نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

  1. #1
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    میرا بہت بہت زیادہ پسندیدہ کلام۔ جو میرے دل کے انہتائی قریب ہے آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش ہے۔ اپنے قیمتی کمنٹس سے ضرور نوازئیے گا۔ (محمدعاصم رشید)

    سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام
    اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام


    یہی میری بندگی ہے یہی میری پوجا

    ایک کا ساجن مندر میں اور ایک کا پریتم مسجد میں
    اور میں
    سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    پپیہے او پپیہے تو یہ کیوں آنسو بہاتا ہے
    زباں پہ تیری پی پی کس لئے رہ رہ کے آتا ہے
    صدائے درد و غم کیوں دردمندوں کو سناتا ہے
    جو خود ہی جل رہا ہو اور کیوں اس کو جلاتا ہے

    کاٹوں تیری چونچ پپیہا رے دارووں پے لون
    میں پی کی اور پی مورا تو پی کہے ہے کون


    ہر قسمت کے ہاتھ ہیں کس بندھن کی لاج
    میں نے تو من لکھ دیا ساونریا کے نام


    میں پی کی مورت کو پوجوں،
    میں پی کی صورت کو پوجوں
    ہر دم
    پی کے نام کا ہوں میں پجاری
    نام پی کا ہر سانس میں جاری

    ہم اور نہیں کچو کام کے متوارے پی کے نام کے

    سجنی باتی کب لکھوں جو پریتم ہو پردیس
    تن میں من میں پیا بسے بھیجوں کسے سندیس

    ہر ہر میں ہے ہر بسے، ہر ہر کو ہر کی آس
    ہر کو ہر ہر ڈھونڈھ پھری اور ہر ہے مورے پاس


    دین دھرم سب چھوڑ کے میں تو پی کی دھن میں سدھ بدھ کھوئی
    چت جاوں گن پی کے گاوں اور نہیں کوئی دوجا کام

    پریم کے رنگ میں ایسی ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ
    پریم کی مالا جپتے جپتے آپ بنی میں شام

    آ پیا ان نینن میں جو پلک ڈھانپ توہے دوں
    نہ میں دیکھوں غیر کو نہ توہے دیکھن دوں


    پریتم ہم تم ایک ہیں، جو کہن سنن میں دو
    من کو من سے دھو لئے تو دو من کبھو نہ ہو


    پریتم تمرے سنگ ہے اپنا راج سہاگ
    تم نہیں تو کچھو نہیں تم ملے تو جاگے بھاگ

    اوگٹ پوجا پاٹ تجے اور لگا پریم کا روگ
    پریتم کا بس دھیان رہے یہی ہے اپنا جوگ


    ہاتھ چھڑاوت جات ہو، جو نرمل جان کے موہے
    ہردے میں سے جاوت ہو تب میں جانوں توہے

    ہر دم دیکھو مورا پیہروا سدا راہت مورے گھر ماہی
    اندر باہر آپ وہی ہے میں ناہی میں ناہی

    جوگنیا کا بھیس بنا کے پری کو ڈھونڈھن جاوں ری
    نگری نگری دوارے دوارے پی کی شبد سناوں ری
    ترس بھکاری جگ میں ہو کے درشن بچھیا پاوں ری
    تن من ان پر واروں پی کی جوگنیا کہلاوں ری


    پریتم کا کچھ دوش نہیں ہے وہ تو ہے نردوش
    اپنے آپ سے باتیں کر کے ہو گئی میں بدنام

    پریم پیالہ جب سے پیا ہے جی کا ہے یہ حال
    انگاروں پہ نیند آ جائے کانٹوں پر آرام


    جیون کا سنگھار ہے پریتم، مانگ کا ہے سندور
    پریتم کی نظروں سے گر کر جینا ہے کس کام

    اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام
    سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    آخری ادارت منجانب محمدانوش : 03-30-2015 وقت 03:53 PM
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے محمدانوش کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (03-31-2015)

  3. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,879
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    جواب: سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    زبردست
    ہارٹ ٹچنگ
    واہ ہ ہ ہ ہ
    شکریہ انوش بھائی اپنا انتخاب ہم سے شیئر کرنے کے لیے



  4. #3
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    جواب: سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

    تیرا فیر شکریہ لاڈو
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University