعودی عرب کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ اے ایف پی نے ایک سعودی سرکاری مشیرکا بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے ان دستاویزات کے عام کرنے کو منفی قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ یہ ممالک کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے میں نقصان دہ ثابت ہوگا۔سچ یہی ہے کہ خصوصی طور پرمسلم ممالک کے درمیان شکوک وشبہات پیدا کرکے ان کو ایک دوسرے کا دشمن بنائے رکھناہے۔
وکی لیکس نے امریکہ کے تعلق سے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں بہت کچھ جھوٹ ہے کچھ سچ ہے۔امریکہ اوراسرائیل یہ وہ دوممالک ہیں جن کا کردارہمیشہ ہی مشکوک اورسازشی رہاہے۔سی آئی اے اور موساد وہ دوبدنام زمانہ تنظیمیں ہیں جو مختلف ممالک میں تشدد،تخریب کاری اور دہشت گردی کو ہوا دیتی رہی ہیں۔ان کا کام ہی مختلف ملکوں کے فرماں رواو¿ں کا تختہ الٹنا،مختلف ممالک میں مارشل لا اورآمریت کو فروغ دینا،ملک کے اندربغاوت اورپھوٹ پیدا کرنا اور عدم استحکام پیداکرناہے۔ادھر خاص منصوبہ کے تحت دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے اوراسلامی دہشت گردی کے حوالے سے مسلم ممالک پرحملے کر کے استعماری قوت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اوران ملکوں کو تاراج کیا جارہاہے۔ایران نظرو ںمیں کھٹکتارہا ہے اس لئے اس کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔اس کے خلاف بھی دہشت گردوں کی مددکاالزام لگایاگیا ‘اندرون ملک پھوٹ ڈال کر امریکہ نواز پٹھوو¿ں کو برسراقتدار لانے کی کوشش کی گئی۔ہر قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں اوراس کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی تدبیر کی گئی جب ان تدبیروں سے کام نہیں بنا تو شیعہ اور سنی کا فتنہ جگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور شیعہ ایران کوعربوں سے بدگمان کرانے اورلڑانے کے لئے عربوں کو گمراہ کیاجارہاہے۔یہ سب اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت اورمقبولیت کے خوف سے اورنسل پرست اورغاصب اسرائیل کے تحفظ کے لئے کیاجارہاہے۔جس طرح امریکہ اوراسرائیل کوہر محاذپراپنی سازشوں میں ناکامی کامنہ دیکھنا پڑرہا ہے وکی لیکس کے اجراءنے فسادی امریکہ کو رسوائے عالم بنادیا۔
٭٭٭